2

امام زمان عج کے لیے حضرت زھراء سلام اللہ علیہا اسوہ حسنہ

  • News cod : 41448
  • 17 دسامبر 2022 - 9:22
امام زمان عج کے لیے حضرت زھراء سلام اللہ علیہا اسوہ حسنہ
حضرتِ زہراء سلام اللہ علیہا نے تھوڑا سا سوچا، اپنا سر جھکایا کچھ سوچنے کے بعد پھر اپنا سر اٹھایا اور پیغمبر اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا مجھے جو اپنے رب کی بارگاہ میں اور اس کی عبادت میں لذت حاصل ہورہی ہے اس لذت نے مجھے ہر خواہش سے دور کردیا ہے، میری کوئی حاجت نہیں ہے صرف یہ ہے کہ ہمیشہ پرودگار کے وجہ الکریم کا نظارہ کرتی رہوں۔

سلسلہ بحث امام زمان عج کے لیے حضرت زھراء سلام اللہ علیہا اسوہ حسنہ
موضوع حضرت زھرا سلام اللہ علیہا کی معرفت

حجت الاسلام والمسلمین علی اصغر سیفی

پہلا درس

مولا امامِ زمان علیہ السلام کی طرف سے ایک فرمان نقل ہوا ہے فرماتے ہیں۔( میں (مہدی ؑ) کے لیے رسولِ اکرم ﷺ کی بیٹی اسوہ حسنہ ہیں)
گویا امام زمان ؑ بھی اپنی زندگی میں بی بی زہرا سلام اللہ علیہا کو اپنے لیے اسوہ سمجھتے ہیں اور ان کے نقشِ قدم پر چلتے ہیں۔ تو اس کے اندر ہمارے لیے سب سے بڑا درس یہ ہے کہ ہم بھی اپنے امام ؑ کی ہمراہی میں بی بی زہرا سلام اللہ علیہا کو اپنے لیے اسوہ قرار دیں اور دیکھیں کہ بی بی زہراء ؑ کے اندر کیا صفات کیا خصوصیات اور ان کی زندگی میں کیا عظمتیں تھیں ؟۔۔۔۔ کیوں امام زمان ؑ انہیں اپنے لیے اسوہ حسنہ قرار دے رہے ہیں، اسی اسوہ کو ہم اپنی زندگی کے اندر بھی لائیں۔

ہمارے ماہرین اس فرمان کی روشنی میں پانچ طرح کا اسوہ بیان کرتے ہیں۔ ہم بھی کوشش کریں گے کہ ان ایام کے اندر ان شاءاللہ پانچ درسوں میں ان پانچ طرح کے اسوہ کو آپ کی خدمت میں بیان کریں۔

پہلا اسوہ

سب سے پہلا اسوہ جو ہے وہ پرودگار کی معرفت، خدا شناسی اور بی بی کا اللّٰہ سے جو تعلق ہےجو کہ ہر انسان کا اپنے خالق سے ہونا چاہئیے ۔
بی بی زہرا ؑ اس رابطے میں اور اس مقدس تعلق میں کمال تک پہنچی ہوئی تھیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ایک دفعہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بی بی زہراء ؑ سے بیان فرماتے ہیں کہ بیٹی فاطمہ جبرائیل آئے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کا سلام تم تک پہنچا رہے ہیں، اور فرما رہے ہیں کہ خدا یہ کہہ رہا ہے کہ فاطمہ ؑ کو کہو جو بھی حاجت ہے وہ مجھ سے مانگے، جو حاجت بھی بی بی ؑ رکھتی ہیں مجھ سے مانگے میں خدا اس حاجت کو پورا کرنے والا ہوں.

روایت یہ بتاتی ہے کہ حضرتِ زہراء سلام اللہ علیہا نے تھوڑا سا سوچا، اپنا سر جھکایا کچھ سوچنے کے بعد پھر اپنا سر اٹھایا اور پیغمبر اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کیا مجھے جو اپنے رب کی بارگاہ میں اور اس کی عبادت میں لذت حاصل ہورہی ہے اس لذت نے مجھے ہر خواہش سے دور کردیا ہے، میری کوئی حاجت نہیں ہے صرف یہ ہے کہ ہمیشہ پرودگار کے وجہ الکریم کا نظارہ کرتی رہوں۔

