3

دانشگاہ جعفریہ واگھریجی اس وقت وجود میں آیا جب سندھ میں نماز جنازہ پڑھانے کے لئے کوئی عالم نہیں ہوتے تھے، علامہ محمد محسن مہدوی کی وفاق ٹائمز سے گفتگو

  • News cod : 27913
  • 14 ژانویه 2022 - 18:16
دانشگاہ جعفریہ واگھریجی اس وقت وجود میں آیا جب سندھ میں نماز جنازہ پڑھانے کے لئے کوئی عالم نہیں ہوتے تھے، علامہ محمد محسن مہدوی کی وفاق ٹائمز سے گفتگو
حجت الاسلام مولانا محمد محسن مہدوی نے وفاق ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ دانشگاہ جعفریہ 1954-55 میں وجود میں آیا اور اس حوزہ علمیہ کا موسس حجت الاسلام مولانا غلام مہدی نجفی تھے، جن کا تعلق سندھ سےتھااور آیت اللہ العظمی سید محسن حکیم کے وکیل مطلق تھے اورحجت الاسلام غلام مہدی نجفی علاقے کے لوگوں کے اصرار پر نجف سے پاکستان تشریف لائے۔ اور علاقے میں اتنا کام کیا کہ اب بھی وہاں کے لوگوں سےپوچھے تو ان کا یہی کہنا ہے کہ اگر ہمارے چہروں پر ڈارھی ہے اور یہاں مسجدیں آباد ہیں تو یہ سب مولانا غلام مہدی نجفی کا مرہون منت ہے اور اس وقت مدرسے میں تقریبا 140 طلباء زیر تعلیم ہیں۔

حجت الاسلام مولانا محمد محسن مہدوی 1958 کو پیدا ہوئے،آپ دانشگاہ جعفریہ واگھریجی میرپور خاص کے پرنسپل ہیں اور آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار سے حاصل کی اور اس کے بعد جامعہ المنتظر لاہورچلے گئے ، محسن ملت علامہ سید صفدر نجفی، آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی اور دیگر اساتید سےکسب فیض کرنے کے بعد 1980ء میں اعلی تعلیم کے حصول کے لئے حوزہ علمیہ قم ایران میں داخلہ لیا ۔

وفاق ٹائمز نے ان سے دانشگاہ جعفریہ واگھریجی میرپور خاص کے بارے میں انٹرویو لیا ہے جو قارئیں کی خدمت میں پیش ہے:

وفاق ٹائمز:سب سے پہلے آپ کا شکریہ کہ آپ ہمارے دفتر تشریف لائے اور ہمیں وقت دیا، قبلہ آپ اپنے بارے میں مختصر بتائیں۔۔؟

محمد محسن مہدوی ہوں،میں نے ابتدائی تعلیم میرے والد بزرگوار سے حاصل کی اور اس کے بعد جامعہ المنتظر لاہورمیں داخلہ لیا، محسن ملت علامہ سید صفدر نجفی، آیت اللہ حافظ ریاض حسین نجفی اور دیگر اساتید سےکسب فیض کرنے کے بعد 1980 میں ایران میں اعلی تعلیم کے حصول کے لئے داخلہ لیا اور یہاں پر بھی مختلف اساتید سے کسب فیض کیا اور 1987 کی دہائی میں جب والد محترم کا انتقال ہوا تو مجھے مکمل ایران کو خیربادکہہ کرپاکستان جانا پڑا۔

وفاق ٹائمز: دانشگاہ جعفریہ واگھریجی میرپور خاص کے بارے میں بتائیں ، اس مدرسے کا موسس کون تھا، کب وجود میں آیا اور اس وقت کتنے طالبعلم زیر تعلیم ہیں؟

دانشگاہ جعفریہ 1954-55 میں وجود میں آیا اور اس حوزہ علمیہ کا موسس حجت الاسلام مولانا غلام مہدی نجفی تھے، جن کا تعلق سندھ سےتھااور آیت اللہ العظمی سید محسن حکیم کے وکیل مطلق تھے اورحجت الاسلام غلام مہدی نجفی علاقے کے لوگوں کے اصرار پر نجف سے پاکستان تشریف لائے۔ اور علاقے میں اتنا کام کیا کہ اب بھی وہاں کے لوگوں سےپوچھے تو ان کا یہی کہنا ہے کہ اگر ہمارے چہروں پر ڈارھی ہے اور یہاں مسجدیں آباد ہیں تو یہ سب مولانا غلام مہدی نجفی کا مرہون منت ہے اور اس وقت مدرسے میں تقریبا 140 طلباء زیر تعلیم ہیں۔

