وفاق ٹائمز کی رپورت کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین محمد مہدی معراجی نے علوم حدیث کی لائبریری کی افتتاحی تقریب میں حضرات معصومین علیہم السلام کی روایات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: الکتب بساطین العلماء۔ باغیچہ سے کتاب کی تشبیہ سے ہم یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ لائبریری خوبصورت ہونی چاہیئے۔ حضرت فرماتے ہیں: «نعم المحدث الکتاب» کتاب بہترین گفتگو کی حامل ہے۔ اس بیان سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ لائبریری میں کتابوں کا بات کرنا ہی کافی ہے، لہٰذا دوسروں کو کتابوں کی گفتگو میں مداخلت نہیں کرنی چاہیئے۔
انہوں نے مزید کہا: امام باقر علیہ السلام کی ایک روایت میں اس طرح آیا ہے: «شَرِّقا و غَرِّبا لَن تَجِدا عِلما صَحیحا إلاّ شَیئا یَخرُجُ مِن عِندِنا أهلَ البَیتِ»؛ یعنی اگر آپ مشرق و مغرب کی طرف جائیں تو آپ کو کبھی صحیح علم نہیں ملے گا، سوائے اس کے جو ہمارے خاندان سے جاری ہوتا ہے۔
علوم حدیث کی خصوصی لائبریری کے سربراہ نے، اس لائبریری کی تاسیس کے بارے میں کہا: یہ کتابخانہ 1378 شمسی میں، آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی کے نمائندے حجت الاسلام والمسلمین شہرستانی کے حکم سے صفائیہ میں ایک کرائے کے مکان میں قائم کیا گیا تھا۔ ابتدائی مرحلے میں 800 کتابیں مہیا کی گئیں اور دو سال بعد ان کتابوں کی تعداد 3000 تک پہنچ گئی۔ بعد ازاں فاطمی اسٹریٹ پر ایک اور عمارت تیار کی گئی جس کی ایک منزل علوم حدیث کی لائبریری اور دوسری منزل آقائے مہدوی راد کی قرآنی لائبریری کیلئے مختص تھی، تاہم کتابوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا اور کتابوں کی تعداد 18 ہزار تک پہنچ گئی اور آج یہ 60 ہزار کتابوں پر مشتمل خوبصورت اور وسیع لائبریری محققین کی خدمت میں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اس لائبریری میں 60 ہزار کتابیں اور 20 ہزار مختلف موضوعات پر مشتمل ڈیجیٹل (سوفٹویئر) کتابیں ہیں جن میں پی ایچ ڈی اور ایم فل تھیسز سمیت ڈیجیٹل مطبوعات شامل ہیں، یہ ایک علمی سفر ہے، لہٰذا ہمیں امید ہے اساتذہ اور بزرگ علماء سمیت محقیقین حضرات اس کی قدر کریں گے اور اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ حاصل کریں گے۔




























