58

فارسی زبان میں سمعی مہارت کی ارتقاء کے لئے لاہور میں ورکشاپ منعقد+تصاویر

  • News cod : 22384
  • 13 سپتامبر 2021 - 14:21
فارسی زبان میں سمعی مہارت کی ارتقاء کے لئے لاہور میں ورکشاپ منعقد+تصاویر
لاہور میں فارسی سیکھنے والوں کی سمعی مہارتوں میں ترقی تربیتی کیمپ منعقد ہوا۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، لاہور میں فارسی سیکھنے والوں کی سمعی مہارتوں میں ترقی تربیتی کیمپ منعقد ہوا۔

جس میں خانہ فرہنگ کےفرہنگی ذمہ دار جعفر روناس، لامز یونیورسٹی لاہور کے فارسی زبان کے استاد ڈاکٹر فاطمہ فیاض، رٹائر استاد جناب پروفیسر محمد علی چوہدری ، فارسی زبان کے دیگر اساتید اور ابتدائی، درمیانی اور عالی سطح کے فارسی سیکھنے والوں نے شرکت کی۔

خانہ فرہنگ قونصل جنرل اسلامی جمہوریہ ایران لاہور کے ثقافتی ذمہ دار جعفر روناس نے زبان سیکھنے کے چہار بنیادی مہارتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سمعی مہارت کو زبان سیکھنے کے بنیادی اور مہم ترین قدم قرار دیا۔ انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ ذرائع ابلاغ کے اس دور میں سمعی مہارت کی ارتقاء کے وسائل تک دسترسی آسان ہے؛ کہا: روزانہ پوڈ کاسٹ، موسیقی اور آڈیو کتاب کا سننا اور اسی طرح فلم اور ڈرامے دیکھنا زبان فارسی کی سمعی مہارت کی تقویت کے بہترین طریقے ہیں۔

جناب روناس نے مزید کہا: سمعی طاقت میں اضافے کی خاطر فلموں اور ڈراموں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہر فلم کو تین بار دیکھا جائے۔ پہلی دفعہ سب ٹائٹل کی طرف توجہ دئے بغیر فقط مکالموں کو سمجھنے کی کوشش کریں، دوسری دفعہ سب ٹائٹل کو بھی ساتھ دیکھیں تاکہ سمعی مشکلات رفع ہوجائیں اور آخری بار فلم دیکھے بغیر فقط ڈائلاگ کو سنیں۔

انہوں نے فارسی زبان کے الفاظ کی ہجا ، ساخت اور مختلف زبانوں میں الفاظ کے بنیادی اسٹرس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا: الفاظ کا اسٹرس تلفظ کی صحیح ادائیگی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ صحیح فارسی لہجے کا مالک ہونے کے لئے اہم ترین عامل صحیح انداز میں الفاظ کے اسٹرس کی رعایت کرنا ہے۔ باقی زبانوں خاص طور پر انگریزی زبان کےبرعکس کہ جس میں اسٹرس الفاظ کی ابتداء، درمیان اور آخر میں ہوتا ہے، فارسی زبان میں عام طور پر اسٹرس الفاظ کی ابتداء میں ہوتا ہے۔

لامز یونیورسٹی لاہور کے استاد اور تہران یونیورسٹی کی فارغ التحصیل ڈاکٹر فاطمہ فیاض نے سمعی مہارت کو زندگی کی ابتدائی ترین مہارتوں میں سے قرار دیا جس کا سامنا انسان بچپن سے اپنی مادری زبان کو سیکھتے وقت کرتا ہے اور کہا: اس قدرت کو انسان کی خلقت کی ابتدا سے ہی زبان سیکھنے کے ابزار کے طور پر اس کے وجود میں رکھا گیا ہے۔ اور انہوں نے مولوی کی مثنوی معنوی کے ’’بشنو از نی چون حکایت می کند‘‘ والی حکایت کی طرف اشارہ کرتی ہوئی سننے کی اہمیت کا اجاگرکیا اور کہا: اس کام کے لئے قابل استفادہ طریقوں میں سےایک خبریں سننا ہے۔ روزانہ دس منٹ فارسی خبروں کا سننا سمعی مہارت کی سطح اونچی کرنے کے لئے بہترین معاون ثابت ہوگا۔ اور اسی طرح یہ کام جدید الفاظ و کلمات کے میدان کو بھی مزید وسیع کر دیتا ہے۔ دوسری ٹیکنیک ایرانی موسیقی خاص طور پر قدیمی موسیقی سننا ہے جو سماعت کے ساتھ ساتھ لذت سے بھرپور ہوتی ہے، اور یہ روز مرہ کے امور کی انجام دہی میں کم ترین رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔

انہوں نے آج کل کی دنیا میں پوڈکاسٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہوئی کہا: بچگانہ نظمیں سننا زبان سیکھنے کے طریقوں میں سے ایک اور طریقہ ہے کہ جس کے اندر اس زبان کے سرزمین کی ثقافت اور افکار شامل ہیں۔ آپ جس ملک کی زبان سیکھ رہے ہیں وہاں کی ثقافت کی پہچان آپ کے سامنے اس زبان کی شناخت کے نئے افق کھولتی ہے۔

محترمہ ڈاکٹر فاطمہ فیاض نے اپنی گفتگو کے آخر میں آڈیو کتابوں کی اہمیت کو بیان کیا اور کہا: یہ خوش حالی کی بات ہے کہ فارسی زبان کا تعلق ایک ایسے ملک سے ہے جو ثقافتی وسائل سے مالا مال ہے کہ اس خزانے سے فائدہ اٹھائیں تو زبان سیکھنے کی سہولت دوچندان ہوجاتی ہے۔

یونیورسٹی کے سابقہ اساتیذ میں سے پروفیسر محمد علی چوہدری صاحب نے مختلف ممالک میں فارسی زبان بولنے والوں کی وضعیت، تعداد اور فارسی زبان آبادی کی پھیلاؤ کے بارے میں رپورٹ پیش کرتے ہوئے اردو زبانوں کے لئے فارسی زبان کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ اور اپنے ایران میں سکونت اور مختلف شہروں میں ایرانیوں سے گفتگو کے تجربے کو بیان کرتے ہوئے کہا: فارسی زبان سے آشنائی رکھنے کے باوجود سمعی مہارت سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے ابتدا میں لوگوں سے بات کرتے ہوئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔
انہوں نے فارسی سیکھنے والوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ فارسی زبان سیکھنے کے دوران سننے کی مہارت کوفوقیت دیں کیونکہ سمعی مہارت کا حصول باعث بنتا ہے کہ بہت جلد بولنے کے مرحلے کو شروع کریں۔
آخر میں فارسی سیکھنے والے عالی سطح کے طلاب نے سمعی مہارت کی اہمیت پر اپنے مقالے پیش کئے۔ اسی طرح مختلف قسم کے پروگرام جیسے مختلف سطح کے فارسی سیکھنے والوں کے درمیان سمعی، گفتاری اور جملہ سازی کے حوالے سے مقابلے رکھے گئے اور جیتنے والوں کو نفیس انعامات سے نوازا گیا۔
اور اس ورکشاپ کا آخری حصہ فارسی فلم ’’حوض نقاشی‘‘ کو سب ٹائٹل کے ساتھ دکھانا تھا۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=22384