وفاق ٹائمز: کیا دانشگاہ جعفریہ میں شروع سے ہی حوزوی تعلیم رائج تھی۔۔۔؟

دیکھیں !میرپور خاص میں اس وقت بنیادی طور پر کوئی سہولیات موجود نہیں تھیں اور دیہات ہونے کی وجہ سے مولانا صاحب گدھا گاڑی اور سائیکل پر مختلف جگہوں پر تبلیغ کیلئے جایا کرتے تھے اور انہوں نے بڑی کوشش سے اس مدرسہ کی بنیاد رکھی اور اس کا نام مدرسہ جعفریہ رکھا۔ اس وقت اس مدرسے میں 25 طالبعلم تھےاور اس وقت سندھ میں نماز جنازہ پڑھانے کے لئے کوئی عالم دین موجود نہیں تھا، لہذا طے یہ ہوا کہ ایک ایسا مدرسہ بنایا جائے تاکہ ایک سال کے عرصے میں طلاب کو ایک مبلغ کے طور پر تیار اور مختلف جگہوں پر تبلیغ دین کے لئے بھیجا جاسکے، لہذا سب سے پہلے اس مقصد کیلئے بلال دینی تربیتی درسگاہ کے نام سے ایک مدرسہ بنایا گیا اور یہ سلسلہ تقریبا چار سال تک جاری رہا۔
اس سے کافی حد تک لوگوں کی ضروریات پوری ہوئیں لیکن کورس کا دورانیہ کم ہونے کی وجہ سے معاملات خراب بھی ہوتے تھے۔ لہذا اسکے بعد مولانا عباس علی صاحب نے اس مدرسے کا نام تبدیل کرکے دانشگاہ جعفریہ رکھا اور مکمل حوزوی دروس کا آغاز کیا اور اس مدرسے کے تحت سندھ بھر میں مدارس کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور تقریبا 20 مدارس وجود میں آئے لیکن کچھ نا مساعد حالات کی بنا پر کچھ مدارس بند ہوئے اور اس وقت 15 مدارس موجود ہیں اور جب عراق اور ایران کا راستہ کھلا تو ہمارے مدارس سے طلاب نے اعلی تعلیم کیلئے حوزہ علمیہ نجف اور قم کا رخ کیا اور اس وقت ہمارے مدارس کے 100 سے زائد طلاب حوزہ علمیہ نجف اشرف میں زیر تعلیم ہیں۔

وفاق ٹائمز: قبلہ مدرسے کی دیگر فعالیتوں کے بارے میں بتائیں۔۔؟

مدرسے کا اصل ہدف طالبعلموں کی علمی تربیت ہے تاکہ معاشرے کے معاملات کو بہتر انداز میں درک اور صحیح معنوں میں دین مبین کی خدمت کرسکے اور مدرسے کے تحت اس وقت تبلیغی سلسلہ بھی جاری ہے ،خاص کر رمضان اور محرم میں مختلف جگہوں پر ہمارے طلاب تبلیغ کے لئے جاتے ہیں۔
15 سے 20 جگہوں پر مدرسے کی طرف سے علماء کرام دینی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور ضرورت کے مطابق مختلف جگہوں پر علما ء کرام کو تبلیغ کے لئے بھیجا جاتا ہے، اس کے علاوہ دینیات سنٹرز اور دیگر تعلیمی کورسز کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

وفاق ٹائمز: مدرسے کے علمی کاموں کے بارے میں ہمیں آگاہ کیجئے اور کتنے اساتید مدرسے میں مشغول ہیں۔۔؟

مدرسے میں اس وقت 11 اساتید خدمات سرانجام دے رہیں اور مدرسے کا اصلی ہدف علمی شخصیت کی تربیت کرنا ہے ، اسکے علاوہ بھی مدرسہ ہذا کے تحت بہت سارے اہم کام ہورہے ہیں، جن میں سے ایک اہم کام ، سندھی زبان میں مختلف دینی اور اعتقادی کتابوں کی نشر و اشاعت ہے ۔

وفاق ٹائمز: قبلہ آخر میں کوئی اہم پیغام دینا چاہیں گے ۔۔؟

ہماری تمام تر کوششیں دین مبین اسلام کی ترویج کے لئے ہونی چاہئیں اور الہیٰ کاموں میں ہمیں ذاتیات اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور خصوصا مدارس کے لئے یہ پیغام ہے کہ مدارس صرف طلاب کی تعلیم و تربیت کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ دیں اور اگر کوئی خلوص دل سے صرف اور صرف خدا کی خشنودی کے لئے کام کرے تو یقینا کامیابی اس کا قدم چومے گی۔

انٹرویو : احمد علی جواہری

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=27913