15

امام عسکریؑ کا وجود: عباسیوں کی خود ساخته خلافت کے لیے ایک نظریاتی موت

  • News cod : 61364
  • 31 آگوست 2025 - 18:28
امام عسکریؑ کا وجود: عباسیوں کی خود ساخته خلافت کے لیے ایک نظریاتی موت

امام حسن عسکری علیه السلام کا وجود محض ایک فرد کا وجود نہیں تھا، بلکہ یه عباسی خلافت کی بنیادوں کے لیے ایک نظریاتی […]

امام حسن عسکری علیه السلام کا وجود محض ایک فرد کا وجود نہیں تھا، بلکہ یه عباسی خلافت کی بنیادوں کے لیے ایک نظریاتی موت تھا۔ آپ کی حیات اور موجودگی نے اس حکومت کے جھوٹے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا تھا، اور یہی وہ اصل وجہ تھی جس کی بنا پر آپ کو اتنی شدید قید اور نگرانی میں رکھا گیا۔ یه نظریاتی تصادم درج ذیل پہلوؤں سے واضح ہوتا هے:

الٰہی اور خود ساختہ خلافت کا ٹکراؤ

عباسیوں نے اپنی حکومت کو “خلافتِ اسلامیه” کا نام دے رکھا تھا، جس کا مطلب یه تھا کہ ان کا اقتدار خدا کی طرف سے عطا ہوا هے۔ لیکن امام عسکریؑ کا وجود اس دعوے کے خلاف ایک زندہ دلیل تھا۔ آپ کا خاندان، جو کہ پیغمبر اسلام (ص) کا حقیقی جانشین تھا، علم، تقویٰ اور الٰہی اختیار کا مجسمہ تھا۔ امام کی ذات درحقیقت یه ثابت کر رہی تھی کہ حقیقی قیادت اور خلافت خدا کی طرف سے مقرر ہوتی هے، نه کہ طاقت، دھوکہ دہی اور ظلم سے۔

علمی برتری: امام عسکریؑ کا علم اتنا وسیع تھا کہ اس دور کے بڑے بڑے علماء بھی آپ کے سامنے شرمندہ ہو جاتے تھے۔ یہ علمی برتری عباسی حکمرانوں کے لیے ایک نظریاتی چیلنج تھی، کیونکہ وہ علم میں امام کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔

روحانی مقام: عوام الناس، بشمول شیعه اور سنی، امام عسکریؑ کے روحانی مقام اور کرامات کے معترف تھے۔ یه روحانی عظمت ان حکمرانوں کے پاس نہیں تھی جو محض طاقت کے زور پر مسلط تھے۔

لوگوں کا دلوں پر حکومت کرنا بمقابله زمین پر حکومت کرنا

عباسیوں کی حکومت محض زمین اور لوگوں کے جسموں پر تھی، جب کہ امام عسکریؑ کا اقتدار لوگوں کے دلوں اور روحوں پر تھا۔ یه وہ طاقت تھی جو تلوار اور فوج سے حاصل نہیں کی جا سکتی تھی۔ عباسی خلفاء نے ہر ممکن کوشش کی کہ وہ لوگوں کو امام سے دور رکھیں، لیکن یه کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔

خاموش انقلاب: امام کا وجود ایک “خاموش انقلاب” تھا جو لوگوں کے دلوں میں پروان چڑھ رہا تھا۔ یه انقلاب کسی ہتھیار یا لشکر کا محتاج نہیں تھا، بلکہ یہ حق اور سچائی کی وہ آواز تھی جو ہر جگہ پہنچ رہی تھی۔

غیبت کی حکمت: ایک نظریاتی بقاء کا حل

عباسیوں کا سب سے بڑا خوف امام مہدیؑ کی آمد تھا، جو ان کے اقتدار کا خاتمہ کرنے والے تھے۔ امام عسکریؑ نے اس صورتحال کو سمجھا اور غیبت صغریٰ کے ذریعے ایک ایسی حکمت عملی اپنائی جو ان کی نسل کو محفوظ کر سکے۔ یه غیبت محض ایک چھپنے کا عمل نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسا نظریاتی دفاعی نظام تھا جس نے الٰہی سلسلہ امامت کو بچایا۔

ناکام سازشیں: امام عسکریؑ کی شہادت اور اس کے بعد امام مہدیؑ کو تلاش کرنے کی عباسیوں کی ناکام کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ آپ کے وجود کو کس قدر خطرناک سمجھتے تھے۔ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود، امامت کا سلسله محفوظ رہا، اور ان کی طاقت امام کے نظریاتی مقام کو ختم نه کر سکی۔

امام حسن عسکری علیه السلام کا وجود درحقیقت عباسیوں کے لیے ایک آئینه تھا جس میں وہ اپنے جھوٹے اقتدار کا باطل ہونا دیکھ سکتے تھے۔ آپ کی سیرت ہمیں یه سکھاتی هے کہ حقیقی طاقت علم، تقویٰ اور الٰہی تعلق میں ہوتی هے، اور ظالم حکمرانوں کی طاقت کتنی بھی بڑی کیوں نه ہو، وہ حق اور سچائی کی آواز کو کبھی خاموش نہیں کر سکتے۔ آپ کا وجود ان کے لیے ایک نظریاتی موت تھا جس نے ان کے اقتدار کی عمارت کو اندر سے کھوکھلا کر دیا۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=61364

ٹیگز