مقبوضہ بیت المقدس نے مئی سنہ 2026ء کے بارے میں اپنی ماہانہ رپورٹ میں تین شہداء کے مرتبۂ شہادت پر فائز ہونے اور 7244 یہودی آباد کاروں کی جانب سے مسجد اقصی پر دھاوے بولنے کی دستاویز تیار کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہر میں ایک نیا مسخ شدہ متبادل نظام نافذ کرنے اور اس پر استعماری تسلط کو مضبوط بنانے کی پالیسی کے تحت 101 گرفتاریوں، بے دخلی کے 67 سے زائد فیصلوں اور مسماری و بلڈوزنگ کی 84 کارروائیوں کا اندراج بھی کیا گیا ہے۔
جب مسجد اقصی کے صحنوں میں وہی مناظر بار بار دہرائے جاتے ہیں جہاں بھاری ہتھیاروں سے لیس قابض صہیونی افواج، سکیورٹی کی چھتر چھایہ میں داخل ہونے والے یہودی آباد کار، نماز پڑھنے والوں پر سخت پابندیاں اور دھماکہ خیز صورتحال کی طرف دھکیلا جاتا ہوا پورا شہر نظر آئے۔تو یہ سوال کہ مسجد اقصی میں بار بار دراندازی کیوں ہوتی ہے، محض ایک اخباری استفسار نہیں بلکہ ایک خالص سیاسی سوال بن جاتا ہے۔ یہ معاملہ الگ الگ واقعات یا عارضی سکیورٹی ردعمل کا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک بتدریج اور دانستہ قابض اسرائیلی پالیسی ہے جس کا مقصد اس جگہ، اس کی شناخت، خود مختاری اور رائے عامہ کے شعور کو بیک وقت نشانہ بنانا ہے۔












