40

وارثانِ انبیاء ( مقام و منزلت اور ذمہ داری)

  • News cod : 11068
  • 20 فوریه 2021 - 14:25
وارثانِ انبیاء ( مقام و منزلت اور ذمہ داری)
نبی کی معنوی وراثت سے مراد، وہ حکمت و دانائی، علم و معرفت، اور انسان کو درجہ کمال تک پہنچانے کے لئے تربیت کے وہ سنہری اصول ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر کوئی بھی انسان منزل کمال تک پہنچ کر زندگی کے اصل ہدف کو پا سکتا ہے

تحریر: محمد اشفاق

انبیاء کرام علیہم السلام کی وراثت کو دو طرح سے تصور کیا جا سکتا ہے، ایک مادی وراثت، اور دوسری معنوی وراثت، مادی وراثت کسی بھی نبی کا وہی ترکہ ہوتا ہے، جو وہ اپنی رحلت کے بعد چھوڑتا ہے، اور یہ ترکہ نبی کے اہل و عیال میں بالکل اسی طرح سے تقسیم ہوتا ہے، جیسے کہ کسی بھی عام انسان کا ہوتا ہے، ایک انسان ہونے کے ناطے نبی کے ترکے کے فقہ حنیف میں وہی احکام ہیں، جو ہر انسان کے لئے ثابت ہیں، اور نبی کی مادری وراثت کے حقدار بھی صرف ان کی اولاد اور اہل و عیال ہیں، ان کے صحابہ یا امت کے لئے اس وراثت میں کوئی بھی حق حاصل نہیں ہے۔

اور نبی کی معنوی وراثت سے مراد، وہ حکمت و دانائی، علم و معرفت، اور انسان کو درجہ کمال تک پہنچانے کے لئے تربیت کے وہ سنہری اصول ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر کوئی بھی انسان منزل کمال تک پہنچ کر زندگی کے اصل ہدف کو پا سکتا ہے۔ روایت کے رو سے اس معنوی وراثت کے حقدار علماء ہیں، اور اسی حق کی طرف اس روایت میں اشارہ کیا گیا ہے، جس کو فریقین نے اپنی کتابوں میں تواتر کے ساتھ ذکر کیا ہے، اس روایت میں ارشاد ہوا: ( العلماء ورثة الأنبياء)، علماء کرام انبیاء عظام علیہم السلام کے وارث ہیں، یعنی انبیاء کرام علیہم السلام نے اپنے پیچھے علم و معرفت، حکمت و دانائی، اور انسانی تربیت کے جس ارث عظیم کو چھوڑا ہے، اس کو حاصل کرنے، سمجھنے، عمل کرنے، اس کی حفاظت کرنے، اور معاشرے میں اس کو رواج دینے والے علماء کرام ہیں۔

اس لحاظ سے اگر غور و فکر کیا جائے، تو علماء کو دین حنیف میں بہت بڑی مقام و منزلت حاصل ہے، لوگوں کی یہ صنف خدا کے ہاں نہایت قابل قدر ہے، خداوند متعال نے آخرت میں ان کے لئے مقام عظیم رکھا ہے، دنیا میں عزت و شرف اور آخرت میں سرمدی کامیابی انہی کا طرہ امتیاز ہے، قرآن مجید میں ایسی کئی آیات اور دسیوں روایت موجود ہیں، جن میں علماء کے مرتبے اور شان و منزلت کو بیان کیا گیا ہے، جو ایک طرف پوری انسانیت کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے، کہ اس ارث عظیم کے وارث ہونے کی کوشش کی جائے، جس کی لازمی شرط علم و معرفت کے زیور سے آراستگی ہے، تو دوسری طرف یہ مقام و منزلت اس بات پر واضح دلیل ہے، کہ علماء کی ذمہ داری بھی انتہائی اہم، حساس اور بہت بڑی ہے، کیونکہ جتنا مقام بلند ہو، اسی حساب سے ذمداری بھی سنگین اور اہم ہوا کرتی ہے۔

