2

جو شخص خدا اور روز قیامت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ہر فریضہ نماز کے بعد سورہ اخلاص کا پڑھنا ترک نہ کرے،علامہ شیخ شفا نجفی

  • News cod : 26142
  • 05 دسامبر 2021 - 10:44
جو شخص خدا اور روز قیامت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ہر فریضہ نماز کے بعد سورہ اخلاص کا پڑھنا ترک نہ کرے،علامہ شیخ شفا نجفی
علامہ شیخ شفا نجفی نے جامع مسجد امام صادق علیہ السلام اسلام آباد میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا کہ دین کے مسائل میں سے ضروری اور اہم ترین مسئلہ، توحید کا مسئلہ ہے اور اصول دین کی پہلی اصل توحید ہے، لہذا اگر انسان توحید کی پہچان اور معرفت اچھے طریقہ سے حاصل کرلے تو باقی اصول کو سمجھنا اور ان کا معتقد ہونا آسان ہوگا

وفاق ٹائمز کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق،علامہ شیخ شفا نجفی نے جامع مسجد امام صادق علیہ السلام اسلام آباد میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے کہا کہ دین کے مسائل میں سے ضروری اور اہم ترین مسئلہ، توحید کا مسئلہ ہے اور اصول دین کی پہلی اصل توحید ہے، لہذا اگر انسان توحید کی پہچان اور معرفت اچھے طریقہ سے حاصل کرلے تو باقی اصول کو سمجھنا اور ان کا معتقد ہونا آسان ہوگا اور اگر توحید کی صحیح طریقہ سے شناخت نہ کی تو باقی اصول کو سمجھنے میں انتہائی دشواری کا سامنا ہوگا بلکہ دیگر اصول کو سمجھنا بالکل ناممکن ہوگا اور مختلف اعتقادی مسائل میں انسان، کمزوری کا شکار ہوتا ہوا مسلسل گمراہی کی زد میں رہے گا یہاں تک کہ یا کفر و شرک میں مبتلا ہوجائے گا یا غلو کے ناپاک گڑھے میں ڈوب جائے گا۔ اسی لیے توحید کی معرفت انتہائی اہم ہے اور بالکل بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔توحید کا مطلب ’’خداوند عالم کو یکتا جاننا‘‘ ہے۔ یعنی اللہ، عالم ہستی میں واحد خدا ہے۔ وہ کمال مطلق ہے، ہر چیز کا خالق وہ ہے اور کوئی اس کا مثل و نظیر نہیں۔
اصطلاحی لحاظ سے: توحید اسلام کے اعتقادی اصول میں سے سب سے بڑا بنیادی اصل ہے۔ دینی تعلیمات میں، مسلمانوں میں اور علماء کے عرف میں “اللہ کی وحدانیت” پر عقیدہ رکھنے کے معنی میں ہے۔قرآن کریم میں “لاالہ الّا اللہ” کا جملہ جو توحید کا شعار ہے اور نیز “لاالہ الّا ھو” کا جملہ جو توحید کے معنی میں ہے، مختلف آیات میں ذکر ہوا ہے۔
توحید اور اس کے مشتق الفاظ، نہج البلاغہ میں حضرت امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کے بیانات میں ملتے ہیں۔
“كمال التصديق به توحيده وكمال توحيده الاخلاص له”، تصدیق کا کمال توحید کا اقرار ہے اور توحید کا کمال اخلاص عقیدہ ہے۔
حکمت 470 میں: “التوحيد الاّ تتوهمه”، “توحید یہ ہے کہ اس کی وہمی تصویر نہ بناؤ”۔
ادیان الہی کا بنیادی عقیدہ اور تمام انبیاء اور اوصیاء کی اہم ترین تعلیم توحید تھی اور ہے۔ تمام انبیاء توحید کا پیغام دے کر انسان کو شرک و بت پرستی کی زنجیروں سے آزادی دلانے کی کوشش میں تھے ۔