اب یہاں بی بی نے پرودگار کی عبادت کی لذت کا ذکر کیا ہے۔

عزیزان ! یہ مسئلہ واقعاً حق ہے اور یہ بہت بڑی توفیق ہے کسی شخص کو رب کی عبادت میں لذت حاصل ہوجائے۔ کیونکہ عام طور پر ہم لوگوں کو حاصل نہیں ہوتی، یہ لذت انبیاء کرام،آئمہ معصومین علیہم السلام یا ام الائمہ بی بی ؑ جیسی باعظمت اذواتِ مقدسہ کو حاصل ہوتی ہے، کہ جن کی ساری زندگی اپنے رب کی ربوبیت میں اس کی عبادت میں، اس کے ذکر میں، رب کی طرف توجہ میں صرف ہوتی ہے۔بسا اوقات لوگ یہ سوچتے تو ہیں کہ آئمہ معصومین ع بہشتی ہیں بلکہ بہشتیوں کے سردار ہیں پھر کیوں اتنی عبادت کرتے ہیں، کیوں جب نماز کا ٹائم ہوتا ہے تو اماموں کے چہروں پہ زردی چھا جاتی ہے، کیوں خشیت الٰہی سے ان کا وجود کانپتا ہے، کیوں اتنی لمبی لمبی مناجات اور دعائیں پڑھتے ہیں ۔۔۔۔ یہ وہی لذتِ عبادت ہے وہ رہ نہیں سکتے ۔جسے لذت پرودگار اسکی معرفت اس کی عبادت حاصل ہو وہ کسی لحظے اس کے بغیر نہیں رہ سکتا جیسے امام سجاد ؑ فرماتے ہیں ۔۔۔

پلک جھپکنے کی جو کم ترین مدت ہے میں اتنی مدت بھی خدا کی توفیق اس کی نظرِ رحمت کے بغیر نہیں رہ سکتا ۔

بی بی ؑ نے یہ بہت بڑا جو ہم جیسے گناہگار لوگوں کے لیے اللہ کی عبادت اور خدا کی طرف جو راہِ کمال اور راہِ قرب ہے اس حوالے سے جو بی بی نے ہمارے لیے پردہ اٹھایا وہ یہ ہے کہ جب بھی خدا سے مانگو لذتِ عبادتِ حضرتِ حق مانگو ۔

ہمارے لوگوں کے پاس لمبی لمبی لسٹیں ہوتی ہیں اللہ سے دعاؤں کی اور جب بھی ہم مقاماتِ مقدسہ پر جاتے ہیں حرم ہائے مبارک تو وہ ساری دعائیں مانگتے ہیں لیکن بی بی زیرا ؑ وہ باعظمت ہستی ہیں جنہیں خود خدا کہہ رہا ہے کہ مجھ سے مانگ تو بی بی فرماتی ہیں کہ مجھے کچھ بھی نہیں چاہئیے چونکہ مجھے حضرتِ حق کی عبادت اور اس کی خدمت کی لذت حاصل ہے۔

یہ وہ ہستی ہیں جو دنیائے فانی میں اپنے لیے کچھ بھی نہیں دیکھ رہی، جو کمالِ حقیقی تک پہنچ چکے ہیں اور وہ خدا کی عبادت اور اس کی مناجات کے اندر سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔

روایات میں ہے کہ جب بی بی ؑ محرابِ عبادت میں کھڑی ہوتی تھیں بی بی کا نور کہ جس کی وجہ سے وہ زہرا کہلاتی ہیں وہ نور پھیلتا تھا آسمانی فرشتوں کے درمیان ان کی نگاہوں کے سامنے بی بی ؑ کا نور آتا تھا۔پیغمبر اکرم ﷺ فرماتے ہیں پرودگار نے میری بیٹی فاطمہ ؑ کے دل کو ایمان و یقین سے بھر دیا۔اسی طرح روایت میں ہے کہ ان کے اعضاء جوارح کو بھی ایمان اور یقین سے بھر دیا۔بی بی زہرا ؑ کا پورا وجود ایمان سے بھرا ہوا ہے۔ لھذا وہ دنیا فانی کی چیزوں کی طرف توجہ نہیں رکھتیں۔اب ہم جب بھی نماز کے بعد دعائیں کرتے ہیں تو آپ دیکھیں ہماری بہت ساری ایسی دعائیں ہیں کہ جو تھوڑی سی زحمت سے حل ہوسکتی ہیں ۔بیماری کسی اچھے طبیب کی طرف رجوع کرنے سے حل ہوجاتی ہے۔ پیسوں کے مسائل تھوڑی سی محنت کرنے سے حل ہوسکتے ہیں ۔ آخر اتنی دنیا کفر و شرک اتنی ترقی کرگئی ہے جو ہم پر حکومت کررہے ہیں پیسوں کے معاملے میں وہ بھی زحمتیں کرتے ہیں محنتیں کرتے ہیں، ان کے بھی مسئلے حل ہو جاتے ہیں تو ہمارے کیوں نہیں حل ہوسکتے ۔اگر اللّٰہ سے کچھ مانگنا ہے تو لذتِ عبادت مانگیں، نجات مانگیں، اپنی اصلاح مانگیں ۔

