6

پانچ گروہوں کا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مناظرہ

  • News cod : 50349
  • 14 سپتامبر 2023 - 12:36
پانچ گروہوں کا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مناظرہ
۲۵ / افراد پر مشتمل اسلام مخالفوں کے پانچ گروہ نے آپس میں یہ طے کیا کہ پیغمبر کے پاس جاکر مناظرہ کریں۔ان گروہوں کے نام اس طرح تھے: یہودی، عیسائی، مادّی، مانُوی اور بت پرست۔یہ لوگ مدینہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چاروں طرف بیٹھ گئے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بہت ہی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو بحث آغاز کرنے کی اجازت دی۔

کتاب ۱۰۱ دلچسپ مناظرے” سے اقتباس
۲۵ / افراد پر مشتمل اسلام مخالفوں کے پانچ گروہ نے آپس میں یہ طے کیا کہ پیغمبر کے پاس جاکر مناظرہ کریں۔ان گروہوں کے نام اس طرح تھے: یہودی، عیسائی، مادّی، مانُوی اور بت پرست۔یہ لوگ مدینہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چاروں طرف بیٹھ گئے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بہت ہی کشادہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو بحث آغاز کرنے کی اجازت دی۔
یہودی گروہ نے کہا:”ہم اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”عزیر“ نبی( ۱۴ ) خدا کے بیٹے ہیں، ہم آپ سے بحث و گفتگو کرنا چاہتے ہیں اور اگر اس مناظرہ میں ہم حق پر ہوں تو آپ بھی ہمارے ہم عقیدہ ہوجائیں کیونکہ ہم آپ سے مقدم ہیں، اور اگر آپ نے ہماری موافقت نہ کی تو پھر ہم آپ کی مخالفت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے“۔
عیسائی گروہ نے کہا:”ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بیٹے ہیں، اور خدا ان کے ساتھ متحد ہوگیا ہے، ہم آپ کے پاس بحث و گفتگو کرنے کے لئے آئے ہیں، اگر آپ ہماری پیروی کریں اور ہمارے ہم عقیدہ ہوجائیں (تو بہتر ہے) کیونکہ ہم اس عقیدہ میں آپ سے مقدم ہیں، اور اگر آپ نے ہمارے اس عقیدہ میں مخالفت کی تو ہم (بھی) آپ کی مخالفت کریں گے“۔
مادّہ پرست (منکر خدا) گروہ نے کہا:
”ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ ”موجوات عالَم“ کا کوئی آغاز اور انجام نہیں ہے، اور یہ ”عالَم“ قدیم اور ہمیشہ سے ہے، ہم یہاں آپ سے بحث و گفتگو کے لئے آئے ہیں، اگر آپ ہماری موافقت کریں گے تو واضح ہے کہ برتری ہماری ہوگی، ورنہ ہم آپ کی مخالفت کریں گے“۔
دو گانہ پرست آگے بڑھے اور کہا:
ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس دنیا کے دو مربی، دو تدبیر کرنے والے اور دو مبدا ہیں، جن میں سے ایک نور اور روشنی کا خلق کرنے والا ہے اور دوسرا ظلمت اور تاریکی کا خالق ہے، ہم یہاں پر آپ سے مناظرہ کرنے کے لئے آئے ہیں، اگر آپ اس بحث میں ہمارے ہم عقیدہ ہوگئے تو بہتر ہے اور اس میں ہماری سبقت اور برتری ہے، اور اگر آپ نے ہماری مخالفت کی تو ہم بھی آپ کی مخالفت کریں گے“۔
بت پرستوں نے کہا:
ہم اس بات پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ ہمارے بت ہمارے خدا ہیں، ہم آپ سے اس سلسلہ میں بحث و گفتگو کرنے آئے ہیں، اگر آپ اس عقیدہ میں ہمارے موافق ہوگئے تو معلوم ہے کہ سبقت اور تقدم ہمارا ہے، ورنہ تو ہم آپ سے دشمنی کریں گے“۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جواب میں ارشاد فرمایا:
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پہلے کلی طور پر جواب میں بیان فرمایا:
