تری قربت کے لمحے پھول جیسے
تحریر:نادم شگری
حجۃ الاسلام شیخ محمد علی صابریؒ کا تعلق اگرچہ تھماچو تسرسے تھا؛ لیکن ان سے ہماری پہلی ملاقات کراچی میں ہوئی۔ایک وقت وہ تھا کہ کراچی میں رہنے والے ہمارے علاقے کے اکثرطلباء مختلف مناسبتوں سے ان کے ہاں جاتے ، اور ان سے درس اخلاق کی درخواست کرتے تھے۔ سب انہیں ”آغا صابری“ کہتے تھے، سو ہم نےبھی ”آغا صابری“ کے درس میں شرکت کی ، اور وہی ہماری پہلی ملاقات تھی۔
ان کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ امر بالمعروف اور نہی از منکر کے سلسلے میں انتہائی قاطع انسان تھے۔ کہتے تھے: ہم میں سے اکثر لوگ اپنے ذاتی معاملات میں ایک دوسرے کو کھری کھری سناتے ہیں، اپنے نقطہ نظر سے اختلاف رکھنے والوں سے کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے؛ لیکن جب احکام الہٰی کی خلاف ورزی ہوتے دیکھتے ہیں تو چپ سادھ لیتے ہیں۔حدیث کی روشنی میں حق وباطل کے معاملے میں خاموش رہنے والا انسان ”شیطان اخرس“ ہے؛ یعنی: لکنت زدہ شیطان۔ اسی لئے انہوں نے کبھی بھی حق گوئی میں لیت ولعل سے کام نہیں لیا، اور نہ کسی کی پروا کی۔ اخلاقی برائیوں اور دینی محافل و مجالس میں آئے روز پیدا ہونے والی بدعات کے خلاف کھل کر بولتے تھے، یہاں تک کراچی کی لوکل بسوں میں سفر کرتے وقت میوزک چلانے والے ڈرائیورز کو بھی نہی از منکر کرنے سے نہیں گھبراتے تھے۔
صبح کے وقت جامعۃ العلوم الاسلامیہ جعفر طیار سوسائٹی میں تدریس کے فرائض انجام دیتے تھے، جس کے سبب سینکڑوں طلاب علوم دینیہ نے آپ سے استفادہ کیا، جو آجکل حوزہ علمیہ مشہد ، قم اور نجف میں زیر تعلیم ہیں۔ اپنے طلاب میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے ،ان کے اندر قومی ، لسانی اور علاقائی سوچ سے بالاتر اسلامی طرز فکر کو پروان چڑھانے میں آپ کا کردار بہت نمایاں ہے۔












