24

ملت تشیع کو اپنے عقائد کو مستحکم کرنے اورعلماء دین سے مزید دینی علوم سے روشناس ہونے کی ضرورت ہے،امام جمعہ وسن پورہ لاہور

  • News cod : 8748
  • 22 ژانویه 2021 - 10:49
ملت تشیع کو اپنے عقائد کو مستحکم کرنے اورعلماء دین سے مزید دینی علوم سے روشناس ہونے کی ضرورت ہے،امام جمعہ وسن پورہ لاہور
پردے کے متعلق یہ بات پھیلانا کہ یہ طالبان کی خواتین کا لباس ہے۔ایسا کہنا اور ان سے نسبت دینا غلط ہے۔جبکہ شریعت دینی ہمیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔۔کہ ہم پردہ کریں تاکہ آخرت میں آل محمد علیہم السلام سے شفاعت کا باعث بن سکیں

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق قدیمی جامع مسجد علامہ حائری وسن پورہ لاہور کے خطیب امام جمعہ والجماعت مولانا محبوب حسین عرفانی نے اپنے خطبہ جمعہ میں کہا کہ حضرت فاطمتہ الزہرا سلامہ اللہ علیہا خواتین کیلیے ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔آپ کی زندگی خواتینِ کیلیے باعث شرف اور بہترین نمونہ عمل ہیں۔آپ دین محمدی میں ایک مرکزی حیثیت رکھتی ہیں۔اسلیے جب بہی اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر سے گھر واپس آتے تھے تو سب سے پہلے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے گھر تشریف لے جاتے تھے۔اور جب حضرتِ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا پیغمبرِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گہر تشریف لاتیں۔تو آپ اپنی بیٹی کیلیے اپنی جگہ سے کہڑے ہوجایاکرتے تھے۔اور اپنی جگہ پر سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا کو بٹہایا کرتے تہے۔اس طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتلایا کہ ایک خاتون کا دین اسلام میں کتنا بلند مقام ومرتبہ ہے۔یہ ہے مقام حضرت فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا۔

انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں خداوند متعال فرماتا ہے کہ ان شرک لظلم عظیم ترجمہ: یقیناً شرک بہت بلند ظلم ہے۔
حضرتِ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں: خداوند سبحان نے شرک کو (مختلف امور میں) حرام کردیا تا کہ سارے لوگ خالق حقیقی اللہ تبارک وتعالیٰ کے سامنے سرتسلیم خم کریں اور سعادت و خوشبختی کے مقام پر پہنچیں؛ پس تقوائے الہی اپنانا اور خدا کا خوف رکھنا جیسا کہ تقوائے الہی اور خدا کے خوف کا حق ہے؛ اور مسلمان ہوئے بغیر مت مرنا۔
کلام الہی اور حضرتِ فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کے قول سے ہم بآسانی یہ درک کرسکتےہیں۔کہ اللہ تبارک وتعالی کے ساتہ کسی کو شریک ٹہرانا کتنا بڑا گناہ کبیرہ ہے۔

جبکہ ہم آئمہ معصومین علیہم السلام کے مقام کونعوذباللہ خدا کے مقام کے برابر لانے پر تلے ہوتے ہیں۔یہ کہاں کی منطق ہے؟ یہ کہاں کا انصاف ہے؟یہ کہاں کی شریعت ہے؟ جو دین میں داخل کرنے پر تلے ہوۓ ہیں۔ کیا آپ لوگوں نے دعاۓ کمیل میں امام علی علیہ السلام کو یارب یارب کہ کرخالق حقیقی رب کائینات سے التجا کرتے ہوۓ نہیں سنا۔مولا علی علیہ السلام نعوذباللہ اگر خدا ہیں ۔تو دعاۓ کمیل میں مولا کن سے التجا فرمارہے ہیں۔کیا مولاعلی علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا :اے میرے رب میری عزت کے لئے یہی کافی ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں۔ اور میرے فخر کے لئے یہی کافی ہے کہ تو میرا پروردگار ہے۔جبکہ معاشرے میں لوگ نعوذباللہ امام علی علیہ السلام کو رب کہنے پر تلے ہوۓ ہیں۔جو کہ قول معصومین علیہم السلام و حکم الہی کی سراسر حکم عدولی کرنے کے مترادف ہے۔اور یہی غلطیاں ہمارے آنی والی نئ نسلوں کو گمراہی کی تاریکی میں دھکیلنے کا سبب بن رہی ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ملت تشیع کو اپنے عقائد کو مستحکم کرنے اورعلماء دین سے مزید دینی علوم سے روشناس ہونے کی ضرورت ہے۔
حضرت فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں: تم میں سے بہترین عورت وہ ہے جو نہ نامحرم مرد کو دیکھے۔اور نہ ہی نامحرم مرد اسے دیکھے۔لہذا پردہ کرنا ہر خاتون کی زینت اور حق ہے۔اس سے خواتین کی عصمت محفوظ رہتی ہے۔لہذا پردہ برے لوگوں کی نظروں سے خواتین محفوظ رکہتی ہے۔پردے کے متعلق یہ بات پھیلانا کہ یہ طالبان کی خواتین کا لباس ہے۔ایسا کہنا اور ان سے نسبت دینا غلط ہے۔جبکہ شریعت دینی ہمیں اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔۔کہ ہم پردہ کریں تاکہ آخرت میں آل محمد علیہم السلام سے شفاعت کا باعث بن سکیں۔

 

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=8748