وفاق ٹائمز، شیعہ فقیہ، فیلسوف، مفکر اور معروف کتاب “الحیاۃ” کے مولف علامہ محمد رضا حکیمی کل مورخہ 22 اگست 2021 بروز اتوار شام کو دار دنیا سے رخصت ہو گئے۔
استاد حکیمی حالیہ مہینوں میں متعدد بار منحوس بیماری کورونا میں مبتلا ہوئے اور آخر کار انتہائی نحیف اور کمزور ہونے کی وجہ سے ہسپتال میں بھرتی ہو گئے اور طبیعت میں کچھ افاقہ آنے کے بعد انہیں گھر منتقل کر دیا گیا تھا تاہم گزشتہ روز شام کو اپنے معبود حقیقی سے جا ملے۔
علامہ محمد رضا حکیمی کے اہم ترین آثار “الحیاۃ” ، خورشید مغرب، عقل سرخ، عاشورا مظلومیتی مضاعف، شیخ آقا بزرگ تہرانی، تفسیر آفتاب، فریاد روزھا، سپیدہ باوران، ۔۔۔ کا نام لیا جا سکتا ہے۔
مختصر زندگی نامہ
علامہ حکیمی 4 اپریل 1935 کو ایران کے شہر مشہد مقدس میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد 20 سال کی عمر میں حوزہ علمیہ خراسان میں قدم رکھا اور مقدماتی دروس پڑھنے کے بعد فلسفہ، ادبیات عرب، علم نجوم وغیرہ میں خصوصی دلچسبی کی وجہ سے مہارت حاصل کر لی۔
آپ نے حوزہ علمیہ خراسان میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد درس و تدریس کا سلسلہ بھی شروع کر لیا۔
علامہ حکیمی نے 38 سال کی عمر میں “آقا بزرگ تہرانی ” سے اجازہ اجتہاد بھی حاصل کر لیا تھا آپ درس و تدریس کے علاوہ تالیف و تصنیف میں بھی مصروف رہتے تھے علم فلسفہ میں دسیوں کتابیں آپ نے تحریر کیں۔ الحیاۃ آپ کی معروف تصنیف ہے جو اسلامی ممالک میں خاصی شہرت رکھتی ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے 70 کی دہائی میں وائس آف اسلامی جمہوریہ ایران کے اسلامی تعلیمات گروپ کو فیلسوف محمد رضا حکیمی جیسی شخصیات سے استفادہ کرنے کی تاکید کی تھی۔