لہذا علماء کی سب سے پہلے ذمہ داری یہ ہے، کہ وہ حسب استعداد، اور حتی الوسع یہ کوشش کریں، کہ ان کا طرز زندگی کردار انبیاء کا آئینہ دار ہو، ان کی شخصیت ایسی ہو، کہ جسے دیکھنے والے کے ذہن میں انبیاء کرام علیہم السلام کی یاد تازہ ہو جائے، جس کی زندگی کا مشاہدہ کرنے کے بعد انبیاء کرام قربانیوں کا احساس ہو، ان کی مشکلات کا اندازہ ہو سکے، اور انسانیت کی خاطر انجام دی جانے والی خدمات کی تصویر آنکھوں میں پھیر جائے، بلاشبہ یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے، جسے نبھانے کے لئے، جہاں مدد خدا، اخلاص نیت، اور توکل کی ضرورت ہے، وہیں اولو العزمی، حکمت و بصیرت، صبر و استقامت اور انتھک محنت جیسے عوامل کا ہونا بھی ضروری ہے۔

اسی تناظر میں جب ہم سیرت انبیاء پر نگاہ کرتے ہیں، تو ہم دیکھتے ہیں کہ کسی بھی نبی نے کوئی بھی کام اپنے نام و نمود، دنیاوی جاہ و جلال، اور لوگوں پر مسلط ہونے کی خاطر نہیں کیا، بلکہ ان کی ساری زحمتیں اللہ کی خاطر تھیں، اور انسانیت کے درد ان کے اس کٹھن سفر کے لئے ایندھن کا کام کرتے تھے، لہذا جہاں بھی کسی عالم نے اجتماعی کام کو اللہ کی خاطر، اور انسانوں کو منزل کمال تک پہنچانے کے لئے کیا، تو اللہ نے اس عالم کو اسی طرح سرخرو کیا جس طرح سے اس نے اپنے انبیاء کو سرخرو کیا، اور جہاں اجتماعی کام کا مقصد نام و نمود اور دنیاوی شہرت ہو، وہاں سمجھ لینا کہ وراثت کہ کی اہلیت نہیں۔

بالکل اسی طرح سے انبیاء کرام کی پوری تاریخ میں نہیں ملتا کہ انہوں نے برے انسانوں سے نفرت کی ہو، بلکہ وہ ہمیشہ برائیوں سے نفرت کرتے رہے، ان کے تمام تر جہاد کا مقصد بروں کا خاتمہ کرنا نہیں تھا، بلکہ ان کی برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینک کر ان کو الہی انسان بنانا تھا، اسی لئے ہمیشہ ان کے پیغام میں درد، لہجے میں شرینی اور سلوک میں حکمت و بصیرت نظر آئی، لہذا عالم بھی وہی سچا وراث بن سکتا ہے، جس کے ہاں نفرت برائیوں سے ہو، جو مخلوق خدا کو عزت و کرامت و احترام کی نگاہ سے دیکھے، نہ کہ انسانوں سے نفرت کرے، شاعر مشرق نے بعض واعظوں کی انسانیت سے نفرت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے تعجب بھرے لہجے میں کہا:

عجب واعظ کی دینداری ہے، یارب!
عداوت ہے اسے —- سارے جہاں سے

بالکل اسی طرح انبیاء کرام علیہم السلام کی سیرت طیبہ کا ایک اہم سبق جو یاد رکھنے کے قابل ہے، وہ یہ ہے کہ انہوں نے انسانی معاشرے میں کبھی بھی گروہ بندی، تقسیم اور دوریوں کو رواج نہیں دیا، بلکہ ان کے اہم اغراض و مقاصد میں سے ایک اہم مقصد محبتوں کو پھیلانا، اور انسانی معاشرے کو توحید کے مضبوط دھاگے میں باندھ کر وحدت کو رواج دینا تھا، پتہ نہیں وہ کیسا عالم ہے، جو ہمہ وقت نفرتوں کو پھیلاتا ہے، دوریوں کا سبب بنتا ہے، اور انسانی معاشرے کو تقسیم در تقسیم کرکے لوگوں کے ذہنوں کو الجھاو کا شکار بنا دیتا ہے؟!