(تم نے اپنا عقیدہ بیان کردیا، اب میری باری ہے کہ میں اپنا عقیدہ بیان کروں) ”میرا عقیدہ ہے کہ خداوندعالم وحدہ لاشریک ہے، میں اس کے علاوہ ہر دوسرے معبود کا منکر ہوں، اور میں ایسا پیغمبر ہوں جس کو خداوندعالم نے تمام دنیا کے لئے مبعوث کیا ہے، میں خداوندعالم کی رحمت کی بشارت اور اس کے عذاب سے ڈرانے والا ہوں، نیز میں دنیا بھر کے تمام لوگوں پر حجت ہوں، اور خداوندعالم مجھے دشمنوں اور مخالفوں کے خطرہ سے محفوظ رکھے گا“۔
اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان گروہوں کو باری باری مخاطب کیا تاکہ ہر ایک سے الگ الگ مناظرہ کریں، چونکہ یہودیوں کے گروہ نے چیلنج کیا تھا اس وجہ سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہودیوں کے گروہ کو مخاطب کیا:
ا۔ یہودیوں سے مناظرہ
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : کیا تم لوگ یہ چاہتے ہو کہ میں تمہاری باتوں کو بغیر کسی دلیل کے مان لوں؟ یہودی گروہ: نہیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : اس بات پر تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ ”عزیر“ خدا کا بیٹا ہے؟
یہودی گروہ: کتاب ”توریت “مکمل طور پر نیست و نابود ہوچکی تھی اور کوئی اس کو زندہ نہیں کرسکتا تھا، جناب عزیر نے اس کو زندہ کیا، اس وجہ سے ہم کہتے ہیں کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : اگر تمہارے پاس جناب عزیر کے خدا کا بیٹا ہونے پر یہی دلیل ہے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جو توریت لانے والے اور جن کے پاس بہت سے معجزات تھے جن کا تم لوگ خود اعتراف کرتے ہو، وہ تو اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ خدا کے بیٹے یا اس سے بھی بالاتر ہوں ! پس تم لوگ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے یہ عقیدہ کیوں نہیں رکھتے جن کا درجہ جناب عزیر سے بھی بلند و بالا ہے؟
اس کے علاوہ اگر خدا کا بیٹا ہونے سے تمہارا مقصود یہ ہے کہ عزیر بھی دوسرے باپ اور اولاد کی طرح شادی اور ہمبستری کے ذریعہ خدا سے پیدا ہوا ہے تو اس صورت میں تم نے خدا کو ایک مادّی، جسمانی اور محدود موجودقرار دیدیا ہے، جس کا لازمہ یہ ہے کہ خدا کے لئے کوئی خلق کرنے والا ہو، اور اس کو دوسرے خالق کا محتاج تصور کریں۔
یہودی گروہ: جناب عزیر کا خدا کا بیٹا ہونے سے ہماری مراد یہ نہیں ہے کہ ان کی اس طرح ولادت ہوئی، کیونکہ یہ معنی مراد لینا جیسا کہ آپ نے فرمایا کفر و جہل کے مترادف ہے، بلکہ ہماری مراد ان کی شرافت اور ان کا احترام ہے،جیسا کہ ہمارے بعض علماء اپنے کسی ایک ممتاز شاگرد کو دوسروں پر ترجیح دیتے ہیں اور اس کے لئے کہتے ہیں: ”اے میرے بیٹے!“ یا ”وہ میرا بیٹا ہے“، یہ بات تو معلوم ہے کہ ولادت کے لحاظ سے بیٹا نہیں ہے کیونکہ شاگرد ،استاد کی اولاد نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سے کوئی رشتہ داری ہوتی ہے، اسی طرح خداوندعالم نے جناب عزیر کی شرافت اور احترام کی وجہ سے ان کو اپنا بیٹا کہا ہے، اور ہم بھی اسی لحاظ سے ان کو ”خدا کا بیٹا“ کہتے ہیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : تمہارا جواب وہی ہے جو میں دے چکا ہوں، اگر یہ منطق اور دلیل اس بات کا سبب ہے کہ جناب عزیر خدا کے بیٹے بن جائیں تو پھر جو شخص جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جناب عزیر سے بھی بلند و بالا ہوں اس بات کا زیادہ مستحق ہیں۔
