1

امام زمان عج کی غیبت کےاسباب قسط 5

  • News cod : 42325
  • 09 ژانویه 2023 - 11:02
امام زمان عج کی غیبت کےاسباب قسط 5
گفتگو کا موضوع امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت ھے، اس سے پہلے ھم نے احادیث اور روایات کی رو سے غیبت کی تاریخ بیان کی ھے، کہ اللّٰہ کی طرف سے بہت سارے انبیاء مختلف مصلحتوں کی وجہ سے غائب ھوتے رھے ھیں ۔ آج یہ کہ امام زمان علیہ السلام کی غیبت کو کس طرح بیان کیا گیا اور یہ کتنے مراحل رکھتی ھے اس پہ گفتگو کریں گے ۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ۞
امام زمان عج کی غیبت کےاسباب
پانچواں درس : غیبت کے مراحل اور اسکا فلسفہ

استادِ محترم آغا علی اصغر سیفی صاحب

گفتگو کا موضوع امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت ھے، اس سے پہلے ھم نے احادیث اور روایات کی رو سے غیبت کی تاریخ بیان کی ھے، کہ اللّٰہ کی طرف سے بہت سارے انبیاء مختلف مصلحتوں کی وجہ سے غائب ھوتے رھے ھیں ۔ آج یہ کہ امام زمان علیہ السلام کی غیبت کو کس طرح بیان کیا گیا اور یہ کتنے مراحل رکھتی ھے اس پہ گفتگو کریں گے ۔

امام زمان ع کی غیبت کے مراحل
جیسا کہ آپ جانتے ھیں کہ امام زمان علیہ السلام کی غیبت دو مرحلوں میں سامنے آئی ۔۔
1️⃣غیبت صغریٰ
مختصر مدت کی غیبت جو کہ تقریباً 70 سال جاری رھی ھے ،اور اس میں مولا ع کی طرف سے چار نائب سامنے آئے کہ جنہیں نواب اربعہ یا نائبین خاص کہا جاتا ھے ۔

2️⃣غیبت کبریٰ
اور ایک غیبت کبریٰ ھے، کہ جو ابھی تک جاری ھے اور اس کے اندر امام زمانہ ع کی طرف سے اگر کوئی خاص نیابت کا دعویٰ کرے گا وہ کذاب ھے ۔اگر کوئی نائب ھے تو وہ یہی فقہاء اور مجتہدین ھیں کہ جن کی تقلید کا حکم دیا گیا ۔
اب یہ واضح سی بات ھے کہ غیبت کا مسئلہ شروع سے ھی طے پا چکا تھا۔ چونکہ پروردگار اپنے لامحدود علم کی وجہ سے جانتا تھا کہ لوگ آئمہ معصومین علیہم السلام کے ساتھ غیر مناسب رویہ رکھیں گے، اور بالترتیب یہ امام آتے رھے اور ظالموں کے ظلم اور اپنوں کی بےحسی ، نصرت نہ کرنے کی وجہ سے شہید ھوتے رھے۔تو پروردگار نے آخری امام ع، آخری حجت ع کو یہ مصلحت جانا کہ وہ ایک مدت تک غائب رہیں تاکہ لوگ امام کی عظمت ان کے وجود اور حضور کی اھمیت کو جانیں ،انہیں درک کریں اور ان کی نصرت کے لیے تیار ھوں اور ان کی ھمراھی میں پوری دنیا میں نظامِ امامت کو نافذ کریں۔

غیبت کیوں دو مرحلوں میں تقسیم ہوئی؟
اب غیبت کا جو مسئلہ ھے امام قائم ع کے حوالے سے وہ شروع سے معلوم تھا ۔۔۔۔ ھم دیکھتے ھیں کہ پیغمبر اکرم ﷺ سے لے کے امام عسکری علیہ السلام تک سب کی طرف سے روایات ، احادیث موجود ھیں۔ لیکن عام لوگوں کو شاید اس بات کا علم نہیں تھا، ھوسکتا ھے آئمہ ع کے اصحاب بھی اس موضوع کو اچھی طرح نہ جانتے ھوں ، لیکن یہ تھا ضرور ۔ ھماری احادیث اور روایات میں بیان ھوا تھا، اور آئمہ علیہم السلام بھی اس حوالے سے سمجھتے تھے کہ یہ شیعوں کے لیے ایک بہت ھی تلخ حقیقت ھوگی جب قائم ع غائب ھونگے اور وہ بڑی مشکل سے اسے تحمل کریں گے ۔ اس لیے تو غیبت کو دو مرحلوں میں رکھا گیا تاکہ غیبت صغریٰ میں شیعہ تیار ھوں۔۔۔ اصل ھدف غیبت کبریٰ ھی تھی لیکن شروع میں ایک مرحلہ رکھا گیا تاکہ لوگ ایک دم گمراہ نہ ھوں۔ اور اس حقیقت اور اس کے فلسفے کو سمجھیں اور ذھنی، فکری، روحی طور پر تیار ھوں غیبت کبریٰ کے لیے۔اور غیبت صغریٰ میں بالآخر امام ع سے خط و کتابت کا رابطہ تھا۔ ملاقات ممکن تھی، لوگوں کی طرف سے اگر تقاضہ ھو تو ممکن تھی۔
معصومین ع کے اقدامات
آئمہ معصومین ع نے بالآخر کونسے اقدامات کیے کہ شیعہ اس حقیقت کو تحمل کریں اور اس کو ایک امر دینی جانیں اور اس کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیں ۔

