2

حوزہ علمیہ قم عہد معاصر میں /خصوصی رپورٹ (قسط 1)

  • News cod : 18022
  • 29 می 2021 - 15:22
حوزہ علمیہ قم عہد معاصر میں /خصوصی رپورٹ (قسط 1)
سنہ 1340 ہجری (1921 عیسوی) میں شیخ عبدالکریم حائری کے توسط سے حوزہ علمیہ قم کی تاسیس سے قبل میرزا محمد فیض قمی سنہ 1333 ہجری میں سامرا سے قم واپس آئے اور 1336 سے 1340 ھ تک مدرسہ دارالشفاء اور مدرسہ فیضیہ کی تعمیر نو کا اہتمام کیا جو علمی سرگرمیوں کے لئے استعمال کی قابلیت کھو چکے تھے۔ انہوں نے ان مدارس میں طلبہ کو بسایا۔

وفاق ٹائمز|سنہ 1340 ہجری (1921 عیسوی) میں شیخ عبدالکریم حائری کے توسط سے حوزہ علمیہ قم کی تاسیس سے قبل میرزا محمد فیض قمی سنہ 1333 ہجری میں سامرا سے قم واپس آئے اور 1336 سے 1340 ھ تک مدرسہ دارالشفاء اور مدرسہ فیضیہ کی تعمیر نو کا اہتمام کیا جو علمی سرگرمیوں کے لئے استعمال کی قابلیت کھو چکے تھے۔ انہوں نے ان مدارس میں طلبہ کو بسایا۔

شیخ محمد تقی بافقی کے اصرار اور میرزا محمد ارباب اور شیخ محمد رضا شریعتمدار ساؤجی کی وساطت سے شیخ عبد الکریم حائری کو دعوت دی گئی کہ اراک سے قم آئیں اور اس شہر میں ایک منظم اور باضابطہ حوزہ علمیہ کی بنیاد رکھیں؛چنانچہ سنہ 1340 ہجری میں وہ قم آئے اور اس شہر میں حوزہ علمیہ کی بنیاد رکھی۔ آیت اللہ حائری پندرہ سال تک قم میں مقیم رہے اور اپنی اعلی انتظامی صلاحیتوں کی بدولت ایک نہایت طاقتور اور منظم حوزہ علمیہ کی بنیاد رکھی یہاں تک کہ حوزہ قم کے طلبہ کی تعداد پہلوی اول کے سخت گیر اور شدت آمیز رویے سے قبل 700 اور دوسرے قول کے مطابق 900 تک پہنچی تھی۔

آیت اللہ حائری کی وفات سے لے کر آیت اللہ بروجردی کی ہجرت قم تک، حوزہ کے تین بڑے اساتذہ سید محمد حجت کوہ کمرہ ای، سید محمد تقی خوانساری اور سید صدر الدین صدر نے حوزہ کے انتظامات کا عہدہ سنبھالا۔

1940 عیسوی کے عشرے کے اوائل میں حوزہ علمیہ قم کے بعض عالی رتبہ اساتذہ نے ـ جو حوزہ کے مربوط اور ہمآہنگ انتظآمات نہ ہونے کی وجہ سے فکرمند تھے اور دوسری طرف سے آیت اللہ حاج آقا حسین بروجردی کے علمی مراتب اور سماجی اور دینی اثر و رسوخ سے واقعیت رکھتے تھے ـ ان سے درخواست کی کہ بروجرد سے قم آجائیں۔ اس سلسلے میں امام خمینی اور خرم آباد کے نامی گرامی عالم دین حاج آقا روح اللہ کمالوند نے زیادہ کوشش کی۔

آیت اللہ بروجردی نے اس درخواست کو منظور کیا اور محرم الحرام 1364 ھ/دسمبر 1944 ء قم میں سکونت پذیر ہوئے۔ بروجردی کی مؤثر اور انقلاب آفرین ہجرت نے حوزہ قم کو اعتبار اور ترقی کی اس چوٹی پر پہنچایا کہ یہ حوزہ اس دور کے معتبر ترین اور قدیم حوزہ علمیہ یعنی حوزۂ نجف کے برابر ہوگیا۔

