وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں شیعہ ہزارہ ٹارگٹ کلنگ کے خلاف ڈی چوک اسلام آباد میں مجلس وحدت مسلمین اور آئی ایس او کا دھرنا دوسرے روز بھی جاری رہا۔دھرنے میں ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی، صوبائی اور ضلعی رہنماو¿ں کے علاوہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کر کے اظہار یکجہتی کیا۔ مختلف مذہبی جماعتوں کے وفود نے سانحہ مچھ کو ظلم وبربرہت کی بدترین مثال قرار دیتے ہوئے ذمہ داران کی فوری گرفتاری کو ریاستی فرض قرار دیا۔
دھرنے میں شرکت کرنے والی مختلف شخصیات نے ورثاء کے موقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شہداءکے ورثا کی داد رسی کے لیے وزیر اعظم کو فوری طور پر کوئٹہ جانا چاہئے۔شیعہ علما کونسل کے وفد نے علامہ عارف واحدی کی قیادت میں دھرنے میں شرکت کی اور کہا کہ بلوچستان میں ہزارہ قبیلہ پر ہی وار نہیں کیا گیا بلکہ پوری قوم کے دل زخمی کیے گئے ہیں۔


انہوں نے کہا کہ یہ وقت تنظیمی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر قوم کے لیے ایک ہونے کا ہے۔
مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے شرکائے دھرنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنی قوم کے حقوق کے لیے ہماری جدوجہد آخری سانس تک جاری رہے گی۔بلوچستان میں ہمارے لوگوں کے ساتھ وحشت و بربریت کا جو کھیل کھیلا گیا وہ ناقابل معافی ہے۔ریاست کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب تک شہداءکے ورثا کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے ہمارے احتجاج میں کمی نہیں بلکہ دن بدن شدت آئے گی۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس مسئلے کو طوالت دے کر مزید پیچیدہ نہ کرے۔بلوچستان کے باسی خون کو منجمند کرنے والی شدید سردی میں احتجاج کر رہے ہیں جن میں بچے بزرگ اور خواتین بھی شامل ہیں۔موسم کی شدت سے اگر خدانخواستہ کسی انسانی جان کو نقصان پہنچا تو اس کا گناہ ان حکمرانوں کے سر ہو گا جو بے حسی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔















Hum haq k sath him hum shuhada k lawhikeen k sath hin hum qatlon ki pur zor muzammat kerty hin