وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین فرحزاد نے حضرت معصومہ سلام اللہ علیھا کے حرم میں اپنے خطاب میں حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کے زیارت نامہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: « أَوْلَى اَلنَّاسِ بِي يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ عَلَيَّ صَلاَةً فِي دَارِ اَلدُّنْيَا» قیامت کے دن برترین افراد وہ ہیں جو دنیا میں زیادہ صلوات پڑھتے رہے ہیں.
انہوں نے کہاکہ انسان ایک لامتناہی موجود ہے اور اس کا وجود روحانی اور ہمیشگی ہے؛ اگر کوئی اس اہم بات پر توجہ رکھے، تو اس کو یہ چند روزہ دنیا بہت کم اور چھوٹی لگے گی؛ لہذا ہمیشہ دھیان رکھنا چاہیے کہ اس چند روز کی دنیا میں کس محاذ پر قدم رکھا جائے؛ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے راستوں پر یا شیطانی نیتوں کے راستوں میں.
حرم مطہر کے خطیب نے انسان کی نیت کا قیامت میں اس کے حشر و نشر سے بہت گہرے تعلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا دنیا اور آخرت میں بہترین تقدیر اور سرنوشت کے متعلق تیاری کا انداز بہت اہمیت کا حامل ہے. حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا فرماتی ہیں: “مَنْ اَصْعَدَ اِلی اللہِ خالِصَ عِبَادَتِہِ” جو شخص بھی اپنی خالص ترین عبادات اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرے گا، ذاتِ اقدس الہی بھی بہترین سرنوشت اور مصلحت کو اس کیلئے رقم کر دے گا. حجت الاسلام والمسلمین فرحزاد نے کہا کہ انسانوں کے درجات ان کے خلوص کے مطابق ہیں اور اللہ تعالیٰ اعمال کو نیتوں کے پیمانے پر پرکھتا ہے. اس صورت میں صرف وہ عبادتیں جو خلوص سے انجام دی گئی ہوں، نجات کا باعث بن سکتی ہیں اور شب اول قبر اور قیامت ہمارے اکاؤنٹ میں سے صرف خالص اعمال کام آئیں گے.
انہوں نے تحصیل علم و دانش میں خلوص کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انسان کی حرکات و سکنات یا الہی ہوتی ہیں اور یا نفسانی اور الہی اعمال تھکاوٹ کا باعث نہیں بنتے اور انسان کو غم اور پریشانی سے دوچار نہیں کرتے اور کہا: « اَلأِخْلاصُ سِرٌّ مِنْ اَسْرارى اَسْتَوْدِعُهُ قَلْبَ مَنْ اَحْبَبْتُهُ مِنْ عِبادى »؛ اخلاص اللہ تعالیٰ کے رازوں میں ایک راز جسے اللہ تعالیٰ اپنے پسندیدہ بندوں کے دل میں تحفے کی صورت میں ڈال دیتا ہے. حرم کے خطیب نے امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک حدیث کا ذکر کیا کہ دو رکعت خلوص بھری نماز جنت کو انسان کیلئے واجب کر دیتی ہے اور کہا کہ حصول علم اور تحقیق میں خلوص کی بدولت شیخ عباس قمی جیسے لوگ جاودانی پا لیتے ہیں. گرانقدر کتاب مفاتیح الجنان کے لکھنے میں شیخ عباس قمی کا خلوص، جاودانی کی اہم ترین وجہ ہے جس کے باعث روئے زمین یہ کتاب اپنی ایڈیشن اور کثرت تعداد میں منفرد ہے. جو کوئی بھی اس کتاب سے دعائیں پڑھتا ہے، اس کا ثواب شیخ عباس قمی کو بھی پہنچا ہے. حجت الاسلام والمسلمین فرحزاد نے اپنی تقریر کے اختتام پر حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیھا کی محبت اور اہل بیت علیہم السلام کے مصائب پر آنسو بہانے کو قیامت کی دشواریوں میں مؤمنوں کی امید اور نجات کا ذریعہ بتایا.