آیت اللہ بروجردی کی وفات پر حوزہ علمیہ قم کا انتظام نیز مرجعیت کا ادارہ ایک بار پھر مسائل سے دوچار ہوا اور اس کا انتظام چار عالی مرتبہ اساتذہ یعنی امام خمینی، سید محمد رضا موسوی گلپایگانی، سید کاظم شریعتمداری اور سید شہاب الدین مرعشی نجفی نے سنبھالا۔

امام خمینی ترکی جلاوطن ہوئے جہاں سے انہیں نجف منتقل کیا گیا اور یوں حوزہ علمیہ قم کی قیادت باقی تین افراد کے سپرد ہوئی۔

عبدالکریم حائری سے پہلے
سنہ 1340 ہجری قمری (1921 عیسوی) میں شیخ عبدالکریم حائری کے توسط سے حوزہ علمیہ قم کی تاسیس سے 8 سال قبل، ایران میں شیخ اسداللہ ممقانی جیسے اکابرین نے شیعہ مرجعیت کی عراق سے ایران منتقلی اور قم یا مشہد میں ایک مستحکم حوزہ علمیہ کی تاسیس، کی تجویز پیش کی تھی۔ سلسلۂ قاجار کے اواخر میں آیت اللہ حائری کی قم آمد اور حوزہ علمیہ قم کی علمی بلند کرنے کے لئے ان کے اقدامات سے قبل ـ قم میں مقیم بعض علماء نے جو علمی لحاظ سے اعلی مراتب و مدارج پر فائز تھے نے اس سلسلے میں کوششیں کی تھیں لیکن مطلوبہ نتیجے پر نہیں پہنچ سکے تھے۔

میرزا محمد فیض قمی کی جدوجہد

قم میں حوزہ علمیہ کی تاسیس کے لئے کوشاں علماء میں سے ایک اہم شخصیت میرزا محمد فیض قمی ہیں جو سنہ 1333 ہجری قمری میں سامرا سے قم واپس آئے اور سنہ 1336 ہجری قمری سے مدرسہ دارالشفاء اور مدرسہ فیضیہ کی تعمیر نو کا اہتمام کیا جو علمی سرگرمیوں کے لئے استعمال کی قابلیت کھو چکے تھے۔ انھوں نے طلبہ کو ان دو مدارس میں بسایا اور ان کے لئے وظیفہ مقرر کیا۔ یہ اقدام اس قدر عظیم سمجھا گیا کہ عید غدیر سنہ 1336 ہجری قمری کے دن حرم حضرت معصومہ کے صحن عتیق میں چراغان اور پر شکوہ جشن کا اہتمام کیا گیا۔اس اہم اقدام کے باوجود اور اس زمانے میں شہر قم میں شیخ ابو القاسم قمی اور میرزا جواد آقا ملکی تبریزی سمیت اعلی پائے کے علماء کی موجودگی کے باوجود،قم میں عبدالکریم حائری کی دائمی سکونت تک حوزہ علمیہ قم منظم اور مفید و مظبوط حوزہ اس شہر میں بپا نہ ہو سکا۔

محمد تقی بافقی کی کوششیں

قم کے معاصر حوزہ علمیہ کی تشکیل میں شیخ محمد تقی بافقی کی کوششوں کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ شریف رازی کے مطابق،بافقی نے سنہ 1337 ہجری قمری میں قم ہجرت کرکے شیخ ابو القاسم کبیر قمی، شیخ مہدی فیلسوف اور میرزا محمد ارباب جیسے بڑے علماء کو ایک منظم حوزہ علمیہ کی تاسیس کی رغبت دلائی لیکن ان کی رائے یہ تھی کہ قمی عوام کے جذبات و احساسات کے پیش نظر، حوزہ علمیہ کی تاسیس ایک ایسے با اثر عالم دین کی موجودگی سے مشروط ہے جس کا تعلق قم سے نہ ہو۔ آخر کار محمد تقی بافقی کے اصرار اور میرزا محمد ارباب اور شیخ محمد رضا شریعتمدار ساؤجی، کی وساطت سے حاج شیخ عبد الکریم حائری کو دعوت دی گئی کہ اراک سے قم آئیں اور اس شہر میں ایک منظم اور باضابطہ حوزہ علمیہ کی بنیاد رکھیں؛ چنانچہ آپ سنہ 1340 ہجری میں قم آئے اور اس شہر میں حوزہ علمیہ کی بنیاد رکھی۔ حائری پندرہ سال تک قم میں مقیم رہے اور اپنی اعلی انتظامی صلاحیت کی بدولت ایک نہایت طاقتور اور منظم حوزہ علمیہ کی بنیاد رکھی۔

