4

حقوق میں قدم رکھے تو معاشرہ ہمیشہ اس ایک ہی معین راستے پر گامزن رہے گا

  • News cod : 64225
  • 07 ژوئن 2026 - 15:55
حقوق میں قدم رکھے تو معاشرہ ہمیشہ اس ایک ہی معین راستے پر گامزن رہے گا
اولو الامر کا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر اسلامی معاشرے میں اولو الامر قانون کے محافظ امانتدار خدمت گزار، نظم و ضبط برقرار کرنے والے کے عنوان سے موجود نہ ہو تو دین میں رد و بدل کا امکان بڑھ جاتا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دشمن شناس بنین، اپنے دشمن اور اس کے سازشوں کو پہچانیں، اپنے عقائد کو مضبوط کریں اور ہمیشہ ولایت فقیہ کے دامن کو تھامے رکھیں،

دوسری دلیل یہ ہے کہ تمام فرقوں اور قوموں کی طرف سے نظر کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ بغیر کسی سر پرست، صدر یا رہبر کے اپنے سماجی حیات کو باقی نہیں رکھ سکتے کیونکہ اپنے دینی اور دنیاوی امور کی ادائیگی کے لیے وہ ہر قدم پر ایک سرپرست اور رہبر کے محتاج ہیں جو ان کی رہنمائی کرے۔ یہ فطری چیز ہے لہذا خداوند عالم نے ہر قوم کے لیے ایک رہبر اور ہادی مقرر کیا ہے۔ ایک الٰہی رہبر ہونا چاہیے جس کے وجود سے قوم کو تقویت ملے اور اس کی سربراہی میں وہ دشمنوں کا مقابلہ کریں۔

اولو الامر کا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر اسلامی معاشرے میں اولو الامر قانون کے محافظ امانتدار خدمت گزار، نظم و ضبط برقرار کرنے والے کے عنوان سے موجود نہ ہو تو دین میں رد و بدل کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اسلامی احکام اور اسلامی سنتین الٹ پھیر کا شکار ہو جاتی ہیں اور نئی چیزیں داخل کرنے والے بدعتی لوگ سنتوں کو بدعتوں میں بدل دیتے ہیں اور مسلمانوں کے سامنے ایک نئے انداز سے پیش کرتے ہیں۔ لہذا اگر کسی ایسے شخص کو، جو نظم کو باقی رکھ سکتا ہو اور جو قوانین و دستورات پیغمبر ص لے کر آئے ہیں ان کو اپنی اصلی حالت پر باقی رکھ سکتا ہو ان پر ناظر کے عنوان سے بٹھایا جائے تو سارا نظام نظم و ضبط کے ساتھ باقی رہے گا۔

ولایتِ فقیہ کی ضرورت پر نقلی دلیل

اسحاق ابن یعقوب حضرت ولی عصر عج کو ایک خط لکھ کر اپنی مشکلات کا اس میں ذکر کرتے ہیں جسے محمد بن عثمان عمری حضرت کے نائب خاص حضرت کو یہ خط پہنچاتے ہیں۔ اس خط کا جواب خود حضرت اپنے ہاتھ سے لکھ کر بھیجتے ہیں؛ “جو حوادث تم کو پیش آتے ہیں ان میں ان کی طرف رجوع کرو جو ہم سے روایت نقل کرتے ہیں کیونکہ وہ تم پر ہماری طرف سے حجت ہیں اور ہم ان پر اللہ کی طرف سے حجت ہیں۔(کمال الدین)

یہ جو کہاں جاتا ہے کہ ولی امر حجت خدا ہے تو کیا شرعی مسائل میں حجت ہے کہ ہمارے لیے مسائل بیان کرتا رہے؟ رسول خدا ص نے یہ جو فرمایا، کہ میں جا رہا ہوں میرے بعد علی ع تم پر حجت ہیں تو کیا اس حدیث سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آنحضرت ص تو چلے گئے اب سب کام تعطیل ہو گئے، صرف شرعی مسائل بیان کرنا باقی رہ گیا اور صرف یہی کام امیرالمومنین ع کے سپرد کیا گیا ہے؟

حجت خدا وہ ہوتا ہے جسے بعض امور کی انجام دہی کے لیے خدا مقرر فرماتا ہے اور اس کے تمام تر افعال و اقوال مسلمانوں کے لیے حجت ہوتے ہیں.لہذا اس حدیث سے ثابت ہے کہ عصر غیبت میں زندگی کے تمام مسائل میں ولایت فقیہ کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔

نتیجہ

پس عصر حاضر میں ولایت فقیہ کی ضرورت واضح اور روشن ہے۔ ہمارا دشمن ہمارے ولایتی نظام کو تباہ و برباد کر دینا چاہتا ہے۔اس کی جنگ ایران سے نہیں، اس کی جنگ ایران کے لوگوں سے نہیں ،اس کی جنگ ایران کے ولایتی نظام سے ہے جسے وہ ختم کرنا چاہتا ہے اور اس کی دیرینہ آرزو ہے کہ اسلامی ممالک میں اسلامی حکومت قائم نہ ہو۔ اس لیے کچھ ایسے افراد سیکولرزم نظریے کے قائل ہیں اور دین کو سیاست سے جدا مانتے ہیں اور یہ پروپیگنڈا معاشرے میں عام کرتے ہیں کہ ولایت فقیہ ایک سیاسی نظام ہے اور دین فقط عبادی و اخلاقی پہلو رکھتا ہے ،سیاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں لہذا دین میں ولایت فقیہ کا نظریہ باطل نظریہ ہے۔ جبکہ یہ عقیدہ بلکل غلط ہے،دین عین سیاست ہے۔

اسی طرح کچھ لوگ دین کو سیاست سے جدا نہیں مانتے لیکن ولایت فقیہ کا انکار کرتے ہیں اس دلیل کے ساتھ کہ امام معصوم ع کی ولایت کے ہوتے ہوئے کسی عام انسان کی ولایت قابل قبول نہیں ہے اور ولایت کا حق صرف معصومین کو حاصل ہے اور غیبت امام میں کوئی غیر معصوم ولایت کا حق رکھے ،ثابت نہیں۔ جب کہ ہم نے اپنی تحریر میں ثابت کیا کہ خود معصومین کی روایات سے ثابت ہے کہ غیبت امام زمان ع میں نائبین امام زمان ع کی طرف رجوع کرنا ہمارا فرض اور ہماری ذمہ داری ہے۔

ولایت فقیہ کا نظریہ ایک ایسا نظریہ ہے جو بہت روشن اور واضح ہے اور دلیلوں کا محتاج نہیں لیکن اس کے باوجود ولایت فقیہ پر اٹھنے والے اعتراضات میرے خیال میں صرف اور صرف نظام حکومت اسلامی کی بنیادوں کو ہلانے کی ایک سازش ہے تاکہ لوگ اس نظریہ سے دستبردار ہوجائیں اور اسلامی حکومت تشکیل نہ پا سکے۔ اس طرح کے فکری اور عقائدی حملے ہمارے دشمن کے آلۂ کار رہے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دشمن شناس بنین، اپنے دشمن اور اس کے سازشوں کو پہچانیں، اپنے عقائد کو مضبوط کریں اور ہمیشہ ولایت فقیہ کے دامن کو تھامے رکھیں اور اس کے ساتھ جڑے رہیں کیونکہ غیبت امام زمان ع میں ولایت فقیہ ہی وہ سفینہ (کشتی) ہے جو فکری اور عقائدی انحرافات کے سمندر سے با آسانی عبور کر جانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=64225

ٹیگز