خداوندعالم کبھی بعض لوگوں کو دلائل اور اپنے اقرار کی وجہ سے عذاب کرے گا، تمہاری دلیل اور تمہارا اقرار اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تم لوگ جناب موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اس سے بڑھ کر کہو جو جناب عزیر کے بارے میں کہتے ہو، تم لوگوں نے مثال دی اور کہا: کوئی بزرگ اور استاد اپنے شاگرد سے کوئی رشتہ داری نہیں رکھتا بلکہ اس سے محبت اور احترام کی وجہ سے کہتا ہے:
”اے میرے بیٹے!“ یا ”وہ میرا بیٹا ہے“، اس بناء پر تم لوگ یہ بھی جائز سمجھو کہ وہ اپنے دوسرے محبوب شاگرد سے کہے: ”یہ میرا بھائی ہے“، اور کسی دوسرے سے کہے: ”یہ میرا استاد ہے“، یا ”یہ میرا باپ اور میرا آقا ہے“۔
یہ تمام الفاظ شرافت اور احترام کی وجہ سے ہیں، جس کا بھی زیادہ احترام ہواس کو بہتر اور با عظمت الفاظ سے پکارا جائے، اس صورت میں تم اس بات کو بھی جائز مانو کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بھائی ہیں، یا خدا کے استاد یا باپ ہیں، کیونکہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کا مرتبہ جناب عزیر سے بلند و بالا ہے۔
اب میں تم سے ایک سوال کرتا ہوں کہ کیا تم لوگ اس بات کو جائز مانتے ہو کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) خدا کے بھائی، یا خدا کے باپ یا خدا کے چچا، یا خدا کے استاد ، آقا اور ان کے سردار ہوں، اور خداوندعالم احترام کی وجہ سے جناب موسیٰ (علیہ السلام) سے کہے: اے میرے باپ!، اے میرے استاد، اے میرے چچا اور اے میرے سردار۔۔۔؟
یہ سن کریہودی گروہ لا جواب ہوگیا اور اس سے کوئی جواب نہ بن پایا، اور وہ حیران و پریشان رہ گئے تھے،چنانچہ انھوں نے کہا: ”آپ ہمیں غور و فکر اور تحقیق کرنے کی اجازت دیں!“
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : بے شک تم لوگ اگر پاک و صاف دل اور انصاف کے ساتھ اس سلسلہ میں غور و فکر کرو تو خداوندعالم تم لوگوں کو حقیقت کی طرف راہنمائی فرمادے گا۔
۲۔ عیسائیوں سے مناظرہ
عیسائیوں کی باری آئی تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے فرمایا:
تم لوگ کہتے ہو کہ خداوندقدیم اپنے بیٹے حضرت عیسیٰ مسیح کے ساتھ متحد ہے، اس عقیدہ سے تمہاری مراد کیا ہے؟
کیا تم لوگوں کی مراد یہ ہے کہ خدانے اپنے قدیم ہونے سے تنزل کرلیا ہے، اور ایک حادث (جدید خلقت) موجود میں تبدیل ہوگیا ہے، اور ایک حادث موجود (جناب عیسیٰ) کے ساتھ متحد ہوگیا ہے یا اس کے برعکس، یعنی حضرت عیسیٰ جو ایک حادث اور محدود موجود ہیں انھوں نے ترقی کی اوروہ خداوندقدیم کے ساتھ متحد ہوگئے ہیں، یا اتحاد سے تمہارا مقصد صرف حضرت عیسیٰ کا احترام اور شرافت ہے؟!
اگر تم لوگ پہلی بات کو قبول کرتے ہو یعنی قدیم وجود حادث وجود میں تبدیل ہوگیا تو یہ چیز عقلی لحاظ سے محال ہے کہ ایک ازلی و لامحدود چیز، حادث اور محدود ہوجائے۔اور اگر دوسری بات کو قبول کرتے ہو تو وہ بھی محال ہے، کیونکہ عقلی لحاظ سے یہ چیز بھی محال ہے کہ ایک محدود اور حادث چیز لامحدود اور ازلی ہوجائے۔
اور اگر تیسری بات کے قائل ہو تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جناب عیسیٰ (علیہ السلام) دوسرے بندوں کی طرح حادث ہیں لیکن وہ خدا کے ممتاز اور لائق احترام بندہ ہیں، تو اس صورت میں بھی خداوندکا (جو قدیم ہے) جناب عیسیٰ (علیہ السلام) سے متحد اور برابر ہونا قابل قبول نہیں ہے۔
عیسائی گروہ: چونکہ خداوندعالم نے حضرت عیسیٰ مسیح (علیہ السلام) کو خاص امتیازات سے نوازا ہے، عجیب و غریب معجزات اور دوسری چیزیں انھیں دی ہیں، اسی وجہ سے ان کو اپنا بیٹا قرار دیا ہے، اور یہ خدا کا بیٹا ہونا شرافت اور احترام کی وجہ سے ہے!