ایک خاتون بی بی زہراء سلام اللہ علیہا کی خدمت میں آئیں اور انہوں نے پوچھا کہ میرا شوہر پوچھ رہا ہے کہ وہ آپ کے شیعوں میں سے ہے یا نہیں؟ تو بی بی ؑ نے جواب دیا۔( ہم جو امر کرتے ہیں اگر تم لوگ اس پر عمل کرتے ہو یعنی جو ہم حکم دیتے ہیں کہ یہ کرو اس پر اگر عمل کرتے ہو اور جس چیز سے ہم روکتے ہیں اگر اس سے دوری اختیار کرتے ہو تو تم ہمارے شیعہ ہو ورنہ نہیں)اور جب اس خاتون نے اپنے شوہر کو بی بی ؑ کا یہ فرمان سنایا تو وہ تڑپ اٹھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ہمارے اندر بہت سارے نقائص ہیں۔

جیسے ہم بھی آج ایامِ فاطمیہ ؑ مناتے ہیں بی بی کا ذکر کرتے ہیں ۔ کتنے ہی اہلِ علم اہل خطابت آتے ہیں بے پناہ مسائل، مصائب ۔۔۔۔لیکن کبھی سوچیں تو سہی کہ ہمارے کونسے کام فاطمی ہیں، میں خود ایک شخص اپنے کس کام میں کس صفت میں، کس خصلت میں فاطمی ہوں۔ اس لیے بی بی ؑ کہہ رہی ہیں عمل کرو صرف نام لینا ۔۔۔۔البتہ نام لینا عبادت ہے یہ شعائر ہیں ان کو زندہ کرنا چاہئیے ایام منانے چاہئیں لیکن ان ایام سے فیض لینا چاہئیے۔ ایسے لوگوں کو دعوت دینی چاہیئے کہ جو ہمیں زندگی فاطمی بتائیں تاکہ ہمارے اندر وہ صفات زندہ ہوں۔ اب اس عورت کا شوہر بھی پریشان ہوا بیتاب ہوا کہ میرے اندر تو بہت سارے گناہ ہیں ، پس اس کا مطلب ہے کہ میں جہنم کے اندر جاؤنگا۔ اب اس کی ہمسر جو ہے وہ دوبارہ آتی ہے بی بی فاطمہ کے پاس ۔۔۔۔کہتی ہے کہ میرے شوہر کی یہ حالت ہے۔ اس کے بعد بی بی ؑ جواب دیتی ہیں کہ(اپنے شوہر کو یہ کہو کہ جس طرح کہ وہ سوچ رہا ہے ایسا نہیں ہے کہ ہمارے شیعہ بہشت کے بہترین افراد میں سے ہیں اور ہمارے جتنے بھی محب ہیں اور ہمارے محبین کے جتنے بھی محبین ہیں اور ہمارے دشمنوں کے جتنے بھی دشمن ہیں وہ سارے جنتی ہونگے۔

