وفاق ٹائمز، ہلال احمر نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں یمن میں انتہائی خراب انسانی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خبر دی ہے کہ ہر دو گھنٹوں میں ایک یمنی ماں اور چھ نومولد بچے موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں۔ ریڈ کراس کے عہدیدار “بشیر عمر” نے ہفتے کی شام ایک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے یمن میں خوفناک انسانی صورت حال سے آگاہ کیا۔ ہلال احمر کے اس اہلکار نے کہا کہ یمن میں انسانی صورتحال ناقابل یقین حد تک وحشتناک ہے اور اس ملک کی دو تہائی آبادی صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری مشکل کی اس گھڑی میں یمنی عوام کو تنہا نہ چھوڑے۔ یمن میں جنگ کے آٹھویں سال کے آغاز پر ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے حال ہی میں ایک رپورٹ شائع کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ یمن کی 30.5 میلیون افراد پر مشتمل آبادی کا تقریباً 66 فیصد حصہ ابتدائی طبی امداد سے محروم ہے اور جن لوگوں کو علاج کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اس ملک کے 51% فعال طبی مراکز تک پہنچنے کے لیے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
اس رپورٹ میں عورتوں اور نوزائیدہ بچوں کو درپیش مسائل کا احساس کرتے ہوئے اشارہ کیا گیا ہے کہ یمن میں 50 فیصد سے بھی کم بچے پیدائش کے وقت طبی نگہداشت کے ماہرین کی نگرانی میں ہوتے ہے اور اس امر کے سبب ہر دو گھنٹے بعد ایک ماں اور چھ بچے مر جاتے ہیں۔ 2014ء میں اس ملک میں خانہ جنگی کے آغاز سے اب تک 4.2 ملین بے گھر ہونے والے افراد میں سے 73 فیصد خواتین اور بچے ہیں۔ یاد رہے کہ سعودی عرب نے امریکی حمایت یافتہ عرب اتحاد کی سربراہی میں اپریل 2014ء سے یمن کے مستعفی صدر کو اقتدار میں واپس لانے کیے کئے یمن کے خلاف فوجی جارحیت کرتے ہوئے اس ملک کی ہر طرف سے ناکہ بندی کر دی ہے۔ یہ جارح سعودی اتحاد یمن میں ہزاروں افرد کے جاں بحق اور زخمی ہونے، لاکھوں افراد کے بے گھر ہونے، اس ملک کے انفراسٹرکچر کی مکمل تباہی، قحط، بھوک اور وسیع پیمانے پر وبائی امراض کے پھیلاو کے سوا اپنا کوئی بھی ہدف حاصل نہیں کرسکا۔