انہوں نے کہاکہ قرآن کریم کی ایک تہائی آیتیں توحید کے بارے میں ہیں اور اس آسمانی کتاب کی وضاحت کے مطابق، تمام پیغمبروں کا پیغام بھی عقیدہ توحید کے محور پر ہے: “وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُون؛ اور ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجا ہے اس کی طرف یہی وحی کی ہے، بتحقیق میرے سوا کوئی معبود نہیں پس تم صرف میری عبادت کرو۔ (سورہ انبیاء، آیت ۲۵)حضرت ابراہیم(ع) نے اسی توحید کے پرچار کی خاطر بتوں کو توڑا اور آتش نمرود میں کود جانا برداشت کیا۔حضرت موسی (ع) نے پیغام توحید کے ذریعے اپنی قوم کو فرعون کی پرستش سے نجات دلائی۔ انہوں نے اپنے زمانے کے طاغوت کے ساتھ ہوئے مناظرے میں جب فرعون نے پوچھا کہ تیرا خدا کون ہے؟ تو جواب میں فرمایا: “رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ؛ موسیٰ نے کہا: ہمارا رب وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی خلقت بخشی پھر ہدایت دی ۔ (سورہ طہ، آیت ۵۰) یعنی اس کائنات میں ہر چیز میرے خدا کی مخلوق ہے۔حضرت عیسی بن مریم(ع) نے پیدائش کے بعد معجزانہ طور پر سب سے پہلے کلمات جو زبان پر جاری کئے وہ یہ تھے: “إِنَّ اللهَ رَبِّي وَرَبُّكُم فَاعبُدُوه؛ اور یقینا اللہ ہی میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے پس اس کی بندگی کرو، یہی راہ راست ہے۔ (سورہ مریم، آیت ۳۶)سب سے پہلا فقرہ جو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مقام نبوت پر فائز ہونے کے بعد فرمایا یہ تھا: “قولوا «لا إله إلا الله» تفلحوا؛ کہو کوئی معبود نہیں سوائے اللہ کے، تا کہ کامیاب ہو جاؤ۔
زبانی گواہی مگر عقیدہ وعمل میں کمزوری
علامہ شفا نجفی نے مزید کہاکہ ہم مسلمان روزانہ کئی بار اذان اور نماز میں توحید کی گواہی دیتے ہیں ہر روز تقریبا ۹ مرتبہ نماز میں تشہد کے دوران کہتے ہیں “اشهد ان لا اله الا الله وحدَهُ لا شریکَ له” لیکن ہمارے کردار اور عمل میں توحید نظر نہیں آتی۔توحید کی مختلف قسمیں ہیں کہ ہر موحد انسان کو چاہیے کہ شرک جلی یا شرک خفی سے دوری اختیار کرتے ہوئے اپنے کردار میں توحید کی جلوہ نمائی کرے؛ منجملہ:
۔ توحید ذاتی: اس بات پر ایمان رکھنا کہ خداوند عالم ذاتا ًاکیلا اور یکتا ہے اور کوئی شئی اس کے مثل و نظیر نہیں۔
۔ توحید صفاتی: اس بات پر ایمان رکھنا کہ خداوند عالم کی صفات اس کی ذات سے جدا نہیں ہیں بلکہ اس کی صفات عین ذات ہیں۔
۔ توحید افعالی: اس بات پر یقین رکھنا کہ خداوند عالم اپنے کاموں میں اپنے علاوہ کسی چیز کا محتاج نہیں ہے اور تمام موجودات اس کی محتاج ہیں۔
۔ توحید عبادی: اس بات پر عقیدہ رکھنا اور عمل کرنا کہ صرف خدا ہے جو عبادت کے لائق ہے اور عبادت صرف اسی کی ہو سکتی ہے۔
توحید ذاتی سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ واحد ہے اور اس جیسا کوئی نہیں ہے، کیونکہ اس کی مِثْل و مانند کا ہونا محال اور ناممکن ہے۔ سورہ شوری کی آیت ۱۱ میں ارشاد الٰہی ہے: “لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَىءٌ وَ هُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ”، ” اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے اور وہ خوب سننے والا، دیکھنے والا ہے”
اور نیز سورہ اخلاص میں ارشاد ہورہا ہے: “قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ….”، ” (اے رسول(ص)) آپ(ص) کہہ دیجئے! کہ وہ (اللہ) ایک ہے۔ اللہ (ساری کائنات سے) بےنیاز ہے۔ نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے”۔
