31

شیع کا سیاسی نظریہ (۶)

  • News cod : 4583
  • 30 نوامبر 2020 - 10:55
شیع کا سیاسی نظریہ (۶)
حوزہ ٹائمز| استعمار نے جس طرح مسیحیت کے دین اور آئین میں تبدیلی کر کے سیاست کو دین سے جدا کر دیا تھا وہ دین اسلام کے ساتھ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکا

انقلابِ اسلامی ایک نعمتِ عظمی
سرزمین ایران میں انقلاب اسلامی کی کامیابی نے استعمار کی نیندیں اڑا دیں اور اس انحرافی سوچ و فکر کے مقابلے میں مکتب اسلام کی حقیقی تعلیمات کو پیش کیا۔
اگرچہ غربی فکر کا جال اس قدر پھیل چکا تھا کہ مکتب اسلام خصوصا مکتب تشیع میں عمومی سوچ اور اسلامی ممالک میں بسنے والا لبرل اور قوم پرست طبقہ دین اور سیاست میں کامل جدائی کی فکر کا حامل تھا۔
ایران سمیت دیگر اسلامی ممالک میں نہ دینی طبقہ سیاست کے متعلق کوئی بات کرتا اور حکومت کے ظالمانہ اور شیطانی اعمال پر آواز بلند کرتا اور نہ لبرل طبقہ مفادات کے حصول کے لیے غیر اسلامی اور غیر انسانی طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے کسی قسم کی قباحت محسوس کرتا۔
ایسے میں انقلابِ اسلامی کی کامیابی نے ان شیطانی اور انحرافی افکار کے مقابلے میں مکتب اسلامی کی حقیقی ترجمانی کرنے والا نظریہِ حکومت پیش کیا جسے ولایت فقیہ سے جانا جاتا ہے۔
نظریہ ولایت فقیہ کے اثرات
نظریہ ولایت فقیہ کی اساس و بنیاد عقلی دلیلوں کے علاوہ قرآن کریم، احادیث و سیرتِ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) وآئمہ معصومین (علیہم السلام) ہے۔
ولایت فقیہ نے الہی حکومت کا تصور پیش کیا جس کے پیش نظر معاشروں میں عدل و انصاف قائم کرنا اور ظلم و جور کا خاتمہ ہے۔
ولایت فقیہ کا نظریہ عالم اسلام بالخصوص مکتب تشیع میں دین اور سیاست میں جدائی کے انحرافی نظریہ کے توڑ کا سبب بنا اور آہستہ آہستہ عوام الناس دین اور سیاست کے باہمی تعلق کے قائل ہوتے چلے گے جس کا اثر حکومتِ اسلامی کی تشکیل کی صورت میں برآمد ہوا۔
فرزندانِ اسلام نے اپنی انتھک محنت و کوشش کے ذریعے دین اسلام کے اس منطقی اور عقلی نظریہ کی بھر پور نشر و اشاعت کی اور اسلام کی جامعیت کو آشکار کرتے ہوئے معاشرتی و سیاسی مسائل میں دین اسلام کو راہ حل کے طور پر متعارف کروایا۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ استعمار نے جس طرح مسیحیت کے دین اور آئین میں تبدیلی کر کے سیاست کو دین سے جدا کر دیا تھا وہ دین اسلام کے ساتھ اس کوشش میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

مرتب:فیاضی

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=4583