وفاق ٹائمز : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق دارالحکومت کولمبو میں درجنوں مسلمانوں نے علامتی جنازوں اور تابوت اٹھا کر مظاہرہ کیا اور مسلمانوں کی میتیں جلانے کا سلسلہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
وزیر اعظم عمران خان کی سری لنکا آمد کے موقع پر مظاہرے کی بڑی وجہ دو ہفتے قبل دیا گیا ان کا وہ بیان تھا جس میں انہوں نے مسلم اقلیت کے مطالبے کے حق میں بات کی تھی۔
10 فروری کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں عمران خان نے سری لنکا کے ہم منصب مہندا راجا پاکسا کے کورونا سے جاں بحق مسلمانوں کی تدفین کی اجازت دینے کے اعلان کا خیر مقدم کیا تھا۔
تاہم اگلے روز ہی سری لنکا کی حکومت نے اس اعلان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا سے ہلاک افراد کی میتوں کو جلانے کی پالیسی جاری رہے گی۔
صدر گوٹابایا راجا پاکسا کے دفتر کے سامنے کھلے مقام پر جمع ہونے والے مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ ‘وزیر اعظم کے بیان کو عزت اور تدفین کی اجازت دو’۔
ان کی حکومت نے مسلمانوں کو میتیں اسلامی روایات کے مطابق دفنانے کی اجازت دینے کے بین الاقوامی مطالبے اور مقامی ماہرین کی سفارشات کو مسترد کردیا تھا۔
سری لنکا کی حکومت نے اپریل میں بااثر بدھ راہبوں کے ان خدشات کے باعث تدفین پر پابندی عائد کردی تھی کہ کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی میتیں دفن کرنے سے زیر زمین پانی زہریلا ہوسکتا ہے اور وائرس پھیل سکتا ہے، تاہم ماہرین نے ان خدشات کو بےبنیاد قرار دیا تھا۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلو ایچ او) بھی کہہ چکا ہے کہ ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے اور میتوں کی تدفین اور انہیں جلانے دونوں کی سفارش کی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان کی سری لنکا آمد کے موقع پر مظاہرے کی بڑی وجہ دو ہفتے قبل دیا گیا ان کا وہ بیان تھا جس میں انہوں نے مسلم اقلیت کے مطالبے کے حق میں بات کی تھی۔
10 فروری کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں عمران خان نے سری لنکا کے ہم منصب مہندا راجا پاکسا کے کورونا سے جاں بحق مسلمانوں کی تدفین کی اجازت دینے کے اعلان کا خیر مقدم کیا تھا۔
تاہم اگلے روز ہی سری لنکا کی حکومت نے اس اعلان سے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا تھا کہ کورونا سے ہلاک افراد کی میتوں کو جلانے کی پالیسی جاری رہے گی۔
صدر گوٹابایا راجا پاکسا کے دفتر کے سامنے کھلے مقام پر جمع ہونے والے مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر تحریر تھا کہ ‘وزیر اعظم کے بیان کو عزت اور تدفین کی اجازت دو’۔
ان کی حکومت نے مسلمانوں کو میتیں اسلامی روایات کے مطابق دفنانے کی اجازت دینے کے بین الاقوامی مطالبے اور مقامی ماہرین کی سفارشات کو مسترد کردیا تھا۔
سری لنکا کی حکومت نے اپریل میں بااثر بدھ راہبوں کے ان خدشات کے باعث تدفین پر پابندی عائد کردی تھی کہ کورونا سے جاں بحق ہونے والوں کی میتیں دفن کرنے سے زیر زمین پانی زہریلا ہوسکتا ہے اور وائرس پھیل سکتا ہے، تاہم ماہرین نے ان خدشات کو بےبنیاد قرار دیا تھا۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلو ایچ او) بھی کہہ چکا ہے کہ ایسا کوئی خطرہ نہیں ہے اور میتوں کی تدفین اور انہیں جلانے دونوں کی سفارش کی ہے۔












