وفاق ٹائمز کی رپورٹ ے مطابق، آسام اسمبلی نے ایک تجویز منظورکی ہے جسکے نتیجہ میں پہلی اپریل سے تمام مدارس بند کردیئے جائیں گے ۔اسمبلی کی یہ تجویزاورمدارس بند کرنے کافیصلہ غلط ہے،اورآئین میں موجود بنیاد ی حقوق کی دفعہ ۳۰؍کی کھلی مخالفت ہے”۔ان خیالات کااظہارایک صحافتی ملاقات میں مولانامحمدولی رحمانی جادہ نشیںخانقاہ رحمانی مونگیر نے کیا۔
انہوں نے کہاکسی ا سمبلی یاپارلیمنٹ کوآئین ہندکے بنیادی حقوق کی دفعات کے خلاف قانون سازی کاحق نہیں ہے،آسام گورنمنٹ نے پہلے اعلان کیاکہ سرکاری امداد پانے والے مدارس کوسرکاری اسکولوں میں تبدیل کرلیاجائے گااوراب اسمبلی میںیہ تجویزمنظورکی گئی ہے کہ تمام ترمدارس کواسکول بنادیاجائیگا ،مدارس کے اساتذہ کی نوکریاں باقی رہیں گی اورانہیں سہولتیں دی جائیں گی۔
مولانا محمد ولی رحمانی نے کہاجتنے بھی مدارس ہیںوہ آئین کے بنیادی حقوق کی دفعات ۲۹؍۳۰؍کے دائرہ میں ہیںاوران کی اصل حیثیت کوبدلانہیںجاسکتا،جومدارس حکومت کی امدادنہیںلیتے نہ صر ف حکومت ان پر ہاتھ نہیںڈال سکتی ،بلکہ سرکاری امداد پانے والے مدارس کوبھی حکومت چھونہیںسکتی جب تک بھارت کاآئین زندہ ہے ،سرکاری امدادلینے والے مدارس کی زمین مکان عام مسلمانوں کے تعاون سے کھڑے ہوئے ہیں،اساتذہ اوراسٹاف کی تنخواہیںبھی لانبے عرصہ تک مسلم عوام نے پورے کیے ہیں ،عوام کی طرف سے عمارتوںکے بنانے کاسلسلہ بھی جاری ہے،صرف اساتذہ اوراسٹاف کی جزوی یاکلی تنخواہ دینے کی وجہ سے مدرسہ کی بنیادی نوعیت نہیںبدلی جاتی اوروہ آئین کی دفعہ ۲۹؍۳۰؍سے باہر نہیںہوجاتے ۔
مولانا محمدولی رحمانی نے اظہار رائے کرتے ہوئے کہاکہ آسام حکومت کی دہشت گردی کایہ ایک نمونہ ہے ،اورآئین ہندکونظر انداز کرنے کی ایک مثال ہے ۔اس صورتحال کوعدالت سے نپٹنے کی کوشش شروع ہوچکی ہے۔












