حجۃ الاسلام مظہر حسینی جامعۃ المصطفی العالمیہ کے فارغ التحصیل ہیں اور اس وقت حوزہ علمیہ قم میں استاد کے عنوان سے دینی اور علمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
“وفاق ٹائمز” نے ان سے امام خمینیؒ کی برسی کے حوالے سے انٹرویو کیا ہے جو قارئین کی نذر ہے۔
وفاق ٹائمز: ہمارے قارئین کے لئے امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کا تعارف فرمائیں اور بتائیں کہ ان کی ابتدائی تربیت اور تعلیمی سفر کیسے انجام پائے؟
حجۃ الاسلام مظہر حسینی: امام خمینیؒ کے والد سید مصطفی مصطفوی بھی نجف اشرف سے اپنی تحصیلات مکمل کرنے کے بعد خمین میں مؤمنین اور دین اسلام کی خدمت انجام دیتے رہے اور مظلوموں کی مدد اور ظالموں اور ستمگروں کی مخالفت کے سبب امام خمینی رحمہ اللہ کی ولادت کے پانچ ماہ بعد ہے آپ ظالموں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرگئے۔ اپنے جد بزرگوار اور والد گرامی قدر کے بعد امام خمینی نے بھی علم دین حاصل کیا،. بچپن میں خمین کے جید علماء سے کسب فیض کیا پھر اراک میں آیة اللہ عبدالکریم کے خصوصی شاگرد رہے اور جب آیة اللہ عبدالکریم حائری کے قم تشریف لانے اور یہاں حوزہ کی تأسیس کے بعد آپ حوزہ علمیہ قم تشریف لائے تو بڑے ماہر و متبحر مدرس بھی تھے اور آیة اللہ حائری کے درس خارج میں شرکت بھی فرماتے تھے۔
وفاق ٹائمز: دین اور سیاست دو الگ چیزیں نہیں ہیں؟ اور کیا امام خمینی کا یہ فرمان: “دین عین سیاست ہے” سیرت انبیاء و ائمہ علیہم السلام کے موافق ہے؟
حجۃ الاسلام آغا مظہر حسینی: امام علی علیہ السلام نے ایک موقع پر امیر شام سے فرمایا کہ جسے تم سیاست کہہ رہے ہو یہ سیاست نہیں، مکاری ہے، تم سیاست کے نام پر مکاری کر رہے ہو۔ یعنی سیاست اصل چیز ہے اور مکاری اس کے نام پر ہونے والی برائی ہے. اب لوگوں کو صرف مکاری یاد ہے اور وہ سیاست کو جانتے تک نہیں ہیں۔ سیاست کو مکاری ہی سمجھتے ہیں۔ سیاست یعنی عقل سے کام لینا، عدالت قائم کرنا، ہر شخص کو اس کا حق دینا اور معاشرے میں انسانوں کے فردی اور اجتماعی حقوق کا تحفظ سیاست کہلاتا ہے اور دین اسلام نے اپنی تعلیمات میں انسانوں کی انفرادی و اجتماعی ہر دو قسم کی زندگی کا دستور دیا ہے۔ اسلام نہ فقط یہ کہ سیاست سے جدا نہیں ہے بلکہ اس دین کی بنیاد ہی سیاست ہے۔ یہ اجتماعی و سیاسی دین ہے۔ یہ ایسا دین نہیں ہے جو انسانوں کے اجتماعی حقوق و ذمہ داریوں سے غافل ہو۔ آپ تمام انبیاء خاص طور پر اولوالعزم انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کی مبارک زندگیاں دیکھ لیں تو ہمیشہ قیام عدل اور مظلوموں کے حقوق کے لئے طاغوت سے برسرپیکار نظر آئیں گے۔ یہ تمام نمائندگان الہی کی سیرت ہے اور دوسری طرف ہماری فقہی کتابوں کو دیکھ لیں لوگوں کے حقوق اور قیام عدل کے علاوہ ان میں اور کیا ہے؟ بس دین و سیاست میں کوئی جدائی نہیں ہے، دین عین سیاست ہے اور سیاست عین دین ہے۔
وفاق ٹائمز: کیا امام خمینی سے پہلے بھی شیعہ علماء میں انقلابی فکر پائی جاتی تھی اور وہ بھی طاغوت اور ظالمین کے خلاف عملی اقدامات کرتے تھے؟
حجۃ الاسلام آغا مظہر حسینی: یہ درست ہے کہ یہ عظیم انقلاب امام خمینی رحمة اللہ کے دست مبارک پر رونما ہوا لیکن یہ خیال کرنا درست نہیں کہ سابقہ علماء و مراجعین کا اس سلسلے میں کوئی کردار ہی نہیں ہے۔ انقلاب یکایک نہیں آتا کہیں سے ایک فکر پیدا ہوتی ہے، پروان چڑھتی ہے، پھیلتی ہے اور پھر بیسیوں سال گزرنے اور ہزاروں قربانیوں کے بعد ایک ظالم نظام کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ جب شیخ طوسی، فخر المحققین، آخوند خراسانی اور علامہ حلی اپنی کتابوں میں قاضی و حاکم کے شرائط لکھتے تھے اور اپنے شاگردوں کو سمجھاتے تھے تو وہ ظالم حاکم و قاضی کے خلاف تحریک چلا رہے تھے۔ یہ فقہاء جب ولایت فقیہ کے مسئلے پر گفتگو کر رہے تھے اور صالح و عادل نظام کی بات کر رہے تھے تو وہ نظام ظلم اور حکومت ظالمین کی جڑیں کاٹ رہے تھے ۔ اس کے علاوہ بھی ملا فیض کاشانی، شہید مدرس، مرزا شیرازی جیسے شیعہ علماء ہر دور میں رہے ہیں جو ظالموں سے برسرپیکار رہتے تھے۔ یہ واضح رہنا چاہئے کہ گزشتہ علماء و مراجعین نے شیعوں کی تربیت کرنے اور ایک صالح نظام کے لئے زمینہ ہموار کرنے میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کیا ہے۔
وفاق ٹائمز: ہم دیکھ رہے ہیں کہ جب سے یہ انقلاب رونما ہوا ہے، دنیا کی بڑی قوتیں اس کے خلاف سرگرم عمل ہیں اور اسے کمزور کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کر رہی ہیں، آخر اس خوف اور پریشانی کی کیا وجہ ہے؟
حجۃ الاسلام آغا مظہر حسینی: ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ انقلاب ایرانی ہے، لیکن دشمن خود اچھی طرح جانتا اور سمجھتا ہے کہ یہ انقلاب ایرانی نہیں بلکہ اسلامی اور نورانی ہے۔ اس کی شعائیں ایران تک محدود نہیں رہیں گی بلکہ دنیا کے کونے کونے تک پھیل کر ظلم و ستمگری کی بستیاں اجاڑ کر رکھیں گی اور مظلومین جہاں کو طاغوت اور مستکبرین کے چنگل سے آزادی دلائیں گی۔ اگر یہ انقلاب فقط ایرانی ہوتا تو دشمن پریشان نہ ہوتا لیکن یہ ایرانی نہیں ہے، یہ ایسا انقلاب ہے جو ظالمین کا پیچھا کرے گا۔ وہ پریشان ہوجائیں گے ان کا حق بھی بنتا ہے کہ پریشان ہوجائیں۔ ہمیں اس نکتے کو سمجھنا چاہئے۔