معصومین ع کی طرف سے امام زمانہ ع کی غیبت بیان ھونا
سب سے پہلی چیز جو ھم دیکھ رھے ھیں وہ یہ کہ محمد و آل محمد ع نے احادیث اور روایات بیان کرتے ھوئے لوگوں کے سامنے امام قائم ع کی غیبت، اس کا فلسفہ، اور کیسے وہ غیبت کے بعد ظہور کریں گے۔ یہ غیبت کتنی طولانی ھے اور کیا کیا مشکلات ھیں ، کیوں غیبت ھوئی ھے ،یہ ساری چیزیں احادیث اور روایات میں بیان ھوئی ھیں۔ ھم بالترتیب کچھ معصومین علیہم السلام کے اس حوالے سے فرامین نقل کریں گے اور کچھ بعد والے درس میں ۔۔۔۔
یعنی تقریباً تمام معصومین ع سے ھم یہ مولا ع کے حوالے سے غیبت کی روایات بیان کریں گے تاکہ یہ واضح ھو کہ غیبت کا مسئلہ کوئی اک دم نہیں ھوا یہ اس سے پہلے محمد و آل محمد ع کی فرامین میں تھا اور لوگوں کو اس حقیقت کی طرف متوجہ کیا گیا تھا کہ یہ ھونا ھے ھر صورت میں ۔۔۔۔ اس لیے ھمارے پاس تمام معصومین علیہم السلام کی طرف سے غیبت کے بارے میں روایات صادر ھوئی ھیں ۔
مرحوم شیخ صدوق رح نے اپنی کتاب کمال الدین کے اندر ان روایات کی طرف اشارہ کیا ھے اور ھر امام ع سے اس موضوع کو جدا جدا بیان کیا ہے۔۔۔۔ اب وہاں سے ھم کچھ روایات آپ کی خدمت میں پیش کرتے ھیں ۔

نبی اکرم ﷺ کا فرمان
سب سے پہلے نبی اکرم ﷺ کا فرمان البتہ یہ واضح رھے کہ تمام روایات بیان نہیں کریں گے بلکہ ھر معصوم سے ایک روایت غیبت کے حوالے سے بیان کریں گے تاکہ یہ بات واضح رھے کہ ھر معصوم نے غیبت کے بارے میں گفتگو کی اور غیبت کا مسئلہ شروع سے بیان ھوتا رھا ۔
نبی اکرم ﷺ کا فرمان ھے
طَوبٰى لِمَن أدرَکَ قَائِمَ أَهلَ بَيتِي وَهُوَ يَاتَمُّ بِهٖ فِى غَيبَتِهٖ قَبلَ قِيَامِهٖ وَ يَتَوَلّٰى اَوْلِيَائهُ وَ يُعَادِى اَعْدَاءَهُ ذٰلِكَ مِنْ رُفَقَائِی وَ ذَوِى مَوَدَّتِى وَ اَكْرَمُ اُمَّتِى عَلٰى يَومَ الْقِيَامَه
” (اس شخص کے لیے خوشخبری ھے جو میرے قائم ع کو اس حال میں پائے کہ میری اھل بیت ع کے قائم کو کہ ان کے ظہور سے پہلے ان کی غیبت میں قائم کی امامت پر ایمان رکھتا ھو ،ان کے چاھنے والوں سے محبت رکھتا ھو، ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھتا ھو وہ قیامت کے دن میرا دوست ھے، میرا چاھنے والا ھے اور میری امت کا سب سے زیادہ عزت پانے والا شخص ھے۔”
اب آپ یہاں دیکھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام قائم ع کی غیبت کو بیان کیا اور ان کی غیبت میں جو ھمارے وظائف ھیں ان کی طرف بھی اشارہ کیا،
پہلا وظیفہ = مولا ع کی امامت پر ایمان ،یعنی ان کی معرفت اور امامت پر
دوسرا وظیفہ = مولا ع کے چاھنے والوں سے محبت
تیسرا وظیفہ= ان کے دشمنوں سے دشمنی
یہ ایک قسم کی تیاری بھی ھے اور پھر اس کا اجر و ثواب بھی بیان کیا۔