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : ”بعینہ یہی مطلب یہودیوں سے گفتگو کے درمیان بیان ہوا ہے اور تم لوگوں نے سنا کہ اگر یہ طے ہو کہ خداوندعالم نے ان کو امتیاز اور (معجزات) کی بنا پر اپنا بیٹا قرار دیا ہو تو پھر جو شخص جناب عیسیٰ (علیہ السلام) سے بلند تر یا ان کے برابر ہو تو پھر اس کو اپنا باپ، یا استاد یا اپنا چچا قرار دے۔۔۔“۔
عیسائی گروہ یہ اعتراض سن کر لاجواب ہوگیا، نزدیک تھا کہ ان سے بحث و گفتگو ختم ہوجائے، لیکن ان میں سے ایک شخص نے کہا:
کیا آپ جناب ابراہیم( علیہ السلام) کو ”خلیل خدا“ (یعنی دوست خدا) نہیں مانتے؟“۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : جی ہاں، مانتے ہیں۔
عیسائی: اسی بنیاد پر ہم جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کو ”خدا کا بیٹا“ مانتے ہیں، پھر کیوں آپ ہم کو اس عقیدہ سے روکتے ہیں؟
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : یہ دونوں لقب آپس میں بہت فرق رکھتے ہیں،لفظ ”خلیل“ دراصل لغت میں ”خَلّہ“ (بروزن ذرّة) سے ہے جس کے معنی فقر و نیاز اور ضرورت کے ہیں، کیونکہ جناب ابراہیم( علیہ السلام) بھی نہایت خدا کی طرف متوجہ تھے، اور عفت نفس کے ساتھ، غیر سے بے نیاز ہوکر صرف خداوندعالم کی بارگاہ کا فقیر اور نیاز مند سمجھتے تھے، اسی وجہ سے خداوندعالم نے جناب ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا ”خلیل“ قرار دیا، تم لوگ جناب ابراہیم( علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کا واقعہ یاد کرو:
جس وقت (نمرود کے حکم سے) ان کو منجنیق میں رکھا تاکہ ان کو آسمان سے باتیں کرتی ہوئی آگ کے اندر ڈالا جائے، اس وقت جناب جبرئیل خدا کی طرف سے آئے اور فضا میں ان سے ملاقات کی اور ان سے عرض کی کہ میں خدا کی طرف سے آپ کی مدد کرنے کے لئے آیا ہوں، جناب ابراہیم( علیہ السلام) نے ان سے کہا: مجھے غیر خدا کی کوئی ضرورت نہیں ہے، مجھے اس کی مدد کافی ہے، وہ بہترین محافظ اور مددگار ہے، اسی وجہ سے خداوندعالم نے جناب ابراہیم( علیہ السلام) کو اپنا ”خلیل“ قرار دیا، خلیل یعنی خداوندعالم کا محتاج اور ضرورت مند، اور خلق خدا سے بے نیاز۔
اور اگر لفظ خلیل کو ”خِلّہ“ (بروزن پِلّہ) سے مانیں جس کے معنی ”معانی کی تحقیق اور خلقت وحقائق کے اسرار و رموز پر توجہ کرنا ہے“، اس صورت میں بھی جناب ابراہیم( علیہ السلام) خلیل ہیں یعنی وہ خلقت اور حقائق کے اسرار اور لطائف سے آگاہ تھے، اور یہ معنی خالق و مخلوق میں شباہت کی باعث نہیں ہوتی، اس بنا پر اگر جناب ابراہیم( علیہ السلام) صرف خدا کے محتاج نہ ہوتے، اور اسرار و رموز سے آگاہ نہ ہوتے تو خلیل بھی نہ ہوتے، لیکن باپ بیٹے کے درمیان پیدائشی حوالہ سے ذاتی رابطہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر باپ اپنے بیٹے سے قطع تعلق کرلے تو بھی وہ اس کا بیٹا ہے اور باپ بیٹے کا رشتہ باقی رہتا ہے۔
اس کے علاوہ اگر تمہاری دلیل یہی ہے کہ چونکہ جناب ابراہیم( علیہ السلام) خلیل خدا ہیں لہٰذا وہ خدا کے بیٹے ہیں، تو اس بنیاد پر تمہیں یہ بھی کہنا چاہئے کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) بھی خدا کے بیٹے ہیں، بلکہ جس طرح میں نے یہودی گروہ سے کہا، اگر یہ طے ہو کہ لوگوں کے مقام و عظمت کی وجہ سے یہ نسبتیں صحیح ہوں تو کہنا چاہئے کہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) خدا کے باپ، استاد، چچا یا آقا ہیں۔۔۔ جبکہ تم لوگ کبھی بھی ایسا نہیں کہتے۔
عیسائیوں میں سے ایک شخص نے کہا: حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی کتاب انجیل کے حوالہ سے بیان ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا: ”میں اپنے اور تمہارے باپ کی طرف جارہا ہوں“، لہٰذا اس جملہ کی بنا پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے خود کو خدا کا بیٹا قرار دیا ہے!
