2

نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے: آغا باقر الحسینی

  • News cod : 64248
  • 27 آوریل 2026 - 16:14
نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے: آغا باقر الحسینی
العباس ورزش ہال کی افتتاحی تقریب، شہید رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کے چہلم کی مناسبت سے ایک پروقار پروگراموں،

العباس ورزش ہال کی افتتاحی تقریب

اور شہید رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای رضوان اللہ علیہ کے چہلم کی مناسبت سے ایک پروقار پروگرام منعقد ہوا۔

تقریب کے مہمان خصوصی صدر انجمن امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی جبکہ سینیئر نائب صدر انجمن امامیہ بلتستان شیخ زاہد حسین زاہدی تھے۔ تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت خواہر عالیہ اور خواہر صغریٰ نے حاصل کی۔ نظامت کے فرائض خواہر راضیہ بتول شگری اور خواہر شاہدہ بتول بشوی نے انجام دیے۔ طالب علم اکبر کتشوی نے حمد باری تعالی جبکہ مختلف طلبہ و طالبات نے ترانے اور شہادت و رہبری سے متعلق نذرانۂ عقیدت پیش کیے، جن میں اکبریہ کلاس کے طالب علم جواد اور ہمنوا، حسینیہ کلاس کے طالب علم امتیاز اور ہمنوا، خواہر سائرہ اور خواہر معصومہ، خواہر عالیہ اور صبا تھیں۔ مدرسہ حبیب مصطفیٰ کے پرنسپل شیخ نیاز علی شگری نے خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے مہمانانِ گرامی، اہلِ محلہ، والدین اور طلبہ و طالبات کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے العباس ورزش ہال کی تعمیر میں تعاون کرنے والے مخیر حضرات خصوصاً حاجی ذاکر صاحب، ان کے مرحوم والد حاجی محمد، اعوان عباس صاحب اور دیگر معاونین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے لیے دعا کی۔ انہوں نے مدرسے کے تعلیمی نظام کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ مدرسہ حبیب مصطفیٰ میں قرآنِ کریم، دینیات، تجوید اور ترجمۂ قرآن کو نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے، جبکہ طالبات کو توضیح المسائل کی تعلیم بھی دی جاتی ہے تاکہ وہ دینی مسائل سے آگاہ رہیں اور اپنی جونیئر طالبات کی رہنمائی کر سکیں۔ مدرسے کی سینئر طالبہ خواہر مرضیہ شگری نے خواتین کے کردار، اسلامی تعلیمات، حجاب، تربیت اور معاشرتی اعتدال کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام خواتین کو نہ افراط کی اجازت دیتا ہے اور نہ تفریط کی، بلکہ عزت، شعور اور باوقار کردار کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے ایرانی خواتین اور فلسطینی ماؤں کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ خواتین معاشرے کی تربیت، شعور اور مزاحمت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ تقریب سے بو علی رضوانی، شیخ اعجاز اور آغا سید بشوی نے بھی خطاب کیا اور مدرسہ حبیب مصطفیٰ کی دینی و تربیتی خدمات کو سراہتے ہوئے شیخ نیاز علی شگری کو علاقے کے لیے ایک نعمت قرار دیا۔ انجمن امامیہ بلتستان کے سینیئر نائب صدر شیخ زاہد حسین زاہدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جس نوعیت کی دینی و تربیتی خدمات پورے بلتستان میں درکار ہیں، ان کی عملی مثال مدرسہ حبیب مصطفیٰ میں نظر آتی ہے۔ انہوں نے العباس ورزش ہال کے قیام کو نوجوان نسل کی مثبت سرگرمیوں کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ کھیل اور صحت مند سرگرمیاں نوجوانوں کو منفی رجحانات اور غیر اخلاقی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کوئٹہ کی ہزارہ برادری کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کھیلوں کے میدان اور اسپورٹس کلب نوجوانوں کی صلاحیتوں کو مثبت سمت دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں نوجوان قومی اور بین الاقوامی سطح پر کامیابیاں حاصل کرتے ہیں اور ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہیں۔ مہمان خصوصی آغا سید باقر الحسینی صدر انجمن امامیہ بلتستان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان نسل کو قرآن و اہل بیتؑ کی تعلیمات سے وابستہ رکھنے کے لیے دینی مدارس بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے مدرسہ حبیب مصطفیٰ کو بلتستان کے لیے ایک رول ماڈل قرار دیتے ہوئے شیخ نیاز علی شگری کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے شہید رہبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کی نسل کو انقلاب اسلامی اور رہبر معظم کے افکار کو سمجھنے اور ان کی روشنی میں اپنی فکری و عملی زندگی استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو قرآن و اہل بیت کی تعلیمات پر عمل کی توفیق عطا فرمائے اور شہدائے اسلام کے درجات بلند کرے۔ تقریب کے اختتام پر القائم ٹرسٹ مسجد علویہ غازی کالونی سندوس سکردو کے عمائدین اور مومنین کی جانب سے ملت اسلامی ایران کے لیے 9 لاکھ 37 ہزار 800 روپے کی امدادی رقم صدر انجمن امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی کے حوالے کی گئی۔ پروگرام کے اختتام پر دعا اور شہدائے اسلام کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=64248

ٹیگز