تحریر:محمد حسن جمالی
یہ شیعہ احادیث کے جوامع اولیہ اور کتب اربعہ میں سے دوسری کتاب ہے-اس کے مولف کا نام ابوجعفر محمد بن علی بن حسن بن موسی بن بابویہ قمی معروف شیخ صدوق ہے-اس کتاب میں مولف نے فقہی ابواب سے مربوط ان تمام روایات کو جمع کی گئی ہیں جو اپنی نظر میں معتبر تهیں اور وہ احکام شرعی کے استنباط کے لئے منابع شمار ہوتی تهیں-مولف نے اس کتاب میں اپنے فقہی نظریات اور فتوے کے روائی مستندات ذکر کے گئے ہیں، یعنی اسے فقہ استنباطی کے بجائے فقہ روائی کی روش پر لکهی گئی ہے-اس سلسلے میں وہ خود فرماتے ہیں:میں نےاس کتاب میں صرف ان روایات کو نقل کی ہے جو میرے نذدیک معتبر اور صحیح ہیں،میں انہیں کی بنیاد پرفتوی دیتا ہوں اور میرا عقیدہ یہ ہے کہ یہ کتاب میرے اور خدا کے درمیان حجت ہے-
یہ کتاب چهے سو ساٹهہ ابواب پر مشتمل ہے،طہارت کی بحث سے لیکر حدود ودیات تک تمام فقہی ابواب اور مباحث اس میں موجود ہیں-تقریبا چهے ہزارحدیث اس میں جمع آوری کی گئی ہے-پانچ سو راویوں اور شیخ الاحادیث کا ذکر کیا گیا ہے-شیخ صدوق نے اپنی اس کتاب میں تقریبا دوہزار مسندہ اور دوہزار مرسلہ روایات کو جمع کی ہے-البتہ ان کی مرسلہ روایات کے معتبر ہونے کے حوالے سے یہ جملہ معروف ہے:مراسیل الصدوق کمراسیل ابن ابی عمیر فی الحجیه و الاعتبار؛یعنی حجیت اور معتبر ہونے کی حیثیت سے شیخ صدوق کی مرسلہ روایات ابن عمیر کی مرسلہ روایات کی مانند ہیں-ابن عمیر جیسے افراد فقط امام معصوم سے روایت نقل کرنے والے معتبر راویوں سے ہی روایات نقل کیا کرتے تهے-
اس کتاب کی اہمیت کےلئے یہ جملہ کافی ہے کہ کوئی بهی فقیہ ومجتہد اس کتاب سے بے نیاز نہیں- شیخ صدوق کی یہ ارزشمند کتاب بظاہر خواص کے لئے ایک فقہی مجموعہ ہے،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس میں انسان کی زندگی کے لئے مفید اخلاقی،تربیتی ،عقیدتی اورتاریخی فراوان نکات بهی پائے جاتے ہیں-یہ عظیم کتاب 3913 مُسْنَد حدیث اور 2050 مُرْسَل حدیث مجموعا 5963 احادیث پر مشتمل ہے-
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شیخ صدوق نے کتاب من لا یحضرہ الفقیہ تالیف کیوں فرمائی؟اس کا محرک کو نسی چیز بنی؟ اس سلسلے میں وہ خود فرماتے ہیں:ایک سفر میں خدا کے اولیاء میں سے ایک متقی وپرہیزگار عالم دین سے آشنا ہوا،اس کی رفاقت میرے لئے باعث شادمانی ہوئی،وہ سید نعمت سے مشہور تهے-ایک دن سید نعمت نے مجهہ سے کہا:محمد بن زکریّای رازی نے طب کے موضوع پر من لا یحضرہ الطبیب کے نام سے ایسی شاندار کتاب لکهی ہے جو ان مواقع پر مریضوں کے لئے راہنمائی فراہم کرسکتی ہے جہاں انہیں طبیب دسترس نہ ہوسکے-یہ کتاب موضوع کے اعتبار سے جامع ہے اور نیازمند افراد اس سے بهر پور استفادہ کرسکتے ہیں- اس کے بعد سید نعمت نے من لایحضرہ الفقیہ کے نام سے فقہ اور شرایع و احکام سے متعلق ایک جامع کتاب لکهنے کا مجهہ سے تقاضا کیا تاکہ جو لوگ فقہآء ومجتہدین تک رسائی نہیں رکهتے وہ اس کتاب سے استفادہ کرسکیں –
اس کتاب کے آخر میں مولف نے مشیخة الفقیہ کے نام سے اپنے اسناد کا ذکر کیا ہے-یعنی کتاب کے متن میں فقط ان راویوں کا نام ذکر کیا ہے جنہوں نے امام سے روایت نقل کی ہیں (راوی اولی)اور مشیخہ والے حصے میں ان راویوں سے متعلق اپنے اسناد کو نقل کیا ہے تاکہ روایات،مرسلے کی حالت سے خارج ہوکر مسند بن جائیں-اس کتاب کے مشیخے کی بحث پر علماء نے خاصی توجہ دی ہیں-یہی وجہ ہے کہ اس حوالے سے بہت ساروں نے شروحات لکهی ہیں جیسے صاحب معالم نے ترتیب مشیخه من لا یحضره الفقیه لکهی-
کتاب من لایحضرہ الفقیہ کی بعض خصوصیات یہ ہیں:
١)اختصار کے پیش نظر روایات کے اسناد حذف ہوچکے ہیں البتہ وہ کتاب کے آخری حصے (مشیخہ)میں ذکر ہوئے ہیں-
٢)کتاب کے مقدمے میں مولف نے اس بات کا اظہار کیاہے کہ اس کتاب میں ان روایات کی جمع آوری کی گئی ہے جن کی بنیاد پر میں نےفتوی دیا ہے نیز یہ بهی کہا ہے کہ ان روایات کو مشہور ومعتبر کتب سے نقل کیا ہے-
٣)ابواب کے ذیل میں روایات متعارضہ کو ذکر نہیں کیا گیاہے-
٤)کهبی نص حدیث ذکر کئے بغیر روایت کے مضمون کی بنیاد پر فتوی دیا ہے-
من لا یحضرہ الفقیہ پر لکهی گئی بعض شروحات اور حواشی کے نام:
)التنبیه علی غرایب من لا یحضره الفقیه مولف:صیمری مفلح بن حسن بن رشید بن صلاح (م 873 ق)
٢)معین النبیه علی رجال من لا یحضره الفقیه مولف:یاسین بن صلاح الدین بحرانی (م 1140 ق)
٣)روضة المتقینفی شرح من لا یحضره الفقیه
٤)اللوامع القدسیه یا اللوامع الصاحب قرانیه مولف: مولی محمد تقی مجلسی (علامه ی مجلسی کے والد)
٥)شرح سید محمدصالح خاتون آبادی (م 1116 ق)
٦)معاهد التنبیه فی شرح من لا یحضره الفقیه تالیف:بو جعفر محمدبن حسن بن زین الدین.
٧) ارتیاد ذهن النبیه فی شرح اسانید من لا یحضره الفقیه مولف:شیخ عبدالله بن صالح بحرانی
٨)معراجالنبیه فی شرح من لایحضره الفقیه محدث بحرانی.
٩) شرح مولی محمد صالح مازندرانی( علامّه مجلسی کے داماد)
١٠) شرح شیخ حرّ عاملی
جاری












