جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعةالمنتظر میں خطاب کرتے ہوئے وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سربراہ کا کہنا تھا کہ موجودہ صدی اسلام کی صدی ہے، پاکستان کی بھارت کیخلاف فتح،ایران کے اسرائیل پر حملوں سے وقار میں اضافہ ہوا، پہلے 700 سال علم مسلمانوں کی میراث رہا، اب مغرب کو منتقل ہو چکا ہے۔ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعةالمنتظر ماڈل ٹاون میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امت اسلامی کی سب سے بڑی خوش بختی نبی مکرم سیدالمرسلین ختمی مرتب حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا امتی ہونا ہے۔ پہلے کی امتوں کیلئے بھی اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام مبعوث فرمائے لیکن ہمارے نبی ان تمام انبیاء کے سردار ہیں، پس ان کی امت بھی تمام امتوں میں افضل ہے اور اس امت کی قدر و منزلت بھی زیادہ ہے۔ جس طرح ہمارے نبی تمام انبیاء کے سردار ہیں، اسی لئے امت اسلامی کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے کردار اور عمل کے ذریعے ثابت بھی کرے کہ وہ بھی محمد عربی کی امت ہیں اور باقی امتوں سے بہتر اور ان کی سردار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صدی اسلام کی صدی ہے، پاکستان کی بھارت کیخلاف فتح کو دیکھ لیجئے۔ ایران کی اسرائیل پر کامیاب حملوں کو دیکھ لیجیے، مسلمانوں کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ حماس فلسطین، حزب اللہ لبنان اور انصار اللہ یمن کی مقاومت بھی قابل ستائش ہے، یہ بھی مسلمانوں کی عظمت، بہادری اور مزاحمت کا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے پیغمبر سے کتنا زیادہ پیار ہے، سورہ ضحی کو پڑھیے۔ ان کا کہنا تھا شروعات اسلام میں لوگ مسلمان تو بہت تھے لیکن نمازی صرف تین تھے جن میں حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اور سیدہ خدیجة الکبریٰ سلام اللہ علیہا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی شرح صدر اور زبان کی گرہ کیلئے دعا کی لیکن رسول اعظم کو خود اللہ تعالیٰ نے خود کہا کہ کیا ہم نے آپ کا سینہ کشادہ نہیں کیا؟ یہ وسعت قلب ہی تھی کہ جب فتح مکہ کے موقع پر سب کو آپ نے معاف کر دیا۔
آیت اللہ حافظ ریاض نجفی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، انا اعطینک الکوثر، ہم نے آپ کو خیر کثیر عطا فرمایا ہے، اہلسنت مفسر قرآن فخرالدین رازی نے اپنی تفسیر میں کوثر سے مراد خاتون جنت فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہا کی ذات اقدس کو لکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے700 سال میں علم مسلمانوں کی میراث رہی، جبکہ اب ایسا نہیں، اب یہ علمی میراث مغرب کو منتقل ہو چکی ہے