توحید ذاتی کے بارے میں چند غورطلب نکات:
۱۔ اللہ تعالیٰ واحد ہے اور اس کی ذات میں اس کا کوئی شبیہ اور شریک نہیں ہے۔
۲۔ بسیط ہے، یعنی اس کی ذات میں حصے ، اجزاءاور ترکیب نہیں ہے۔
حضرت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) کا جنگ جمل کے میدان میں اعرابی شخص کو توحید کے معنی کے بارے میں جواب دینا، انہی دو معانی کی طرف اشارہ ہو، جہاں آپؑ نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں عددی اور نوعی وحدت کے انطباق کی نفی کرنے کے بعد فرمایا: ” أمَّا الْوَجْهَانِ اللَّذَانِ يَثْبُتَانِ فِيهِ فَقَوْلُ الْقَائِلِ هُوَ وَاحِدٌ لَيْسَ لَهُ فِي الْأشْيَاءِ ..”، “توحید کے دو معنی جو اللہ کے بارے میں ثابت ہیں یہ ہیں کہ کوئی کہے کہ وہ واحد ہے، چیزوں میں اس کی شبیہ نہیں ہے (ہاں) ہمارا پروردگار اسی طرح ہے، اور جو کہے کہ وہ عزّوجل احدّى المعنى ہے بایں معنی کہ وہ (ذات، خارجی) وجود میں تقسیم نہیں ہوتی اور نہ عقل میں اور نہ وہم میں، (ہاں) ہمارا پروردگار عزّوجل اسی طرح ہے”۔
۳۔ اللہ کا وجود لامحدود اور قید و شرط کے بغیر ہے، کیونکہ “مطلق اور لامحدود ہستی” کے بارے میں دو ہونے کا تصور محال ہے۔
شرک، ناقابل بخشش گناہ
توحید کے مقابلے میں ’’شرک‘‘ ہے۔ شرک یعنی خداوند عالم کا شریک قرار دینا۔ اور یہ ایسا گناہ ہے جو بخشا نہیں جا سکتا۔ “إِنَّ اللهَ لاَ یغْفِرُ أَن یُشرَکَ بِهِ وَیغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِکَ لِمَن یشَاء وَمَن یشْرِکْ بِاللّهِ فَقَدِ افتَرَی إِثماً عَظِیماً؛ اللہ اس بات کو یقینا معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھہرایا جائے اور اس کے علاوہ دیگر گناہوں کو جس کے بارے میں وہ چاہے گا معاف کر دے گا اور جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا اس نے تو عظیم گناہ کا بہتان باندھا۔ (سورہ نساء، آیت ۴۸)
کائنات کا خالق کون ہے؟
بعض لوگوں کے ذہن میں شاید یہ سوال اٹھتا ہو کہ اس بات پر کیا دلیل پائی جاتی ہے کہ یہ کائنات پہلے نہیں تھی اور بعد میں وجود میں آئی، یہ خود بخود بن گئی یا اسے کسی نے بنایا، اس کائنات میں مختلف چیزیں کیا پہلے سے موجود تھیں یا بعد میں وجود میں آئیں، یا ان کو کسی نے خلق کیا ہے؟ اس طرح کا سوال حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے دریافت کیا گیا۔ آپؑ کی خدمت میں ایک آدمی شرفیاب ہوا اور اس نے کائنات کے حدوث (وجود میں آنے) کی دلیل دریافت کی؟ آپؑ نے فرمایا: “أنتَ لَم تَكُنْ ثُمّ كنتَ، و قد عَلِمتَ أنّكَ لَم تُكَوّنْ نَفْسَكَ، و لا كَوّنَكَ مَن هُو مِثلُكَ”[ ميزان الحكمہ ، ج3، ص437]، “تم نہیں تھے بعد میں وجود میں آئے اور تم جانتے ہو کہ تم نے اپنے آپ کو وجود نہیں دیا اور نہ تجھ جیسے نے تجھے وجود دیا”۔ لہذا معلوم ہوگیا کہ اس کائنات کو کسی نے خلق کیا ہے، جبکہ یہ کائنات پہلے سے نہیں تھی۔
دلیل کی ضرورت دوسرے خدا کے لئے ہے