یعنی اگر کوئی صرف ہمارا زبان کے ساتھ شیعہ ہے اور ہماری محبت کا دعوے دار ہے اور ہماری محبت کا دم بھرتا ہے اور ہمارے دشمنوں سے دشمنی کرتا ہے صرف اس بنا پر وہ اہل بہشت میں سے بہترین ہو ایسا نہیں ہے ۔۔۔۔۔ہاں وہ شخص جو اپنے قلب اور اپنی زبان سے ہم اہل بیت ع کے مدمقابل تسلیم ہوچکا ہے۔اور ہمارے جو احکام ہیں اگر ان سے وہ سر کشی کرتا ہے اور ہم جس چیز سے منع کرتے ہیں اگر اس کا احترام نہیں کرتا یعنی حرمت شکنی کرتا ہے اور حرام چیزوں کا مرتکب ہوتا ہے وہ ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے ۔ اگرچہ وہ زبان اور دل سے شیعہ کہتا ہے لیکن اپنی عملی زندگی میں ہمارے احکامات کا خیال نہیں رکھتا اور ہم جن چیزوں سے منع کرتے ہیں ان سے نہیں رکتا وہ ہمارا شیعہ نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔پھر آگے بی بی ؑ تسلی دیتی ہیں ۔۔۔کہتی ہیں کہ ہاں یہ جو شیعہ ہیں جو زبان اور قلب میں تو ہماری حب رکھتے ہیں تسلیم ہیں یہ لوگ جب اپنے گناہوں سے پاک ہونگے، اب اس میں موت کا عذاب ہے، برزخ کا عذاب ہے اور قیامت کی مشکلات کو تحمل کریں گے اور جہنم کے اندر کچھ ٹائم جہنم کے طبقات میں گزاریں گے اور عذاب کا مزہ چکھیں گے تاکہ یہ پاک ہو جائیں پھر یہ بہشت میں داخل ہونگے۔ اور ہم ان کی اس محبت کی خاطر شفاعت کریں گے اور ان کو نجات حاصل ہوگی اور ہم انہیں اپنے پاس منتقل کریں گے بہشت میں لیکن گناہوں اور نافرمانیوں کا عذاب چکھیں گے۔ یہ تسلی ہے لیکن اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہمارے ان شیعوں میں سے ہوں جو بہشت میں ہمارے ساتھ ہیں اور جنت کے اعلیٰ ترین افراد میں سے ہیں تو ابھی سے ہمارے احکامات کی تعمیل شروع کردیں اور جن چیزوں سے ہم منع کرتے ہیں ان سے رکنا شروع کردیں۔ )

تو بی بی ؑ نے یہاں شیعوں کے دو طبقوں کا ذکر کیا ہے ۔ ایک طبقہ وہ جو زبان اور دل سے بھی تسلیم ہیں اور عملی زندگی میں بھی اپنے اندر اہل بیت ع کے فرامین کے مطابق زندگی گزار رہے ہیں جس طرح وہ چاہتے ہیں ویسی زندگی گزار رہا ہے ۔ یہ تو نجات یافتہ ہیں یہ محمد و آل محمد کے ساتھ ہیں بہشت کے اعلی ترین مقامات میں ہیں۔

لیکن کچھ شیعہ ایسے ہیں جو محبت کا دم بھرتے ہیں زبان اور دل سے بھی تسلیم ہیں اور اہل بیت ع کے دشمنوں سے دشمنی کرتے ہیں، اہل بیت ع کے محبین سے محبت کرتے ہیں لیکن عملی زندگی میں گناہ ہیں، پریشانیاں ہیں ،نافرنانیاں ہیں سب کچھ ہے تو بی بی ؑ فرماتی ہیں کہ یہ اپنے گناہوں کا عذاب چھکیں گے چونکہ خدائے عدل نے جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا ہے کہ جو بھی ذرہ برابر بھی نیکی کرے گا اس کا مزہ چھکے گا اور اسی طرح جو ذرہ برابر برائی کرے گا اس کا عذاب چھکے گا۔جس طرح قانونِ خدا ہے اس کے مطابق یہ بھی اپنے گناہوں کا عذاب لیں گے ۔اور ہمارے دیگر علماء کہتے ہیں مختلف روایات کی رو سے کہ شیعوں کو گناہوں کا عذاب یا ان کی دنیاوی زندگی میں ملے گا یا وقتِ موت یا برزخ میں عذابِ قبر ۔کچھ مراحل میں یہ پاک ہو جائیں گے اور روزِ قیامت شفاعت سے جنت میں جائیں گے اور جن کے گناہ زیادہ ہیں وہ روزِ قیامت کا عذاب اور قیامت میں پھر جہنم کا عذاب اور جہنم کے اندر بھی عذاب کی مدت ان کے گناہوں سے وابسطہ ہے جتنے گناہ زیادہ اتنی دیر جہنم میں رہنے کے بعد پھر وہ اپنے ایمان اور اہل بیت علیہم السلام کی محبت کی وجہ سے نجات پائیں گے۔

تو اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کو اس پہلے طبقے والے شیعوں میں سے قرار دے کہ جن کی دنیاوی زندگی بی بی فاطمہ ؑ کی سیرت پر ہے جو امام مہدی ؑ کی طرح بی بی فاطمہ کو اپنے لیے اسوہ قرار دیتے ہیں اور اپنے امام کی ہمراہی میں بی بی ؑ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے پرودگار کی معرفت اور اس کی ربوبیت میں غرق ہیں۔

تو آج پہلا موضوع جو ہے وہ بیبی فاطمہ ؑ کا خدا شناسی کے حوالے سے مقام ہے۔ ان شاءاللہ اسی طرح باقی بھی کچھ موضوعات ہیں جو ہم آئیندہ ایام میں بیان کریں گے۔

 

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=41448