وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، عظیم اسلامی مفکر شہید باقر الصدر کی برسی کی مناسبت سے شعبہ تحقیق جامعہ روحانیت بلتستان، مجمع طلاب شگر اور شہید صدر ریسرچ سنٹر کے باہمی تعاون سے ایک علمی و فکری نشست فاطمیہ ہال حسینیہ بلتستانیہ قم میں برگزار ہوئی۔ اس پروگرام کا باقاعدہ آغاز قاری حافظ نصر اللہ فخرالدین نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ تلاوت کے فوراً بعد مجمع طلاب شگر کے شعبہ تحقیق کے سیکرٹری جناب سکندر بہشتی نے نشست کے اہداف اور ترغیب مطالعہ مہم کے بارے میں شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس نشست سے حوزہ علمیہ کے دو بزرگ اساتید نے خطاب کیا۔ شہید باقر الصدر کے افکار پر مشتمل الافکار مجلے کی خصوصی اشاعت کی رونمائی بھی کی گئی اور نشست کے آخر میں شہید صدر کی کتاب آزمائش کے کتابخوانی مقابلے میں شرکت کرنے والوں کے درمیان انعامات بھی تقسیم ہوئے۔ نشست کی نظامت سیکرٹری شعبہ تحقیق جامعہ روحانیت بلتستان جناب سجاد شاکری کر رہے تھے۔
تفصیلات کے مطابق شہید باقر الصدر کی برسی کی مناسبت سے 18 اپریل کو حسینیہ بلتستانیہ قم میں منعقد علمی اور فکری نشست سے استاد حوزہ علمیہ حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ فدا علی حلیمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کا ایک اہم حکم “نیکی اور تقویٰ” کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون ہے۔ لہذا ہمیں تمام مادی، معنوی، حقوقی، علمی، سیاسی، فقہی اور دیگر مسائل کو حل کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیئے۔ انہوں نے شہید کے افکار کی خصوصیات میں سے چار اہم خصوصیات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا:
1۔ شہید کے افکار کی پہلی خصوصیت اصالت اور دین محوری ہے۔ آپ کے افکار میں مکمل طور پر دین اور اسلامی تعلیمات حاکم ہیں۔ لہذا وہ کسی سے متاثر نظر نہیں آتے۔
2۔ دوسری خصوصیت معاصرت ہے، یعنی معاشرتی ضروریات کو مدنظر رکھنا ہے۔ آپ نے اپنے دور کی اہم ضروریات کو سمجھا۔ جیسے اقتصادیات، بلاسودی بینک، اسلام رہنمائے زندگی جیسے موضوعات ان کی واضح مثالیں ہیں۔
3۔ شہید کی تیسری خصوصیت نبوغ ہے۔ فوق العادہ صلاحیت کے ساتھ محنت اور کوشش اور وقت سے استفادہ ان کی ایک اور خصوصیت تھی۔
4۔ شہید کی چوتھی اہم خصوصیت جامعیت و کاملیت ہے۔ انبیاء و ائمہ کے بعد ہمیں جامع شخصیات کا مطالعہ کرنا چاہیئے۔ ایسی شخصیات جو عمیق ہونے کے ساتھ روشن اور تابناک معنویت کے حامل ہوں۔
اس علمی و فکری نشست کے دوسرے خطیب اور مہمان خصوصی استاد حوزہ علمیہ حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ محمد علی توحیدی علم و تحقیق کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ علمائے کرام، حوزات علمیہ، انبیاء اور ائمہ سب کا ہدف انسان سازی ہے اور انسان سازی کے لیے بنیادی چیز انسان کی فکری، عقلی، ذہنی اور منطقی تربیت اور اس پر اخلاق کی عمارت تعمیر ہے، تاکہ ہم خود انسان بنیں اور دوسروں کو بھی انسان بنائیں۔ اس عمل کی بنیاد علم و تحقیق ہے۔ انہوں نے اس وقت علم و تحقیق سے دوری کو مسلمان معاشروں کی بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں کتابوں کی اشاعت کا عدم رجحان، لائبریز و کتب خانوں کا فقدان، علم و تحقیق پر خرچ نہ کرنا ایسے عوامل ہیں۔ جس سے معاشرہ ترقی نہیں کر پاتا۔ اس وقت معاشرہ میں ماہر و باصلاحیت محققین و شخصیات کی ضرورت ہے۔ جو گروہی شکل میں اپنے شعبے میں کام کریں۔
نشست کے آخر میں شہید صدر کی کتاب آزمائش سے منعقد “ترغیب مطالعہ” کے تحت منعقدہ انعامی مقابلہ میں شرکت کرنے والے افراد میں انعامات بھی تقسیم کئے گئے اور علمی و فکری مجلہ الافکار کا پہلا شمارہ بھی شرکاء میں تقسیم کیا گیا۔ واضح رہے مجلہ الافکار عصر حاضر کی مختلف علمی و فکری شخصیات کے آراء و نظریات سے آگاہی کے لیے شائع کیا جاتا ہے۔ جس کا پہلا شمارہ شہید صدر علیہ الرحمہ کے افکار پر مشتمل ہے۔ واضح رہے یہ نشست اور مسابقہ کتابخوانی شعبہ تحقیق جامعہ روحانیت بلتستان، مجمع طلاب شگر اور شہید صدر ریسرچ سنٹر کے باہمی تعاون سے منعقد کیا گیا ہے۔












