اہل غزہ کے قلمکاروں کا دکھ
ہمارا دکھ یہ نہیں کہ اسرائیل بمباری کررہا ہے۔ بلکہ ہمارا دکھ یہ ہے کہ باقی فلسطینیوں اور باقی مسلمانوں نے ذلت کا راستہ اختیار کیا ہے۔
بہت سے لوگ تنہا چھوڑ دیے جانے کے بارے میں سوال کرتے ہیں، مگر ہم یہ پوچھتے ہیں: یہ جنگ کیوں بھڑکی؟ یہ طوفان کیوں آیا؟ اور آخر کیوں غزہ ہی منظر کے سامنے کھڑا ہوا، جبکہ باقی فلسطینی اور مسلم علاقے پس منظر میں رہے؟
مسجدِ اقصیٰ کا دفاع کوئی اختیار نہیں، بلکہ ہر مسلمان پر واجب ہے، مشرق سے مغرب تک۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ صرف غزہ ہی صفِ اول میں کھڑا ہے، اکیلا لڑ رہا ہے، مزاحمت کر رہا ہے اور ڈٹا ہوا ہے۔
آج غزہ کے لوگوں کو سب سے زیادہ جو بات دکھ دے رہی ہے، وہ صرف جنگ کی شدت نہیں، بلکہ ایک چیختا ہوا سوال ہے:
کہاں ہے مغربی کنارے کا ہتھیار؟ کہاں ہے قدس کا ہتھیار؟ کہاں ہے اندرونِ فلسطین (یعنی مقبوضہ علاقوں کے عوام) کا ہتھیار؟
وہ لوگ کہاں ہیں جو کبھی نعرہ لگاتے تھے: “منشان الله يا غزة، يالله”؟
اگر آغاز ہی سے سب کی بندوقیں ایک صف میں ہوتیں، تو آج یہ درد اس حد تک نہ پہنچتا، اور غزہ کو ذبح ہونے کے لیے تنہا نہ چھوڑا جاتا۔
غزہ کے لوگ چاہتے تو آسائش اور سکون کی زندگی چن سکتے تھے، سودے بازی قبول کر کے لاکھوں کروڑوں میں زندگی گزار سکتے تھے اور وقتی امن میں رہ سکتے تھے…
لیکن انہوں نے اس سے کہیں بڑا انتخاب کیا:
انہوں نے جھوٹے امن پر عزت کو ترجیح دی،
انہوں نے جھکنے کے بجائے ڈٹ جانے کو ترجیح دی،
انہوں نے قیدیوں، مسجدِ اقصیٰ، فلسطین کی سرزمین اور امتِ مسلمہ کے تمام مقدسات کا دفاع کرنے کا فیصلہ کیا۔
وہ صرف غزہ کا دفاع نہیں کر رہے، بلکہ پوری امت کی عزت کا دفاع کر رہے ہیں۔
اور آج جو چیز دلوں کو سب سے زیادہ توڑ رہی ہے، وہ صرف بمباری نہیں، بلکہ بھائیوں کا خذلان ہے۔ اور ہمیں تنہا چھوڑنا ہے۔
یعنی اہل غزہ پوری امت اسلامی کے بدلے تنہا بیت المقدس کی آزادی کی جنگ کررہے ہیں