اسی طرح جب آپ سیرت انبیاء میں غور کرتے ہیں، تو آپ دیکھتے ہیں، کہ کس اچھے انداز، شرین لب و لہجے، اورحکمت و بصیرت کے ساتھ انہوں نے خدا کی طرف دعوت دی، کیونکہ جمال مطلق کی طرف دعوت کبھی بھی نفرت کے ساتھ نہیں دی جا سکتی، حقیقی ناصح ہوتا ہی وہ ہے، جسکی نصیحت کی اساس مہر و محبت، لطف و عنایت، اور حکمت و دانائی پر مبنی ہے، اس میں کوئی شک نہیں، کہ انبیاء کی زندگی میں جہاد بھی نظر آتا ہے، اور سختی اور غم و غصہ بھی دیکھائی دیتا ہے، لیکن یہ سب وہاں انجام دیا گیا، جہاں موقع و محل تھا، جہاں کوئی بھی طریقہ کارگر ثابت نہیں ہوا، جہاں ظلم و ستم کو روکنا، اور مظلوموں کی حمایت صرف اسی طریقے سے ممکن ہوئی، ایسے موقعے پر لب و لہجے میں سختی بھی دیکھائی دیتی ہے، جاہ و جلال بھی نظر آتا ہے، اور غیظ و غضب کا اظہار بھی دیکھنے کو ملتا ہے، لیکن ایک کھلی حقیقت جس سے انکار اندھے پن کے سوا کچھ بھی نہیں، وہ یہ کہ انبیاء کرام کی تاریخ میں جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں، جہاں جہاں بھی مسلح جدوجہد نظر آئی، اور میدان کارزار سلگتا ہوا دیکھائی دیا، آپ یقین رکھیے، کہ یہ سب جنگیں مسلط کئی گئیں، یہ سب مجبوری کی حالت میں لڑنا پڑیں، ورنہ تو کبھی بھی کسی نبی کی یہ کوشش نہ تھی، کہ وہ جنگ ہی کو اول و آخری حل ہی سمجھے۔

لیکن جب کوئی انسان انسانیت کا لباس اتار کر مکمل طور پر درندہ بن جاتا ہے، اور انسانی معاشرے کا امن و امان تباہ کرکے، لوگوں کے حقوق کو چھیننا شروع کر دیتا ہے، تو پھر یہی انبیاء کرام جو مہر و محبت اور لطف و عنایت کے مجسم نمونے ہوتے ہیں، ظلم و ستم کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہو جاتے ہیں، اور ضرورت پڑنے پر اپنی مقدس جانوں کا نذرانہ پیش کرکے انسانی معاشرے کو حیات عطا کرتے ہیں۔ کیا وارثان انبیاء کی بھی یہی ذمہ داری نہیں، کہ وہ جہاں ظالموں کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ہوں، وہیں عام انسانوں کے ساتھ مہر و محبت سے پیش آئیں؟! کیا ان کی ذمہ داری یہ نہیں، کہ جیسے یہ ظلم و ستم کے خلاف تحریک کو اپنے ایمان کا حصہ سمجھیں، ویسے ہی معاشرے میں موجود برائیوں کے خاتمے کی بنیاد شفقت و رحمت اور نرمی اور لطافت پر رکھیں؟!

بہرحال کوئی وارث نبی اس وقت تک نہ تو وراثت کا حق رکھتا ہے، اور نہ ہی اس مقام و منزلت کو پا سکتا ہے، جب تک وہ درست انداز میں سیرت انبیاء کی پیروی نہ کرے، اور جہاں ان عظیم ہستیوں کی اقتدا نظر آئے، ان کی سیرت نصب العین ہو، ان کا طرز عمل مشعل راہ ہو، وہی سربلندی بھی ہے، وہی معاشرے کی نجات کا سامان بھی ہے، اور صرف وہی زندگی ہی منبع خیر و برکت ہے۔ خدا ہم سب کو سیرت انبیاء پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

 

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=11068