عبدالکریم حائری کی قم آمد
حائری کی شخصیت
شیخ عبدالکریم حائری مشہور و معروف عالم دین تھے جنہوں نے برسوں تک سامرا اور نجف میں سید محمد فشارَکی اصفہانی، میرزا محمد حسن شیرازی، آخوند خراسانی اور سید محمد کاظم طباطبائی یزدی (صاحب عروۃ الوثقی) سے کسب فیض کرکے فقہ اور اصول فقہ کے اعلی مدارج و مراتب کو طے کیا تھا اور برسوں تک کربلا میں فقہ اور اصول فقہ کی تدریس کرتے رہے تھے۔ وہ سنہ 1332 یا 1333 ہجری قمری کے اوائل میں ایران کے شہر اراک میں مستقر ہوئے اور تدریس کے ساتھ ساتھ اس شہر کے حوزۂ علمیہ کا مستقل انداز سے انتظام سنھبالا تھا۔

حوزہ علمیہ قم کے استحکام کے اسباب
آیت اللہ حائری کے قم میں ساکن ہونے پر ان کے وہ مشہور اور عالی رتبہ شاگرد جو اراک میں تھے منجملہ: سید محمد تقی خوانساری، سید احمد خوانساری، سید روح اللہ خمینی، سید محمد رضا موسوی گلپایگانی اور شیخ محمد علی اراکی ان کے ہمراہ قم آگئے۔
حوزہ علمیہ قم کی تشکیل اور حائری کی حسنِ شہرت اور ان کی اعلی انتظامی صلاحیتوں کی بنا پر علماء اور طلاب قم کی طرف متوجہ اور منتقل ہوئے جن میں سید ابوالحسن رفیعی قزوینی بھی شامل تھے جو سنہ 1341 سے 1349 ہجری تک قم میں رہے اور یہاں درس و تدریس کا اہتمام کیا،علمائے اصفہان میں سے شیخ محمد رضا مسجد شاہی جو سنہ 1344 سے 1346 ہجری تک قم میں مقیم رہے۔نیز میرزا محمدعلی شاہ آبادی جو سنہ 1347 ہجری میں قم آئے اور سنہ 1354 ہجری تک یہیں مقیم رہے۔حائری کے زمانے میں، قم میں کثیر مہاجر اور مجاور (مقامی) اساتذہ اور مدرسین کی موجودگی سے اس دور میں قم کے علمی نشاط کا اندازہ ہوتا ہے۔
دیگر سیاسی اور معاشرتی عوامل و اسباب نے بھی تاسیس کے آغاز پر حوزہ علمیہ قم کی رونق بڑھا دی۔ اس سلسلے میں سلسلۂ قاجار کے بادشاہ احمد شاہ قاجار کے دورہ قم کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ ایک بار 21 ربیع الاول 1342 ہجری (آٹھ عقرب 1302 ہجری شمسی) کو حوزہ علمیہ قم کی تاسیس کے سلسلے میں مبارک باد عرض کرنے قم آئے۔ اور دوسری بار علمائے نجف کی قم آمد پر ہے۔
نجف سے مشہور اور نامی گرامی علماء سید ابو الحسن اصفہانی اور محمد حسن نائینی کی قم آمد اور عبدالکریم حائری کی طرف سے ان کا پر شکوہ استقبال اور اپنا مقام تدریس ان کے سپرد کرنا، بھی اس مرحلے میں حوزہ علمیہ قم کی مزید تقویت کا باعث بنا۔
رضا خان پہلوی کو وزارت عظمی کا عہدہ سونپ دیا گیا تو وہ قم آیا اور اور 16 مارچ سنہ 1924 کو ملک میں جمہوری نظام کے قیام کا مسئلہ پیش کیا، عبدالکریم حائری سمیت علماء کے ساتھ بات چیت کی اور ان ملاقاتوں اور وزیر اعظم کے دورہ قم کی بنا پر، حوزہ علمیہ قم اور حکومت کو بعض فوائد ملے۔
حوزہ علمیہ قم کی تقویت کا ایک سبب یہ تھا کہ علمائے اصفہان رضاخانی دور میں نوجوانوں کی جبری بھرتی پر احتجاج واعتراض کرنے کی غرض سے حاج آقا نور اللہ اصفہانی (متوفی 1346 ہجری) کی قیادت میں، ہجرت کرکے قم آئے۔ ان کے آنے سے حوزہ قم سیاسی امور میں بھی متحرک ہوا۔