ایک آدمی جو ثنوی تھا اور دو خداوں کا قائل تھا اس نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے عرض کیا: میرا عقیدہ ہے کہ کائنات کے صانع اور بنانے والے، دو خدا ہیں، تو بنانے والے کی وحدانیت پر کیا دلیل ہے؟ حضرت امام رضا (علیہ السلام) نے فرمایا: “قولك: إنه اثنان دليل على أنه واحد، لانك لم تدع الثاني إلا بعد إثباتك الواحد، فالواحد مجمع عليه، وأكثر من واحد مختلف فيه”[ میزان الحکمہ، ج3، ص1896]، “تمہاری یہ بات (کہ کائنات کو بنانے والے دو خدا ہیں)، اس بات کی دلیل ہے کہ (کائنات کا بنانے والا) ایک ہے، کیونکہ تم دوسرے کے دعویدار نہیں ہو مگر پہلے کو ثابت کرنے کے بعد (یعنی تم، دوسرے بنانے والے کے دعویدار تب ہو جب پہلے کو مانتے ہو) لہذا پہلے (بنانے والے) پر سب کا اتفاق ہے، لیکن ایک سے زیادہ پر اختلاف ہے” (اور جس کے وجود پر اختلاف ہو، اس کا وجود ہرگز یقینی نہیں ہے، دوسرے بنانے والے کے لئے دلیل کی ضرورت ہے)۔
اللہ کی وحدانیت کی تشریح
حضرت ثامن الحجج علی ابن موسی الرضا ­(علیہ السلام) اللہ کی وحدانیت کے بارے میں فرماتے ہیں: “واحد لا بتأويل عدد”[امالي شيخ مفيد، ص255]، “اللہ واحد ہے، مگر اس کی وحدانیت عددی نہیں ہے”۔
وضاحت یہ ہے کہ اللہ تعالی کی وحدانیت، عدد والی وحدت نہیں، یعنی اللہ تعالی وہ “ایک” نہیں جس کے بعد “دو” ہوتا ہے، بلکہ اس کی وحدت وہ وجودی وحدت ہے جس کے مقابل میں عدم ہے، نہ کہ وہ وحدت جس کے مقابل میں کثرت ہے۔یعنی اللہ ایک ہے کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ بس وہی ایک اللہ ہے اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں۔
اللہ کے موجود ہونے کی تشریح
حضرت امام علی رضا (علیہ السلام)، اللہ کے موجود ہونے کے سلسلے میں فرماتے ہیں: “موجود لا عن عدم”[ امالي شيخ مفيد، ص255]، “اللہ موجود ہے، (لیکن اس کا وجود) عدم سے نہیں۔
اس فقرہ کی وضاحت یہ ہے کہ اللہ کا وجود ایسا نہیں جو عدم کے بعد ہو، بلکہ ازلی اور قدیم وجود ہے، کیونکہ مخلوقات، عدم سے وجود میں آئی ہیں تو ہوسکتا ہے کہ کسی کے ذہن میں یہ شبہ پیدا ہو کہ اللہ کی ذات بھی ایسی ہے جو عدم سے وجود میں آئی ہو، مگر عظیم توحید شناس امام، حضرت امام علی رضا (علیہ السلام) کے اس معرفت الہی سے لبریز جملہ سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ کی ذات موجود ہے بغیر اس کے کہ عدم سے وجود میں آئی ہو۔
نیز اسی طرح کا ایک اور بیان بھی امام رضا (علیہ السلام) سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا: “سبق الاوقات کونه و العدم وجودہ”[امالي شيخ مفيد، ص256]، “وہ سب زمانوں سے پہلے تھا اور اس کا وجود عدم سے پہلے تھا”۔
کیونکہ اللہ تعالی اکیلا وجود ہے اور اس کے ساتھ کسی دوسرے وجود کا تصور نہیں کیا جاسکتا تو اس بات کا صحیح ہونا ثابت ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالی، ازل سے موجود ہے، جبکہ کوئی چیز اس کے ساتھ نہیں تھی، جیسا کہ اب بھی موجود ہے اور کوئی چیز اس کے ساتھ نہیں ہے، چونکہ وجودِ محض کے وجود کے ساتھ کسی اور وجود کا اس کے رتبہ میں موجود ہونا بالکل ناممکن ہے، لیکن خداوند متعال ہر چیز کے ساتھ ہے، جیسا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے: “وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ”[ سورہ حدید، آیت 4]، ” اور وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی رہو”، کیونکہ ان دو چیزوں کی معیّت کا تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ دو چیزیں کسی تیسری چیز سے، جس میں دونوں مشترکہ ہیں، موازنہ ہوں اور اس تیسری چیز کے بغیر، دو چیزوں کی معیت بے معنی ہے، کیونکہ دو چیزوں کے آپس میں موازنہ کے لئے کوئی معیار نہیں پایا جاتا، نیز ایک چیز کا دوسری چیز سے پہلے ہونا تب صحیح جب ان دونوں کا تیسری چیز سے موازنہ ہو، مثلاً جب کہا جاتا ہے کہ رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم) کی بعثت، ہجرت سے پہلے ہے، تو یہ کہنا تب صحیح ہے جب ان دونوں کو ایک مشترک چیز مثلاً آنحضرتؐ کی حیات سے موازنہ کیا جائے۔ اگر دو چیزوں کا کوئی مشترکہ نقطہ نہ ہو تو ان کے درمیان معیت اور قبل یا بعد میں ہونا ناقابل تصور ہوگا۔

قرآن کی مختصر سورہ میں درس توحید:
ہم سب نماز، ختم کی مجلسوں، اہل قبور کی زیارتوں، سونے سے پہلے اور مختلف اوقات میں سورۂ توحید یا سورۂاخلاص یا وہی سورہ قل ھو اللہ کی تلاوت کرتے ہیں۔ ہمارے بہت سے گھروں کی دیواروں پر چار قل کے چاٹ لٹکے رہتے ہیں لیکن ہم کبھی غور کریں تو اس سورہ میں پوری توحید بیان کر دی گئی ہے:
امام جعفر صادق علیه السلام اس سورت کی عظمت کے بارے فرماتے ہیں:
”مـَنْ كـَانَ يـُؤْمـِنُ بـِاللَّهِ وَ الْيـَوْمِ الْآخـِرِ فـَلَا يـَدَعْ أَنْ يـَقـْرَأَ فـِي دُبُرِ الْفَرِيضَةِ بِقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَإِنَّهُ مَنْ قَرَأَهَا جَمَعَ اللَّهُ لَهُ خَيْرَ الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ غَفَرَ لَهُ وَ لِوَالِدَيْهِ وَ مَا وَلَدَا“
جو شخص خدا اور روز قیامت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ ہر فریضہ نماز کے بعد سورہ اخلاص کا پڑھنا ترک نہ کرے جو شخص ہر فریضہ نماز کے بعد اس سورے کو پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا و آخرت کی بھلائی جمع کر دے گا اور اس کو اس کے والدین اور اس کی اولاد کو بخش دے گا۔
(الکافی، ج 2، ص 428 رواية 11 )
توحید ذاتی کی دو قسمیں ہیں:
پہلی یہ کہ خدا کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے وہ یکتا ہے و بلا شریک ہے، سورہ اخلاص کی آخری آیت “ولم يكن له كفواً أحد” اسی مفہوم کو واضح کرتی ہیں۔
دوسری یہ کہ خدا کا کوئی جزء نہیں ہے وہ بسیط ہے اجزاء سے مرکب نہیں ہے کسی چیز سے مل کر نہیں بنا ہے؛ سورہ اخلاص کی پہلی آیت ــ “قل هو الله أحد ــ اسی معنی کو پہنچا رہی ہے۔

لہذا توحید ذاتی یعنی یہ کہ خدا کی ذات یکتا ہے اس کا کوئی مثل و مانند نہیں ہے اور وہ بسیط ہے اجزاء نہیں رکھتی، وہ ایسا اکیلا ہے کہ دوسرے کا اس کے لیے تصور ممکن نہیں، ہر چیز اس کی مخلوق ہے اور کسی چیز کو اس کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ “لَیسَ کَمِثلِهِ شَىْء؛ کوئی چیز اس کے جیسی نہیں، (سورہ شوریٰ، آیت ۱۱)
شاید اسی وجہ سے ائمہ طاہرین (ع) نے اپنی مناجات میں فرمایا ہے: “ما عَرَفناکَ حَقَّ مَعرِفَتِک؛ ہم نے ویسے تجھے نہیں پہچانا جیسا تجھے پہچاننے کا حق تھا، اس لیےکہ ممکن نہیں ہی ہے اس وجود کی حقیقت کو پہچاننا کہ جس کا کوئی مانند نہیں، کوئی چیز اس کے شبیہ نہیں اور نہ وہ کسی چیز سے قابل قیاس ہے جسکا ادراک کیا جا سکے۔
حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) سے توحیدی روایات میں سے چند روایتیں کتاب توحید صدوق کے مختلف ابواب میں ذکر ہوئی ہیں اور کتاب اصول کافی کی کتاب توحید میں بھی تفصیلی روایت بیان ہوئی ہے۔ یہ روایت اسماء الٰہی اور اس کے مشتقات کے معانی کے باب میں ساتویں روایت کے طور پر بیان ہوئی ہے۔
آپؑ کی علمی بحثوں میں سے ایک خوبصورت سوال و جواب خداشناسی اور اسماء و صفات الٰہی کے بارے میں ہے جس میں سائل آپؑ سے مکمل اور بہترین جواب کو دریافت کرتے تھے۔ ان میں سے کچھ کو ہم اس مضمون میں بیان کررہے ہیں۔
حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) بھی اپنے آباء و اجداد کی طرح مسلسل جد و جہد کرتے رہے کہ اپنے علم و معرفت کے بہتے ہوئے خالص سمندر کے ذریعے لوگوں کی افکار کو اعتقادی مسائل کے بارے میں اصلاح کریں۔
حدیثی کتب میں آپؑ کے مختصر اور معنی خیز زریں کلمات ملتے ہیں، جن میں سے بعض میں، توحید اور اللہ تعالٰی کی پہچان کے سلسلے میں آپؑ نے لوگوں کو ہدایت فرمائی۔
احد کے معنی
ابوہاشم جعفری کا کہنا ہے کہ میں نے حضرت امام جواد (علیہ السلام) سے دریافت کیا:
آیت ” قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ” میں “احد” کے کیا معنی ہیں؟
حضرت نے فرمایا” :المجمع علیه بالوحدانیّة اما سمعته یقول: «وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ»1] سورہ عنکبوت، آیت 61] ثمّ یقولون بعد ذلک له شریکٌ و صاحبةٌ”جس کی وحدانیت پر سب کا اتفاق ہے، کیا تم نے نہیں سنا کہ اللہ فرماتا ہے: “اور اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے اور آفتاب و مہتاب کو کس نے مسخّر کیا ہے تو فورا کہیں گے کہ اللہ”، پھر اس اعتراف کے بعد کہتے ہیں کہ اس کا کوئی شریک اور دوست ہے”۔
صمد کے معنی
مرحوم علامہ طباطبائی تفسیر المیزان میں نقل کرتے ہیں کہ مرحوم کلینی نے اصول کافی میں سند کے ساتھ داود ابن قاسم جعفری سے نقل کیا ہے کہ میں نے امام ابی جعفر دوم جواد الائمہ (علیہ السلام) سے عرض کیا:
لفظ ’صمد’ کے کیا معنی ہیں؟
آپ نے فرمایا: اس کے معنی سید مصمود الیہ ہیں، یعنی وہ بزرگ کہ کائنات کی تمام مخلوقات اپنی چھوٹی بڑی حاجتوں میں اس کی طرف رجوع کرتی ہیں اور اس کی محتاج ہیں۔(ترجمه الميزان، ج‏20، ص: 676)
علامہ طباطبائی فرماتے ہیں کہ اللہ کے صمد ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر چیز ذات، آثار اور صفات میں اس کی محتاج ہے اور وہ مقاصد کی انتہا ہے۔ لفظ صمد کے اصل معنی، قصد کرنا یا اعتماد کے ساتھ قصد کرنا ہے۔ جب کہا جاتا ہے: “صمده، یصمده، صمدا”، باب “نصر، ینصر” سے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ فلاں شخص نے فلاں شخص یا فلاں چیز کا قصد کیا اس پر اعتماد کرتے ہوئے۔
علامہ فرماتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ ساری کائنات کا خالق ہے اور جو چیز موجود ہے، اسے اللہ نے وجود دیا ہے، لہذا ہر چیز جس کو “چیز” کا نام دیا جاسکے، وہ اپنی ذات، صفات اور آثار میں اللہ کی محتاج ہے اور اپنی حاجت کو پورا کرنے میں اس کا قصد کرتی ہے۔(المیزان فی تفسیر القرآن، ج‏20، ص 388)

“لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ” میں “ابصار” کے معنی
تو میں نے عرض کیا:
“لاتدرکه الابصار”[ سورہ انعام، آیت 103] اللہ تعالی کے اس کلام “نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں” کے کیا معنی ہیں؟
آنحضرتؑ نے فرمایا:
” یا ابا هاشم اوهام القلوب ادقّ من ابصار العیون، انت قد تدرک بوهمک السّند و الهند و البلدان الّتی لم تدخلها، ولم تدرک ببصرک ذلک، فاوهام القلوب لاتدرکه فکیف تدرکه الابصار”۔
“اے ابوہاشم! دلوں کے وہم (تصورات اور خیالات) آنکھوں کے دیکھنے سے زیادہ گہرے ہیں، تم بعض اوقات اپنے خیال کے ذریعہ سِند و ہند اور جن شہروں کو اپنی آنکھ سے نہیں دیکھا اور ان میں داخل نہیں ہوئے، ان کو پاسکتے ہو، (اور ذہن میں اس کی شبیہ بناسکتے ہو، لیکن) دلوں کے اوہام سے اللہ کو نہیں پایا جاسکتا، تو کیسے نگاہیں اسے پاسکتی ہیں؟
اللہ تعالی کا نہ دیکھا جانا اور خیال و تصور کے ذریعہ ادراک نہ ہوپانا، مذہب تشیع کے یقینی عقائد میں سے ہے جو اہل بیت (علیہم السلام) منجملہ حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) کے واضح بیانات اور گہرے معارف کی بنیاد پر قائم ہے، لیکن دیگر مکاتب نے کیونکہ برحق ائمہ (علیہم السلام) سے دوری اختیار کرلی اور ان حضراتؑ کے عظیم معارف سے اپنے آپ کو محروم کردیا تو گمراہ عقائد کے جال میں پھنس گئے اور بعض اللہ کی جسمانیت اور دیکھے جانے کے قائل ہوگئے اور ان کی اکثریت قرآن کریم کی آیات کی غلط تفسیر کرتے ہوئے اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے کہ (نعوذباللہ) اللہ تعالیٰ قیامت کے دن نظر آئے گا۔
علامہ مجلسی (علیہ الرحمہ) نقل کرتے ہیں کہ ابوہاشم جعفری نے کہا کہ اشعث ابن حاتم نے مجھے خبر دی کہ اس نے حضرت امام رضا (علیہ السلام) سے توحید کے کسی مسئلہ کے بارے میں سوال کیا تو آپؑ نے فرمایا:
کیا قرآن پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپؑ نے فرمایا: پڑھو: “لا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ”[ سورہ انعام، آیت 103]، “نگاہیں اسے پا نہیں سکتیں اور وہ نگاہوں کا برابر ادراک رکھتا ہے”، تو میں نے پڑھا تو آپؑ نے فرمایا:
“وما الابصار؟ قلت: أبصارالعين قال: لا إنما عنى الاوهام، لا تدرك الاوهام كيفيته وهو يدرك كل فهم”. آنکھوں سے کیا مراد ہے؟ میں نے عرض کیا: آنکھ کی بصیرت مراد ہے۔
فرمایا: نہیں! صرف سوچ کی آنکھ (مراد ہے)، سوچ اس کی کیفیت کو نہیں پاسکتیں جبکہ وہ ہر سوچ کا ادراک رکھتا ہے”۔
پھر مرحوم علامہ مجلسی (علیہ الرحمہ) تحریر فرماتے ہیں کہ محمد ابن عیسی نے ابوہاشم سے اور انہوں نے ابوجعفر (امام محمد تقی علیہ السلام) سے اسی طرح نقل کیا ہے، “إلا أنه قال: الابصار ههنا أوهام العباد، والاوهام أكثر من الابصار، وهو يدرك الاوهام ولا تدركه الاوهام”، “سوائے اس کے کہ حضرتؑ نے فرمایا: یہاں ابصار، بندوں کی سوچیں ہیں، اور سوچیں، نگاہوں سے زیادہ ہیں، اور اللہ سوچوں کا ادراک کرتا ہے اور سوچیں اس کا ادراک نہیں کرتیں۔( بحار الانوار: 3/308، ح 46)

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=26142