19

جناب سید ثاقب اکبر مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے قم میں مجلس ترحیم کا انعقاد

  • News cod : 44546
  • 27 فوریه 2023 - 16:37
جناب سید ثاقب اکبر مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے قم میں مجلس ترحیم کا انعقاد
سید ثاقب اکبر صاحب عظیم انسان تھے، وہ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے، اُن کی رحلت سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر نہیں کیا جا سکتا۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، داعی اتحاد امت، محقق، مفکر، شاعر، ادیب، مصنف، مترجم، ممتاز سکالر، سربراہ ادارہ البصیرہ جناب سید ثاقب اکبر مرحوم کے ایصال ثواب کے لیے قم المقدس میں مسؤل شعبہ تحقیق، ادارہ البصیرہ امجد عباس مفتی کے گھر پر مجلس ترحیم کا انعقاد کیا گیا، جس میں قم میں موجود پاکستانی علما اور طلبا کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سید ثاقب اکبر کی علمی و عملی خدمات کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا گیا۔ نشست کے آغاز میں ڈاکٹر سید دانش نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اپنی عظیم شخصیات کو فراموش نہیں کرنا چاہیے، اُن کی خدمات کو یاد رکھنا چاہیے۔ سید ثاقب اکبر صاحب عظیم انسان تھے، وہ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے، اُن کی رحلت سے پیدا ہونے والے خلا کو پُر نہیں کیا جا سکتا۔

مجلس وحدت مسلمین کے مسئول امور خارجہ علامہ سید شفقت شیرازی کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنی شخصیات کی قدر دانی کرنا چاہیے، سید ثاقب اکبر کے ساتھ اُن کی چالیس سالہ رفاقت کے اختتام کا اُنھیں دکھ ہے، سید صاحب کا شمار اُن شخصیات میں ہوتا ہے جنھیں زندگی میں صحیح سے پہچانا نہیں گیا۔ امجد عباس مفتی کا کہنا تھا کہ سید ثاقب اکبر واقعی ایک عظیم انسان اور انسان دوست شخصیت تھے۔ وہ اہل علم کے قدر دان، علمی و عملی سرگرمیوں میں مشغول رہا کرتے تھے۔ آپ کی من جملہ خصوصیات میں سے کثرت کے ساتھ مطالعہ کرنا اور علمی و فکری نو آوری ہے۔ آپ کی سب کتابیں، بطور خاص اسلام ایک زاویہ نگاہ اور معاصر مذہبیات لائق مطالعہ ہیں۔ آپ کی فکر کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

ڈاکٹر جابر محمدی کا کہنا تھا کہ وہ مایہ ناز محقق تھے۔ ڈاکٹر شاہد رئیس کا کہنا تھا کہ مرحوم کی علمی کاوشیں لائق صد تحسین ہیں، اُن کی فکر پر تفصیلی بحث کی ہے۔ سید ثاقب اکبر صاحب کے دیرینہ ساتھی، جناب علامہ محمد امین شہیدی کا کہنا تھا کہ سید ثاقب اکبر پاکستان میں اتحاد امت کی توانا آواز تھے، وہ آزاد اندیش مفکر اور ممتاز محقق تھے۔ اُنھوں نے فارسی میں موجود علمی مواد کو اردو میں ترجمہ کرنے کی تحریک چلائی۔ زندگی بھر لکھتے رہے۔ وہ ایک عظیم علمی اور عملی شخصیت تھے جن کی کمی پوری نہیں کی جا سکتی۔ ڈاکٹر سید حسین نجفی کا کہنا تھا کہ ثاقب اکبر ایک شخص نہیں، شخصیت تھے، وہ اپنی ذات میں مکمل انجمن تھے۔