قم میں قیام کے دوران عبدالکریم حائری کا درس خارج بہت اہم ترین تھا یہاں تک کہ حوزہ علمیہ کے دوسرے اساتذہ بھی اس میں شرکت کرتے تھے۔ وہ ابتداء میں مدرسہ فیضیہ میں تدریس کرتے تھے اور کچھ عرصہ بعد انھوں نے مقام تدریس کو بدل کر تکیۂ عشق علی میں منتقل کیا۔انھوں نے تعلیمی منصوبہ بندی اور طلبہ کی معاشی بہبود کے لئے بھی متعدد سنجیدہ اقدامات کئے۔ انھوں نے حوزہ کی تعلیمی روش اور اسلوب کو تبدیل کرنے کے لئے بھی کوشش کی، علم فقہ میں تخصصی اور طلبہ کی معلومات کو وسیع تر کرنے کی کوشش کی۔

عبدالکریم حائری نے ان امور میں طلبہ اور مدارس کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی اور درس و بحث کے لئے ان کی ترغیب کے لئے، انعامات مقرر کئے۔ انہوں نے حوزہ کی تعلیمی گنجائش کو وسعت دینے کے لئے مدرسہ فیضیہ اور مدرسہ دارالشفاء جیسے اہم اور مرکزی مدارس کی تعمیر نو کا اہتمام کیا۔

حائری اور سیاسی کشیدگی
آیت اللہ حائری نے قم کے کم عمر حوزہ علمیہ کی ترقی کے لئے کوششیں کیں اور اس کو ممکنہ حد تک سیاسی کشیدگیوں سے دور رکھا؛ اسی بنا پر جب رضا خان پہلوی کی طرف سے قم میں محمد تقی بافقی کو گرفتار کیا گیا[18] تو انھوں نے اعلانیہ ردّ عمل کا اظہار نہیں کیا۔ بعض مواقع پر حائری نے ہوشیاری اور ذکاوت کے ساتھ اس سلسلے میں اقدامات کئے اور حوزہ کے علماء اور طلبہ کو محدود کرنے کے سلسلے میں ہونے والے سرکاری اقدامات سے حوزہ کے حق میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔ مثال کے طور پہلوی نظام نے جب جبری امتحانات منعقد کرکے حوزہ کے اساتذہ اور طلبہ کو محدود کرنے کی کوشش کی اور حکومت اس امتحان کے ضمن میں حوزہ کے فارغ التحصیل فضلاء میں سے ـ جو معاشرے کا پڑھا لکھا طبقہ سمجھے جاتے تھے ـ بعض افراد کو سرکاری اداروں میں کھپانے کا ارادہ ظاہر کیاـ تو عبدالکریم حائری نے مطالبہ کیا کہ یہ امتحانات قم میں منعقد کئے جائیں اور وہ خود ان کی نگرانی کریں۔

اس کے باوجود انہوں نے کشف حجاب (بے پردگی کی ترویج) و اتحاد لباس (ہم شکل لباس کی ترویج) کی رضا خانی کوششوں کے مقابلے میں ـ حکومت اور سیاست کے سلسلے میں محتاطانہ طرز عمل اپنائے رکھنے کے باوجود ـ زیادہ سنجیدگی اور حساسیت کے ساتھ مداخلت کی۔ انھوں نے مورخہ 3 جولائی 1935 عیسوی کو ایک ٹیلی گرام کے ذریعے واضح کیا کہ بے پردگی کی ترویج شرع مقدس اور مذہب جعفری کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔کشف حجاب اور عزاداری پر پابندی جیسے مسائل اس قدر حائری کے لئے بھاری اور ناقابل برداشت تھے کہ کہا گیا ہے کہ وہ ان واقعات کے بعد بیمار ہوئے اور پہلے کی طرح نشاط و طراوت نہیں رکھتے تھے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=18022