امام علی ؑ نے ارشاد فرمایا:
لَا تَظْلِمْ کَمَا لَا تُحِبُّ اَنْ تُظْلَمَ۔ (وصیت 31)
جس طرح چاہتے ہو کہ تم پر زیادتی نہ ہو یونہی دوسروں پر بھی زیادتی نہ کرو۔
انسانیت کی ہدایت کے لیے امیرالمؤمنینؑ نے اپنے فرزند کے ذریعہ اس وصیت نامہ میں جو اصول بیان فرمائے ان میں یہ حصہ بہت مہم ہے۔آپؑ نے فرمایا اپنے اور دوسرے کے درمیان ہر معاملہ میں اپنی ذات کو میزان قرار دیں۔جس طرح آپ چاہتے ہیں کہ تم پر زیادتی نہ ہو یونہی دوسروں پر بھی زیادتی نہ کریں۔جس طرح چاہتے ہیں کہ دوسرے تم سے اچھا برتاؤ کریں اور حسن سلوک سے پیش آئیں،آپ بھی دوسروں سے اچھا برتاؤ کریں اور حسں سلوک سے پیش آئیں۔ دوسروں میں جس چیز کو بُرا سمجھتے ہیں تم میں وہی چیز پائی جاتی ہو تو اسے خود میں بھی بُرا سمجھیں اور لوگوں سے جیسا برتاؤ کرتے ہیں اسی قسم کے رویے کی ان سے توقع رکھیں ۔ دوسروں کے لیے وہ بات نہ کہیں جو اپنے لیے سننا گوارا نہیں کرتے۔
یہ وہ اصول ہیں جو انسان کو دوسروں کے اعمال کے حساب کتاب کے بجائے اپنے عمل و کردار کے دیکھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ان فرامین سے واضح ہوتا ہے کہ ہم جیسا کریں گے ویسا ہی ہم سے ہوگا اور ہم جیسے کردار کی دوسروں سے امید رکھتے ہیں دوسرے بھی ہم سے ویسی ہی توقع رکھتے ہوں گے ۔ یہ اصول حقیقت میں دوسروں کے سنوارنے کے لیے ہیں مگر یہ سنوارنا خود سے شروع کریں گے۔