مولانا سید ارتضیٰ رضوی نے مرحوم کے ساتھ گزرے وقت اور ان کی خدمات کا اختصار کے ساتھ ذکر خیر فرمایا۔ ڈاکٹر یعقوب بشوی کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں عموماً مرحومین کا ذکر خیر جبکہ زندہ انسانوں کی خدمات نہیں سراہا جاتا۔ سید ثاقب اکبر واقعی بڑے عالم اور مفکر تھے، اُن کی علمی اور فکری کاوشوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ وہ اُن نمایاں افراد میں سے تھے جن کی پرورش علامہ سید صفدر حسین نجفی نے فرمائی۔ اس موقع پر شعرا حضرات نے بھی علامہ سید ثاقب اکبر کو خراج تحسین پیش کیا، اُن کی شاعری پر بات کی، نیز شعبان کی مناسبت سے کلام بھی پیش کیا، شعراء میں جناب عباس ثاقب، جناب احمد شہریار، جناب سید صائب اور جناب نوری شامل تھے۔

جابر محمدی نے کہا کہ جب کبھی ان کے پاس کتب کے تراجم پیش کیے تو انہوں نے مترجم و ترجمہ کی بہت حوصلہ افزائی کی ۔ ساتھ ساتھ بہترین راہنما کی حثیت تحقیقی و علمی اصلاح کی۔ آپکی کتاب پاکستان کے دینی مسالک پر تہران اور پشاور میں پی ایچ ڈی کی سطح پر کام ہو رہا ہے۔ اس کتاب کا فارسی ترجمہ بھی مکمل ہو چکا ہے۔ بقول مولانا نعیم نقوی صاحب کہ ان کی والدہ محترمہ کو مدت حمل میں ایک خواب آیا کہ ان کے والد محترم نےخواب میں ایک قران ہدیہ کیا، کچھ ایام کےبعد مولانا ثاقب اکبر صاحب کی ولادت ہوئی تو ان کی والدہ محترمہ نے کہا کہ خواب والے ہدیہ کی تعبیر میرا یہ بیٹا ہے جو قرآنی زندگی گزارے گا، وہ بہترین مترجم تھے کہ تحریر الوسیلہ و نمونہ کے ترجموں میں شریک تھے، بہترین لکھاری تھے کہ ان کی کتاب “پاکستان کے دینی مسالک” تہران یونیورسٹی اور پشاور یونیورسٹی کے پی ڈی ایچ تھیسز لکھے جا رہے ہیں۔ ان کی باقی کتب اپنی نوعیت کی شاہکار کتب ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ بہترین مقالہ نگار تھے کہ ماہانہ پانچ مقالہ جات اسلام ٹائمز پر نشر ہوتے، پیام و المیزان اور دیگر رسائل و جرائد میں ان کے مقالہ جات تواتر سے نشر ہوتے تھے، بہترین سماجی خدمات سرانجام دینے والے تنظمی مذھبی سیاسی شخصیت تھے کہ جس کی دلیل ائی ایس او کے بانیوں میں سے تھے، دو دفعہ آئی ایس او کے صدر رہ چکے تھے، ملی یک جہتی کے دبیر تھے ، ادارہ اخوت اور ادارہ البصیرہ کے مدیر و روح رواں تھے۔ ایک انقلاب سے والہانہ لگاؤ رکھنے والی شخصیت تھے جیسا کہ شہید صدر رہ نے فرمایا تھا کہ ذوبوا فی الخمینی کما ھو ذاب فی الاسلام
اس فرمان کا عملی نمونہ سید ثاقب اکبر تھے کہ مرحوم جہاں کہیں بیھٹتے تو ان کی شخصیت کا تعارف انقلاب اسلامی ہوتا، ان کے ہوتے ہوئے کسی کی جرائت نہ تھی کہ تشیع، اسلام اور انقلاب کے بارے کوئی اشتباہ یا غلط بات کر سکتا ۔ وہ اسلام، تشیع اور انقلاب اسلامی کی مرجع و منبع کی حیثیت سے تمام محافل و نشتستوں میں شرکت فرماتے۔ بہترین راہنما، مربی اور معلم و مفکر تھےاور ایک نڈر، بیباک، حاضر جواب مدافع اسلام ، مدافع تشیع اور مدافع انقلاب اسلامی تھے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=44546

ٹیگز