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : اگر تم لوگ کتاب انجیل کو قبول کرتے ہو تو پھر اس جملہ کی بنا پر تم لوگ بھی خدا کے بیٹے ہو، کیونکہ جناب عیسیٰ کہتے ہیں: ”میں اپنے اور تمہارے باپ کی طرف جارہا ہوں“، اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ میں بھی خدا کا بیٹا ہوںاور تم بھی۔
دوسری طرف یہ عبارت تمہاری گزشتہ کہی ہوئی بات (یعنی چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) خاص امتیازات، شرافت اور احترام رکھتے تھے اسی وجہ سے خداوندعالم نے ان کو اپنا بیٹا قرار دیا ہے) کو باطل اور مردود قرار دیتی ہے، کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس جملہ میں صرف خود ہی کو خدا کا بیٹا قرار نہیں دیتے بلکہ سبھی کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔
اس بنا پر بیٹا ہونے کا معیار حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاص امتیازات (اور معجزات میں سے) نہیں ہے، کیونکہ دوسرے لوگوں میں اگرچہ یہ امتیازات نہیں ہیں لیکن خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سے نکلے ہوئے جملہ کی بنا پر خدا کے بیٹے ہیں، لہٰذا ہر مومن اور خدا پرست انسان کے لئے کہا جاسکتا ہے: وہ خدا کا بیٹا ہے، تم لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قول کو نقل کرتے ہو لیکن اس کے برخلاف گفتگو کرتے ہو۔
کیوں تم لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو میں بیان ہونے والے ”باپ بیٹے“ کے لفظ کو اس کے غیر معنی میں استعمال کرتے ہو، شاید جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کی مراد اس جملہ ”میں اپنے اور تمہارے باپ کی طرف جارہا ہوں“، سے مراد اس کے حقیقی معنی ہوں یعنی میں حضرت آدم و نوح (علیہما السلام) کی طرف جارہا ہوں جو ہمارے سب کے باپ ہیں، اور خداوندعالم مجھے ان کے پاس لے جارہا ہے، جناب آدم و نوح ہمارے سب کے باپ ہیں، اس بنا پر تم کیوں اس جملہ کے ظاہری اور حقیقی معنی سے دوری کرتے ہو اور اس سے دوسرے معنی مرادلیتے ہو؟!
عیسائی گروہ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مستدل گفتگو سے اس قدر مرعوب ہواکہ کہنے لگے: ہم نے آج تک کسی کو ایسا نہیں دیکھا کہ اس ماہرانہ انداز میں اس طرح بحث و گفتگو کرے جیسا کہ آپ نے کی ہے، ہمیں اس بارے میں غور و فکر کی فرصت دیں۔
۳۔ منکرین خدا سے مناظرہ
مادّیوں اور منکرین خدا کی باری آئی تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی طرف رخ کرتے ہوئے فرمایا: تم لوگ اس بات کا عقیدہ رکھتے ہو کہ اس موجودات عالم کا کوئی آغاز نہیں ہے بلکہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
منکرین خدا: جی ہاں، یہی ہمارا عقیدہ ہے، کیونکہ ہم نے اس دنیا کے آغاز اور حدوث کو نہیں دیکھا، اور اسی طرح اس کے لئے فنا اور انتہا کا مشاہدہ نہیں کیا، لہٰذا ہمارا یہ فیصلہ ہے کہ یہ دنیا ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : میں بھی آپ لوگوں سے سوال کرتا ہوں کہ کیا تم نے موجودات کے قدیم، ہمیشگی اور ابدی ہونے کو دیکھا ہے؟
اگر تم کہتے ہو کہ ہم نے دیکھا ہے تو تمہیں اسی عقل و فکر اور بدنی طاقت کے ساتھ ہمیشہ سے ابد تک رہنا چاہئے تاکہ تمام موجوات کی ازلیت اور ابدیت کو دیکھ سکو، جبکہ ایسا دعویٰ عقل اور عینی واقعیت کے برخلاف ہے ، اور دنیا کے سبھی عقلمند حضرات اس بات میں تمہیں جھٹلائیں گے۔
