ہیئت ائمہ مساجد و علماء امامیہ پاکستان کے زیرِ اہتمام یکم اپریل کو امام بارگاہ شہداء کربلا میں ایک اہم اجتماع بعنوان “اسلام کی نشاۃِ ثانیہ میں قیادت کا کردار” منعقد ہوا، جس میں علماء، دینی و سماجی شخصیات اور مختلف مکاتبِ فکر کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ منعقدہ اجتماع میں شہید رہبر کو خراجِ عقیدت اور ولی امر مسلمین امام سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ بیعت کی گئی۔
اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسیحی رہنما ایڈووکیٹ مائیکل نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا تمام انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور شہید رہبر کی جدوجہد بین المذاہب ہم آہنگی کی ایک روشن مثال ہے۔
اہلحدیث مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے مفتی نظر الحق تھانوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے وحدت اور مضبوط قیادت ناگزیر ہے، اور شہداء کی قربانیاں ہمیں استقامت کا درس دیتی ہیں۔
حجت الاسلام و المسلمین مولانا غلام عباس رئیسی نے کہا کہ اسلامی بیداری اور نشاۃِ ثانیہ میں قیادت کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اور رہبرِ انقلاب کی فکر آج بھی امت کیلئے رہنمائی کا سرچشمہ ہے۔
مولانا نقی ہاشمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہداء کا راستہ حق و عدالت کا راستہ ہے، جس پر چل کر ہی امت اپنی کھوئی ہوئی عظمت حاصل کر سکتی ہے۔
مولانا باقر عباس زیدی نے کہا کہ موجودہ دور میں فکری و عملی رہبری کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے، اور ہمیں اپنے جوانوں کو اسی فکر سے آشنا کرنا ہوگا۔
منہاج القرآن سندھ کے رہنما مفتی مکرم قادری نے کہا کہ اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کیلئے تمام مکاتبِ فکر کو باہمی اتحاد کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اور اختلافات کو پسِ پشت ڈالنا ہوگا۔
جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے اپنے خطاب میں کہا کہ امتِ مسلمہ کی کامیابی کا راز مضبوط قیادت، اتحاد اور اصولوں پر ثابت قدمی میں مضمر ہے۔
خانہ فرہنگ کراچی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر طالبی نیا نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اس کا تسلسل، فکری بیداری اور عوامی شعور کی بدولت ممکن ہوا، جسے مزید فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
اجتماع کے دوران گروپ “صبحِ ظہور” اور برادر شاہد علی شاہد نے انقلابی ترانے پیش کیے، جنہیں حاضرین نے بھرپور سراہا۔
تقریب میں خانوادۂ شہداء کی خصوصی شرکت بھی رہی، اور علماء کرام نے اسٹیج پر آنے والے شہداء کے اہلِ خانہ کا کھڑے ہو کر پرتپاک استقبال کیا، جس سے شہداء کے ساتھ عقیدت و احترام کا بھرپور اظہار کیا گیا۔