امیر المومنین علی ع کا فرمان
دوسرا فرمان امیر المومنین علی ابن ابی طالب ع کا ھے ۔
فرماتے ھیں کہ۔۔۔۔

لِلْقَائِمِ مِنَّا غَيبَةٌ اَمَدُهَا طَوِيلٌ…اَلَّا فَمَنْ ثَبَتَ مِنهُم عَلٰى دِينِهٖ وَلَمْ يَقْسُ قَلبُهُ لِطُولِ اَمَدِ غَيبَةِ اِمَامِهِ فَهُوَ مَعِى فِى دَرجَتِى يَومَ القِيَامَه
ترجمہ: ھمارے قائم کے لیے طولانی مدت غیبت ھے ۔۔۔۔یہ جان لو جو بھی اس زمانے میں یعنی غیبت کے زمانے میں اپنے دین پر محکم اور استوار ھوگا یعنی دین پر ثابت قدم رھے گا ، اور اس کا دل امام ع کی طولانی غیبت کی وجہ سے سخت نہیں ھوگا، یہ شخص روز قیامت میرا ھم مرتبہ ھوگا۔”
یہاں بھی آپ توجہ فرمائیں امیر المومنین ع نے امام قائم ع کی غیبت اور پھر اس کی طولانی مدت کی طرف اشارہ کیا کہ قائم کی غیبت ہے اور اس کی مدت طولانی ھے، اور یہ بھی فرمایا کہ اس غیبت کے دوران ھمارا وظیفہ کیا ھے، ایک تو اپنے دین کو سمجھنا، دین کی معرفت اور اس پر ثابت قدمی اور اپنے دل کو سخت نہ کرنا۔ غیبت کی وجہ سے مطلب یہ ھے کہ یہ نہ سمجھ لینا کہ بس ھم نے ایسے ھی زندگی گزارنی ھے ، امام ع نے غائب رھنا ھے یعنی اس چیز سے عادت نہیں کرنی بلکہ امام ع کے ظہور کے لیے کوشش کرنی ھے ، اپنے دل کو نرم رکھنا ھے اور وہ فرائض ادا کرنے ھیں جن کا تعلق مولا ع کے ظہور سے ھے جیسے انتظار ۔ کیونکہ کچھ لوگ قائم ع کی غیبت کے دوران اتنے سخت دل ھوجائیں گے ھوسکتا ھے کہ امامت سے خارج ھوجائیں ۔ھوسکتا ھے مخالف ھوجائیں امام ع کے ،کہ وہ کیوں نہیں ظہور کرتے بجائے اس کے کہ اپنے فرائض ادا کریں الٹا امام ع پر اپنی زبانیں کھول لیں گے، جیسے آج بھی ھم دیکھتے ھیں ۔
تو یہ وہ لوگ ھیں کہ جن کے دل بجائے کہ امام ع کی محبت سے نرم رھتے اور وہ امام ع کے لیے کوشش کرتے ہیں ظہور کی اور وہ تڑپتے ہیں اپنے وقت کے امام کے لیے الٹا وہ اظہارِ دشمنی کریں گے، اظہار ناراضگی کریں گے۔ یہ لوگ بالآخر معرفت امام ع سے دور ھیں اور ان کی امامت سے بھی خارج ھونگے ۔ اس طرح کے لوگ آج بھی ھم دیکھ رھے ھیں۔
تو مولا ع فرماتے ھیں کہ جو بھی اپنے دین پر ثابت قدم رھے گا اور اس کا دل اپنے زمانے کے امام ع کے لیے تڑپے گا،نرم ھوگا، ایسا شخص روز قیامت میرا ھم مرتبہ ھوگا۔

تو پرودگار سے دعا ھے کہ ھم بھی انہی لوگوں میں سے قرار پائیں کہ جو اپنے دین پر ثابت قدم رہیں، اور ھمارا دل زمانے کے امام ع کے لیے بے چین ھو ، مضطرب ھو، ان کے لیے ھمیشہ نرم ھو اور کوشش کرنے والے ھوں۔ پرودگار ھم سب کو مولا ع کے خدمت گزار ناصروں میں سے قرار پائیں اور اس غیبت کے تلخ دور میں اپنے وظائف ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔ الہی آمین

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=42325