تحریر:محمد حسن جمالی
پاکستان کی سرزمین پر انسان کے خون کی اہمیت آئے روز کم ہوتی جارہی ہے-انسان نما درندے مختلف بہانوں سے انسانیت پر حملہ آور ہورہے ہیں،انہوں نے اسلام کے نام پر معرض وجود میں آئی ہوئی مملکت میں سب سے ذیادہ مذہبی تعصب کی جنونیت میں بے شمار مظلوم مسلمانوں کی جان مال اور آبرو سے کھیل کھیلا ہے-
طالبان داعش سمیت سلفی تکفیری ٹولےنے پاکستان کی سرزمین کو لاتعداد بے گناہوں کے خون سے رنگین کردیا ہے-جب ملک کے طول وعرض میں دہشتگردی وسیع پیمانے پر پھیلنا شروع ہوگئی تو پاکستان کا حقیقی محافظ فوج کا ادارہ متحرک ہوگیا،وزیرستان سمیت دہشتگردوں کے مرکزی مقامات پرافواج پاکستان نے آپریشن کرکے دہشتگردی کی آگ پر قابو پانےکی کوشش کی گئیں،جس کے نتیجے میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو نقصان ضرور پہنچا مگر مختلف وجوہات کی بناء پر ہماری فوج وطن عزیز پاکستان کو دہشتگردوں کے نجس وجود سے مکمل طور پر پاک کرنے سے ناتواں رہی-
جب دہشتگردوں کے مراکز کی کمر رد الفساد اور ضرب عصب آپریشن کی وجہ سے ٹوٹنے لگی تو بہت سارے دہشتگرد پراکندہ ہوکر ملک کے مختلف مقامات پر ریاست کی چھتری تلے محفوظ ہوگئے اور اپنے ناپاک عزائم میں سرگرم رہے ،سیاسی لٹیروں کی سفارشات سے وہ پاکستان کے مختلف اداروں میں گھس گئے، جن میں سے بعض نے سیاستدانوں کی صف میں شمولیت اختیار کی تو کچھ فوج کی وردی پہن کر اپنے اہداف کی طرف بڑھتے رہے-
پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں فوجی وردی زیب تن کئے ہوئے طالبانی اور تکفیری فکر کے حامل افراد کو باقاعدہ پلانینگ کے تحت شیعہ کشی کے لئے استعمال کیا گیا-اس کے دور اقتدار میں حکومت کی پشت پناہی کا سہارا لیتے ہوئے تکفیری گروہ نے شیعہ مسلک سے تعلق رکهنے والوں کا قتل عام کیا،یہاں تک کہ محازوں پر دشمنوں سے لڑنے والی فوج سے شیعہ جوانوں کو ہی آگے کرکے مرواتے رہے، جس کی واضح مثال کرگل جنگ میں شیعہ مسلک سے تعلق رکهنے والی آرمی کی بڑی تعداد کا خاتمہ ہے-
سنہ1999ء میں کرگل جنگ شروع ہوئی جس میں پاکستانی آرمی این ایل آئی بٹالین کو فرنٹ لائن پر رکهوایا گیا،یہ
جنگ کمیت،نوعیت اور کیفیت کے اعتبار سے دیگر تمام جنگوں سے مختلف تھی-دیگر جنگوں میں پاکستانی افواج پاکستان کے دفاع کے لئے جنگ لڑتے رہے، لیکن معرکہ کرگل میں پاکستانی افواج نے حملہ کیا تها-اس جنگ میں نواز شریف کے ایماء پر چن چن کر شیعہ آرمی کو انڈیا کے درندوں کا نشانہ بنوایا گیا۔پاکستان آرمی کی ویب سائیٹ ڈیفنس کے مطابق اس معرکہ میں ٣٥٠ این ایل آئی کے جوان شہید ہوئے, جبکہ انڈیا ٹائمز نے ٢٩٠٠ شہادتوں کی خبر دی تهی۔
پاکستان کی سرزمین پر ڈکٹیٹرضیاء الحق نے مذہبی تعصب کی ترویج کی پهر نواز شریف کے دور اور اس کے بعد کے ادوار میں شدت وضعف کی تفریق کے ساتهہ مذہبی شدت پسندی کی جنونیت میں تکفیری ٹولے کی دہشتگردی کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے- حالیہ سانحہ مچهہ بلوجستان بهی اسی سلسلے کی کڑی ہے-کوئٹہ کی ہزارہ شیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے گیارہ کان کنوں کو مچھ بلوچستان میں زبح کرکے ایک بار پهر انسان نما بے رحم سنگدل درندوں نے اپنی وحشت اور بربربریت کا مظاہرہ کیا-دہشتگردوں نے ان مظلوم مقتولین کو باقاعدہ شناخت کرکے اپنی درندگی کا نشانہ بنایا گیا- ہزارہ برادرای دودہائیوں سے تکفیری دہشتگردوں کے نشانے پر ہیں،البتہ پہلے وہ ہزارہ برادری کو گولیوں سے بهون ڈالتے تهے، خود حملوں اور دهماکے کے ذریعے انہیں خون ناحق کے سمندر میں نہلاتے تهے، مگراس دفعہ مچهہ بلوچستان میں گیارہ مقتول کان کن غریب مزدوروں پر گولی چلانے کو ضیاع سمجهتے ہوئےلعینوں نے بڑی بےدردی سے چهری سے ذبح کردیا گیا-قارئین کو یاد ہوگا کہ تکفیری نجس ٹولے نے اسی طرح کی ظالمانہ کاروائی گلگت بلتستان کے بس مسافرین پر بهی کی گئی تهی-دواپریل ٢٠٠١٧کو دن دھاڑے اس ٹولے نے سکردو جانے والے مسافرين کی بسوں پر حملہ کرکے اپنے نجس وجود کا کھل کر اظہار کردیا تها،انہوں نے بسوں سے مسافرين کا شناختی کارڈ چیک کرتے ہوئے مسافرین کو بسوں سے اتار کر٢٠ افراد کو فقط شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے کے جرم میں پتھروں سے کچلنے کے بعد ان کی لاشوں کو جلا کر بے حرمتی کی گئی تهی-
بدون تردید مچهہ بلوچستان کا یہ دلخراش سانحہ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان کا کڑا امتحان ہے-اس سے سرفراز نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ بغیر کسی لیت ولعل کے سانحہ مچهہ بلوچستان کے بے گناہ مقتولین کے قاتلوں کو پکڑواکر پھانسی دلوادی جائےـ بلوچستان میں مضبوط آرمی سیکورٹی کو یقینی بنا دیاجائے- بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف مقامات پر موجود دہشتگردوں کے اڈوں پر آپریشن کرواکر ان کا صفایا کروا دیا جائے اور مسلمانوں پر کفر کے فتوے لگانے والے افراد کی تربیت کرنے والے مدارس جو درحقیقت دہشتگردوں کی تربیت گاہ ہیں کو فی الفور بند کروادئیے جائیں ـ












