3

مختصر حالات زندگی مولانا سید باقر حسین نقوىؒ

  • News cod : 55522
  • 17 می 2024 - 17:54
مختصر حالات زندگی مولانا سید باقر حسین نقوىؒ
حجت الاسلام مولانا سید باقر حسین نقوی 1937 میں تحصیل علی ضلع مظفر گڑه کے ایک آبائی گاوں چاہ پیر بخش والا میں سید الاعلام پیر سید غلام سرور نقوى مرحوم کے گھر پیدا هوئے آپ کے والد ایک دین دار اور انتہائی سادگی پسند شخصیت کے مالک تھے۔

حجت الاسلام مولانا سید باقر حسین نقوی 1937 میں تحصیل علی ضلع مظفر گڑه کے ایک آبائی گاوں چاہ پیر بخش والا میں سید الاعلام پیر سید غلام سرور نقوى مرحوم کے گھر پیدا هوئے آپ کے والد ایک دین دار اور انتہائی سادگی پسند شخصیت کے مالک تھے اللہ تعالی نے دو فرزند عطا فرمائے دونوں کو امام زمانہ عج کا سپاہی بنایا آپ اور محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی نور اللہ مرقدہ

دینی تعلیم کا آغاز

ابتدائ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے چچا بزرگوار استاد العماء حضرت آیت اللہ العلامہ سید محمد یار نقوی النجفی سے دینی تعلیم کا آغاز کیا ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد حوزہ علمیہ جامعہ المنتظر لاہور 2 اپنے برادر بزرگوار محسن ملت ابوزر زماں حضرت علامہ سید صفدر حسین نجفی کی خدمت میں گئے اور لمعہ و اصول تک کی تعلیم حاصل کی اور اس دوران آپ حوزہ علمیہ قم المقدس میں بھی تشریف لائے لیکن حالات سازگار نا ہونے کی وجہ سے وہاں زیادہ دیر نا رہے سکے

آپ کے مشہور اساتذہ

مربی العلماء علامہ سید محمد باقر ھندی چکڑالوی
استاذالعلماء علامہ سید محمد یار شاہ نجفی
شیخ الجامعہ علامہ اختر عباس نجفی
محسن ملت ابو زر زمان علامہ سید صفدر حسین نجفی

عملی زندگی کا آغاز

استاذالعلماء علامہ سید محمد یار شاہ نجفی نور اللہ مرقدہ کے حکم پر پاکستان کی مرکزی علما گر دینی درسگاہ مدرسہ علمیہ دارلهدی محمدیہ علی پور میں درس و تدریس کا آغاز کیا اور مدرسہ کے اندرونی و بیرونی زمداری اٹهائی اور اس کے ساتھ ہی علی پور کی مرکزی مسجد و حسینیہ کے امام جمعہ والجماعت کے فرائض بهی سر انجام دینے لگے اس کے ساتھ ساتھ علامہ بھر کے مومنین کی تمام تر ضروریات کو بھی پورا کرتے آپ کے ایک شاگرد رشید حجت الاسلام والمسلمین مولانا محمد حسین جعفری صاحب فرما رہے تھے کہ قبلہ سید باقر حسین نقوى حفظہ اللہ پہلی مرتبہ ہمارے گاوں بستی حیدریہ حمزہ والی تشریف لائے اور پہلی مرتبہ علی ولی اللہ کی اذان دی اور نماز عید ادا کی اور اس زمانہ میں اپنی جیب سے ایک سو روپیہ دیا کہ اس سے سپیکر خرید کر علی ولی اللہ والی اذان دیا کرو اسی کے بعد کافی دفعہ نماز جمعہ کے لیے تشریف لے جاتے تھے یہ انکی محنت تھی کہ آج الحمداللہ تقریبا پورا گاوں شیعہ ہے اور وہاں ایک مرکزی جامعہ مسجد اور ایک دینی درس گاہ ہے جس میں آپ ہی کے ایک شاگرد بعنوان مدیر خدمات سرانجام دے رہے ہیں اپنی پوری زندگی خدمت دین اسلام میں گزاری جو کے تا حال جاری هے آپ نے ہمیشہ سادگی کو ترجیح دی مسائل کی وجہ سے آپ جس طرح چاہتے تھے اس طرح اپنی علمی تشنگی تو نہیں بجھا سکے لیکن جو پڑھا اس سے کئی گنا زیادہ عمل کیا اور بہت سارے تشنگان علوم آل محمد کی علمی پیاس بجھائی آپ نے کافی تعداد میں لوگوں کو مذہب اہلبیت کی طرف راغب کیا اور شیعہ کیا استاذالعلماء کی وفات کے بعد انکے فرزندان حجج الاسلام والمسلمین علامہ حافظ سید محمد حسنین نقوی و علامہ حافظ سید محمد ثقلین نقوى شھید کے ساتھ مدرسہ علمیہ دارالھدی محمدیہ میں خدمات انجام دیتے رہے شھید علامہ حافظ سید محمد ثقلین نقوى کی شہادت کے بعد برزگی کی وجہ سے آپ نے مدرسہ سے خدا حافظی کہے کر اپنے آبائی گاؤں چاہ پیر بخش والا میں چلے گئے اور وہاں پہ بعنوان امام جمعہ خدمات انجام دینی شروع کر دی۔