منکرین خدا: ہم نے ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا کہ ہم نے موجودات کے قدیم ہونے کو دیکھا ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : تم کو ایک طرفہ فیصلہ نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ تم لوگوں نے خود اقرار کیا ہے کہ نہ ہم نے موجودات کو دیکھا ہے اور نہ ان کے قدیم ہونے کو، اور نہ ہی ان کی نابودی کو دیکھا ہے اور نہ ان کی بقاء کو، پس تم کس طرح ایک طرفہ فیصلہ کرسکتے ہو،اور تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ چونکہ ہم نے موجودات کے حدوث اور فنا کو نہیں دیکھا لہٰذا موجودات قدیمی اور ابدی ہیں؟
(اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے ایک سوال کیا جس میں ان کے عقیدہ کو مردود کرتے ہوئے ثابت کیا کہ تمام موجودات حادث ہیں) چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
کیا تم نے دن اور رات کو دیکھا ہے جو ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں اور ہمیشہ آمد و رفت کرتے ہیں۔
منکرین خدا: جی ہاں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : کیا تم لوگ دن و رات کو اس طرح دیکھتے ہو کہ ہمیشہ سے تھے اور ہمیشہ رہیں گے۔
منکرین خدا: جی ہاں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : کیا تمہاری نظر میں یہ ممکن ہے کہ یہ دن رات ایک جگہ جمع ہوجائیں اور ان کی ترتیب ختم ہوجائے؟
منکرین خدا: نہیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : پس اس صورت میں ایک دوسرے سے جدا ہیں، جب ایک کی مدت پوری ہوجاتی ہے تب دوسرے کی باری آتی ہے۔
منکرین خدا: جی ہاں، اسی طرح ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : تم لوگوں نے اپنے اس اقرار میں شب و روز میں مقدم ہونے والے کے حدوث کا اقرار کرلیا ہے بغیر اس کے کہ تم لوگوں نے اس کا مشاہدہ کیا ہو، لہٰذا تمہیں خدا کا بھی منکر نہیں ہونا چاہئے۔
اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
”کیا تمہاری نظر میں دن رات کا کوئی آغاز ہے یاان کا کوئی آغاز نہیں ہے اور ازلی ہے؟ اگر تم یہ کہتے ہو کہ آغاز ہے تو ہمارا مقصد ”حدوث“ ثابت ہوجائے گا اور اگر تم لوگ یہ کہتے ہو کہ اس کا کوئی آغاز نہیں ہے تو تمہاری اس بات کا لازمہ یہ ہے کہ جس کا انجام ہو اس کا کوئی آغاز نہ ہو۔
(جب دن رات انجام کے لحاظ سے محدود ہیں تو یہاں پر عقل کہتی ہے کہ آغاز کے لحاظ سے بھی محدود ہے، شب و روز کے محدود ہونے کی دلیل یہ ہے کہ ایک دوسرے سے جدا ہیں اور یکے بعد دیگرے گزرتے رہتے ہیں اور پھر ایک کے بعد دوسرے کی باری آتی ہے)
اس کے بعد فرمایا:
تم لوگ کہتے ہو کہ یہ عالم قدیم ہے، کیا تم نے اپنے اس عقیدہ کو خوب سمجھ بھی لیا ہے یا نہیں؟
منکرین خدا: جی ہاں، ہم جانتے ہیں کہ کیا کہہ رہے ہیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : کیا تم لوگ دیکھتے ہو کہ اس دنیا کی تمام موجودات ایک دوسرے سے تعلق اور پیوند رکھتے ہیں اور اپنی بقا ء میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں، جیسا کہ ہم ایک عمارت میں دیکھتے ہیں کہ اس کے اجزاء (اینٹ، پتھر، سیمنٹ وغیرہ) ایک دوسرے سے پیوند رکھتے ہیں اور اپنی بقاء میں ایک دوسرے کے محتاج ہیں۔
جب اس دنیا کے تمام اجزاء اسی طرح ہیں تو پھر کس طرح ان کو قدیم اور ثابت تصور کرسکتے ہو، اگر حقیقت میں یہ تمام اجزاء ایک دوسرے کے ساتھ پیوند رکھتے ہوں اور ضرورت رکھتے ہوں، قدیم ہیں اگر حادث ہوتے تو کیسے ہوتے؟
