غزہ اور تفرقۂ اسلامی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے بارے میں تاریخ میں چند دنوں کا اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق یہ ولادت 12 ربیع الاول کو ہوئی، جبکہ بعض دیگر شواہد 17 ربیع الاول کو بیان کرتے ہیں۔
یہ اختلاف محض تاریخی ہے، فکری یا اعتقادی نہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ جس ہستی کی ولادت کا جشن منایا جاتا ہے، وہ ایک ہی ہستی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ یہی وہ شخصیت ہیں جن کے گرد شیعہ اور سنی سب کا اتفاق اور اشتراک ہے۔
اسی بنا پر امام خمینی رح نے اس اختلاف کو تفرقے کے بجائے وحدت کا ذریعہ بنایا اور ان دنوں کو ہفتۂ وحدت قرار دیا۔
ہفتۂ وحدت کا مقصد یہ نہیں کہ صرف انہی سات دنوں میں وحدت قائم رکھی جائے اور باقی ایام میں تفرقہ ہو۔ بلکہ ان ایام میں ہمیں سال بھر کی وحدت کا درس لینا ہے۔ ان دنوں میں وحدت کے عوامل اور وحدت شکن اسباب کو پہچان کر پورے سال ان سے آگاہ رہنا چاہیے تاکہ وحدت اسلامی کو عملی صورت دی جا سکے۔
وطن پرستی۔ ایک وحدت شکن عامل
وحدت شکن عوامل میں سب سے نمایاں عامل وطن پرستی ہے۔ وطن جب محض شناخت کا ذریعہ نہ رہے بلکہ معیار بن جائے تو یہ وطن پرستی ہے۔ یعنی اگر کسی کے قومی شناختی کارڈ پر کسی ملک کا نام درج ہے تو بس اسی کو معیار سمجھا جائے۔ یہ سوچ دراصل امتِ اسلامی کی وحدت کے خلاف ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ وطن اگر شناخت کا ذریعہ ہو تو درست ہے، مگر اگر مفادات و نقصانات کا تعین بھی صرف وطن کی بنیاد پر کیا جائے تو یہ تفرقے کا سبب ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اپنے ملک میں اتحاد بین المسلمین قائم کر لیں، مگر یہ اتحاد صرف وطنی دائرے میں محدود ہوگا۔ جب تک مسلمانوں کے ذہنوں میں یہ تصور رہے گا کہ میں فلاں وطن کا مسلمان ہوں اور میرے مفادات صرف اسی وطن سے وابستہ ہیں، تب تک یہ تصور امت اسلامی کے عالمی اتحاد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہے گا۔
آج پاکستان پر حملہ ہو تو سب پاکستانی مسلمان ہندوستان کے خلاف صف آراء ہو جاتے ہیں۔ لیکن یہی پاکستانی مسلمان غزہ کے معاملے میں لاتعلق ہیں، کیونکہ وہ غزہ کو فلسطین کا مسئلہ سمجھتے ہیں، نہ کہ امتِ اسلامی کا مسئلہ۔
اس وطنی ذہنیت نے اجتماعی مفادات کو صرف وطن تک محدود کر دیا ہے۔ اسلام اور مسلمانی کا جذبہ بس ہمدردی، احتجاج یا سوشل میڈیا کے ٹرینڈ تک تو جا سکتا ہے، مگر عملی جدوجہد اور جنگ کی صورت اختیار نہیں کرتا۔
آج ہم غزہ کے لیے احتجاج تو کرتے ہیں، مگر یمنیوں کی طرح عملی دفاع نہیں کرتے۔ فرق یہ ہے کہ یمن میں امت کا تصور وطن پر غالب ہے۔ یمنی عوام نے اپنے مفادات کا دائرہ وطن تک محدود نہیں رکھا بلکہ امتِ اسلامی کے نقصان و مفاد کو اپنا نقصان و مفاد سمجھا ہے۔ اسی لیے ہر ہفتے لاکھوں یمنی امتِ اسلامی کے حق میں میدان میں نکلتے ہیں۔
لبنانی شیعہ بھی اس وطنی رکاوٹ سے اوپر اٹھ چکے ہیں۔ انہوں نے وحدت اسلامی کو صرف لبنانی شیعہ و سنی کے اتحاد تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسلامی آئیڈیالوجی کی بنیاد پر اسلامی وطن کا تصور قائم کیا۔ اسی لیے غزہ کی حمایت میں سب سے پہلے عملاً جنگ کرنے والے حزب اللہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لبنان کے وطن پرستوں کو شکوہ ہے کہ لبنان کیوں غزہ کی خاطر جنگ کر رہا ہے۔
ایران کی انقلابی حکومت اور ولائی گروہ نے بھی یہ ثابت کیا ہے کہ ہمارا مفاد صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ امتِ اسلامی تک پھیلا ہوا ہے۔ اگرچہ ایران میں بھی اس تصور کو عملی جامہ پہنانے میں رکاوٹیں ہیں، لیکن امام المسلمین رہبر انقلاب اور ان کے پیروکاروں نے امت کے وسیع تر مفادات کے لیے اپنی جانیں تک قربان کیں۔ ایرانی صدر کی شہادت، اعلیٰ جرنیلوں کی شہادت، ہزاروں عوام کی قربانیاں، ایٹمی پروگرام اور انفراسٹرکچر پر حملے یہ سب امت اسلامی کے مفاد میں برداشت کیے گئے۔ ایران نے وطن کو خاک کی بنیاد پر نہیں بلکہ اسلامی آئیڈیالوجی کی بنیاد پر تصور کیا، اور یہی حقیقی اسلامی وطن کا نمونہ ہے۔
پاکستان دراصل مغربی وطنی تصور کے خلاف اور اسلامی وطن کے تصور پر قائم کیا گیا تھا۔ یہ دنیا کی پہلی ریاست تھی جس نے وطن کا معیار اسلامی آئیڈیالوجی کو بنایا۔ لیکن افسوس کہ بہت جلد اسے بھی خاکی وطن میں بدل دیا گیا۔
اب دوبارہ اسی اسلامی وطن کے تصور کو زندہ کرنے اور امت اسلامی کے نظریے کو قائم کرنے کی ضرورت ہے تاکہ حقیقی وحدت ممکن ہو سکے۔
ورنہ وطن پرستی پر مبنی وحدت صرف وقتی اور داخلی ہوگی اور عملی طور پر کچھ فائدہ نہ دے گی۔ نتیجہ یہی ہوگا کہ پاکستان پر حملہ ہو تو باقی مسلمان خاموش، اور غزہ پر حملہ ہو تو پاکستانی مسلمان خاموش۔
لہذا غزہ کو تنہا چھوڑنے کا اصل سبب یہی خاکی وحدت کا تصور ہے۔ جب تک اس رکاوٹ کو توڑ کر امتِ اسلامی کی وحدت قائم نہیں کی جاتی، تب تک غزہ لہولہان ہوتا رہے گا اور ہم محض احتجاج اور دعا پر اکتفا کریں گےI












