27

حجۃالاسلام ملازم حسین عالم باعمل تھے،علامہ سخاوت حسین سندرالوی

  • News cod : 4153
  • 19 نوامبر 2020 - 15:59
حجۃالاسلام ملازم حسین عالم باعمل تھے،علامہ سخاوت حسین سندرالوی
حوزہ ٹائمز | حدیث میں ہے اذا مات العالم ثلم فی الاسلام ثلمہ لا یسدھا شیئ الی یوم القیامہ ۔ نیز امام محمد باقر ع نے فرمایا عالم ینتفع بعلمہ افضل من سبعین الف عابد

حوزہ ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق حجۃالاسلام علامہ الحاج ملازم حسین باہنر کی وفات پر حجت الاسلام والمسلمین سخاوت حسین سندرالوی نے تعزیتی بیان جاری کرتے ہوئے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، مرحوم کی فیملی، گلا نوالہ کے تمام علماء و طلبہ اور مومنین مومنات کی خدمت میں تعزیت پیش کی۔

تعزیتی بیان کا تفصیلی متن مندرجہ ذیل ہے 

باسمہ تعالی

انا للّٰہ و انا الیہ راجعون

قال اللہ تعالی کل من علیہا فان و یبقی وجہ ربک ذوالجلال والا کرام، قال رسول اللہ ص موت
یہ خبر پڑھ کر پاؤں تلے سے زمین نکل گئی کہ عزیزم آغائے مولانا ملک ملازم حسین باہنر گل فرزند برادرم ملک محمد شریف گل مرحوم راہئی اجل ہوئے۔ مرحوم عالم باعمل تھے۔ میرے بر خورداروں میں سے تھے۔ میں فقیر ہی نے انہیں مدرسہ میں داخل کرایا تھا مجھے یاد ہے آج سے تقریباً چالیس سال قبل جب گلا نوالہ میں رمضان پڑھانے گیا وہاں کے جن ملک صاحبان کے بچوں نے اسکے بعد عزیز المدارس چیچا وطنی میں داخلہ لیا انمیں سے ایک یہی عزیزی مولانا ملازم حسین تھے۔ جو بعد میں قُم سے فارغ التحصیل ہوئے ۔

۱۲۷ حسین آباد گلا نوالہ مومنین کا گاؤں ہے اور وہاں کی مجالس اور دینداری مشہور زمانہ ہے ۔ آغائے باہنر کے والد ملک محمد شریف مرحوم بہت ہی بھلے مانس مومن ،صوم و صلات کے پابند انسان تھے جن کی نیکیوں کا بدلہ اللہ نے انہیں انکے صاحبزادے کو ایک صالح اور نیک عالم دین بنا نے صورت میں دیا۔ آپ انکے والد کی مجھ سے محبت کا اندازہ یہاں سے لگا ئیں کہ عزیز ملازم حسین کے فرزند یعنی اپنے پوتے کا نام انہوں نے میرے نام پر سخاوت حسین رکھا ۔ اللہ ہردو کے درجات متعالی فرمائے ۔ عزیزم ملازم حسین نے درس خارج تک تعلیم حاصل کی اور بہت ہی فاضل شخصیت قرار پائے۔

عزیز المدارس کے بانی مدرسہ شیخ عزیز، علامہ قاضی نیاز تھے اور خدمت کرنے والوں میں استاذی علامہ محمد رضا غفاری۔ پرنسپل ۔ والد مرحوم مولانا ملک عطاءاللہ اور برادر عزیز مولانا ملک الفت حسین، مولانا اظہر حسن شاکری اور مولانا ضمیر نقوی سر فہرست تھے ۔ آغائے باہنر واقعا حجت الاسلام والمسلمین کے درجہ پر فائز ہوئے۔ انہوں نے لاہور اور مری میں تدریسی فرائض بھی انجام دیے ۔ اب تو نجف اور قُم میں گلا نوالہ کے بیسیوں طلبہ زیر تعلیم ہیں تب تک صرف مولانا اعجاز حسین گلاں والہ کے پیش نماز تھے۔ وہی اکیلے عالم تھے ۔

عزیزم آغا جوادی اور آغا ثقلین بھی اسی دوران داخل مدرسہ ہوئے اور مرحوم آغائے تر ابی بھی آغائے ترابی بھی رحمت خدا میں جا چکے ہیں ۔ گلا نوالہ کے حاجی نور دین، حاجی چراغ ،حاجی قائم دین اور زوار حیات کو بھی اللہ غریق رحمت فرمائے جنکی محنتوں اور نیکیوں کے باعث گلا نوالہ ایک مرکزی حیثیت اختیار کر گیا میں نے گلا نوالہ میں تقریباً سینکڑوں مجالس پڑھیں کئی سال عشرہ محرم پڑھتا رہا۔ گلا نوالہ میرا گھر شمار ہوتا ہے ۔پہلے سفر میں جب میں گلا نوالہ گیا تو میں قُم سے آیا تھا میرے ہمراہ عزیزم آغائے رفاقت مرحوم بھی تھے اور ایک سال کے محرم کے دوران میں برادر عزیز علامہ نصیر الرضا صفدر کو بھی لے گیا ابھی وہ مدرسہ میں داخل نہ ہوئے تھے جو آج مدرس حوزہ اور صاحب نظر ہیں ۔ گلا نوالہ کے طلبہ قُم اور نجف یا پاکستان میں جہاں جہاں ہیں بہت محنتی، نیک خدمت گزار ، متواضع اور محبت والے ہیں ۔ میں اس مصیبت پر امام زمانہ عج ، رہبر معظم ،مراجع کرام ، اساتید و طلاب حوزات علمیہ ، مدارس دینیہ ، مرحوم کی فیملی، گلا نوالہ کے تمام علماء و طلبہ اور مومنین مومنات کی خدمت میں تعزیت پیش کرتا ہوں۔حدیث میں ہے اذا مات العالم ثلم فی الاسلام ثلمہ لا یسدھا شیئ الی یوم القیامہ ۔ نیز امام محمد باقر ع نے فرمایا عالم ینتفع بعلمہ افضل من سبعین الف عابد
ابھی ہم اپنے بزرگوار علامہ قاضی نیاز حسین کی مصیبت کونہ بھولے تھے کہ یہ مصیبت آن پڑی
اللہ آغائے باہنر مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور متعلقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین یا ر ب العالمین
العبد الفقیر الحقیر

سخاوت حسین سندرالوی

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=4153