منکرین خدا لاجواب ہوگئے، اور حدوث کے معنی کو بیان نہیں کرسکے، کیونکہ جو کچھ بھی حدوث کے معنی میں کہہ سکتے تھے، اورجن چیزوں کو قدیم مانتے تھے ان پر یہ معنی صادق آتے تھے، لہٰذا بہت زیادہ حیران اور پریشان ہوگئے ، اور انھوں نے کہا: ہمیں غور و فکر کرنے کا موقع دیں۔( ۱۷ )
۴۔دوگانہ پرستوں سے مناظرہ
ان کے بعد دوگانہ پرستوں کی باری آئی جن کا عقیدہ یہ تھا کہ دنیا کے دو مبداء اور دو مدبر بنام ”نور“ اور ”ظلمت“ ہیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے فرمایا: تم کس بنیاد پر یہ عقیدہ رکھتے ہو؟
دوگانہ پرستوں نے جواب دیا: ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دنیا دو چیزوں سے تشکیل پائی ہے،اس دنیا میں یا خیر و نیکی ہے، یا شرّ اور برائی، جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کی ضد ہیں، اسی وجہ سے ہمارا عقیدہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کا خالق بھی الگ الگ ہے، کیونکہ ایک خالق دو متضاد چیزیں خلق نہیں کرتا، مثال کے طور پر: برف سے گرمی پیدا ہونا محال ہے، جیسا کہ آگ سے سردی پیدا ہونا بھی محال ہے، لہٰذا یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اس دنیا میں دو قدیم خالق ہیں ایک نور کا خالق (جو نیکیوں کا خالق ہے) اور دوسرا ظلمت کا خالق (جو برائیوں کا خالق ہے)۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : کیا تم لوگ اس بات کی تصدیق کرتے ہو کہ اس دنیا میں مختلف رنگ موجود ہیں جیسے کالا، سفید، سرخ، زرد، سبز اور مائل بہ سیاہی جبکہ یہ رنگ ایک دوسرے کی ضد ہیں کیونکہ ان میں دو رنگ ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے، جیسا کہ گرمی اور سردی ایک دوسرے کی ضد ہیں اور ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔
دوگانہ پرستوں نے جواب دیا: جی ہاں ہم تصدیق کرتے ہیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : تو پھر تم لوگ ہر رنگ کے عدد کے مطابق اتنے ہی خدا کے معتقد کیوں نہیں ہو؟ کیا تمہارے عقیدہ کے مطابق ہر ضد کا ایک مستقل خالق نہیں ہے؟ اس پر تم ہر ضد کی تعداد کے مطابق خالق کا کیوں عقیدہ نہیں رکھتے۔؟!
دوگانہ پرست اس دندان شکن سوال کے جواب دینے سے حیران و پریشان ہوگئے، اور غور و فکر میں غرق ہوگئے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی باتوں کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا: تمہارے عقیدہ کے مطابق نور اور ظلمت دونوں کس طرح ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس دنیا کو چلا رہے ہیں، جبکہ نور کی فطرت میں ترقی ہے اور ظلمت کی فطرت میں تنزلی ہوتی ہے، کیا دو شخص جن میں سے ایک مشرق کی طرف جارہا ہو اور دوسرا مغرب کی طرف جارہا ہو ، کیا یہ دونوں اسی طرح چلتے چلتے ایک جگہ جمع ہوسکتے ہیں؟!
دوگانہ پرستوں نے جواب دیا: نہیں ، ایسا ممکن نہیں ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : اس بنا پر کس طرح نور اور ظلمت جو ایک دوسرے کے مخالف اور متضاد ہیں آپس میں متحد ہوکر اس دنیا کی تدبیر کا کام انجام دے رہے ہیں؟ آیا اس طرح کی چیز ممکن ہے کہ یہ دنیا جو دو متضاد اور مخالف اسباب کی وجہ سے پیدا ہو؟ مسلّم طور پر ایسا ممکن نہیں ہے، پس معلوم یہ ہوا کہ یہ دونوں چیزیں مخلوق اور حادث ہیں اور خداوندقادر و قدیم کی تدبیر کے ماتحت ہیں۔
دوگانہ پرست مجبوراً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے لاجواب ہوگئے، اور انھوں نے اپنا سر جھکالیا، اور کہنے لگے: ہمیں غور و فکر کرنے کی فرصت عنایت فرمائیں!