مدرسہ علمیہ باقر العلوم ع کی تائسیس

عرصہ 67 سال کی محنت کرنے کے بعد الحمداللہ اپنے برادر بزرگوار سرکار محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی کی خواہش کو پورا کرتے ہوئے ( جو وہ اپنی وفات سے چند ماہ قبل چاہتے تھے کہ یہاں ایک مدرسہ کی بنیاد رکھی جائے زمین کا بھی تعین کیا گیا لیکن زندگی نے اجازت نا دی اور قبلہ محسن ملت رہ کا خواب شرمندہ تعبیر نا ہوسکا ) رجب المرجب کے پر برکت مہینہ میں مدرسہ علمیہ باقر العلوم علیہ السلام کی بنیاد رکھی جس میں تقریبا ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے لیے 15 طلاب زیر تعلیم ہیں۔

اولاد

آپ نے اپنی ساری اولاد ( 5 بیٹے اور 6 بیٹیاں ) کو جہاں دنیوی علوم کے زیور سے آراستہ کیا وہاں سب کو مکتب امام جعفر صادق علیہ السلام کا طالب علم بنایا آپ کے بڑے فرزند سید قاسم علی نقوى عرصہ دراز کراچی میں واقع ایک مسجد میں بعنوان مؤذن اور پیش نماز کی خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں اور گزشتہ سال انتقال فرما گئے ہیں دوسرے فرزند مولانا سید ناصر عباس نجفی آپ ہی کی تائسیس کردہ دینی درس گاہ جامعہ علمیہ باقر العلوم علیہ السلام میں بعنوان مدیر خدمات سرانجام دیتے رہے اور مزید تعلیم کے لیے حوزہ علمیہ قم المقدس میں زیر تعلیم ہیں آپ کے ایک فرزند مولانا سید عامر عباس نقوى مرحوم 31 مارچ 2018 کو حوزہ علمیہ قم المقدس میں داعی اجل کو لبیک کہتے ہوئے وفات پاگئے ہیں آپ کے فرزند مولانا سید طاہر عباس نقوى قم المقدس میں حصول علم میں مشغول ہیں اور مولانا سید حسن رضا نقوی لاہور میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

شاگردان

حجت الاسلام و المسلمین مولانا محمد کاظم شھیدی
حجت الاسلام والمسلمین مولانا محمد حسین جعفری
حجت الاسلام مولانا محمد اسماعیل صاحب
مولانا سید امجد حسین نقوى صاحب
مولانا حضور بخش حیدری صاحب
مولانا سید علی نقی نقوى صاحب (سامٹیہ لیہ)
حجت اسلام مولانا بلال حسین جعفری صاحب
مولانا خلیل احمد کمیلی صاحب
مولانا سید یوسف رضا نجفی
مولانا سید صابر حسین نقوی

دعا ہے خداوند منان بحق اهلبیت علیہ السلام قبلہ کے درجات بلند فرمائے اور ان کی خدمات دینیہ کو قبول فرمائے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=55522