۵۔ بت پرستوں سے مناظرہ
اب پانچویں گروہ یعنی بت پرستوں کی باری آئی ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی طرف رخ کرکے فرمایا: ”تم لوگ کیوں خدا کی عبادت سے روگرداں ہو اور ان بتوں کی پوجا کرتے ہو؟“
بت پرست: ہم ان بتوں کے ذریعہ خدا کی بارگاہ میں تقرب حاصل کرتے ہیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : کیا یہ بت کچھ سنتے بھی ہیں؟ اور کیا یہ بت خدا کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں، اور کیا اس کی عبادت اور پرستش کرتے ہیں؟ جس سے تم ان کے احترام کرنے کی بدولت خدا کا تقرب حاصل کرتے ہو؟
بت پرست: نہیں یہ تو نہیں سنتے اور نہ خداوندعالم کی عبادت اور پرستش کرتے ہیں!
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : کیا تم لوگوں نے ان کو اپنے ہاتھوں سے نہیں تراشا ہے اور ان کو نہیں بنایا ہے؟
بت پرست: کیوں نہیں، ہم نے ان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : اس بنا پر تم لوگ ان کے صانع اور بنانے والے ہو، مناسب تو یہ ہے کہ یہ تمہاری عبادت کریں نہ کہ تم لوگ ان کی عبادت اور پرستش کرو، اس کے علاوہ جو خدا تمہاری مصلحت اور تمہارے انجام نیز تمہارے فرائض اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہے اس کو چاہئے کہ بتوں کی پرستش کا حکم تمہیں دے، جبکہ خداوندعالم نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا ہے۔
جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی گفتگو یہاں تک پہنچی تو بت پرستوں کے درمیان اختلاف ہوگیا۔
ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: خدا نے ان بتوں کی شکل و صورت والے مردوں میں حلول کیا ہے اور ہم ان بتوں کی پرستش اور ان پر توجہ اس وجہ سے کرتے ہیں تاکہ ان شکلوں کا احترام کرسکیں۔
ان میں سے بعض لوگوں نے کہا: ہم نے ان بتوں کو پرہیزگار اور خدا کے مطیع بندوں کی شبیہ بنایا ہے، ہم خدا کی تعظیم اور اس کے احترام کی وجہ سے ان کی عبادت کرتے ہیں!
تیسرے گروپ نے کہا: جس وقت خداوندعالم نے جناب آدم کو خلق کیا، اور اپنے فرشتوں کو جناب آدم کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیا، لہٰذاہم (تمام انسان) اس بات کے سزاوار ہیں کہ جناب آدم کو سجدہ کریں اور چونکہ ہم اس زمانہ میں نہیں تھے، اس وجہ سے ان کو سجدہ کرنے سے محروم رہیں، آج ہم نے جناب آدم کی شبیہ بنائی ، اور خدا کا تقرب حاصل کرنے کے لئے اس کے سامنے سجدہ کرتے ہیں تاکہ گزشتہ محرومیت کی تلافی کرسکیں، اور جس طرح آپ نے اپنے ہاتھوں سے (مسجدوں میں) محرابیں بنائی اور کعبہ کی طرف منھ کرکے سجدہ کرتے ہیں، کعبہ کے مقابل خدا کی تعظیم اور اس کے احترام کی وجہ سے سجدہ اور عبادت کرتے ہیں اسی طرح ہم بھی ان بتوں کے سامنے در حقیقت خدا کا احترام کرتے ہیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تینوں گروہوں کی طرف رخ کرتے ہوئے فرمایا: تم سبھی لوگ حقیقت سے دور غلط اور منحرف راستہ پر ہو، اور پھر ایک ایک کا الگ الگ جواب دینے لگے:
پہلے گروہ کی طرف رخ کرکے فرمایا:
تم جو کہتے ہو کہ خدا نے ان بتوں کی شکلوں کے لوگوں میں حلول کررکھا ہے اس وجہ سے ہم نے ان بتوں کو انھیں مردوں کی شکل میں بنایا ہے اور ان کی پوجا کرتے ہیں، تم لوگوں نے اپنے اس بیان سے خدا کو مخلوقات کی طرح قرار دیا ہے اور اس کو محدود اور حادث مان لیا، کیا خداوندعالم کسی چیز میں حلول کرسکتاہے اور وہ چیز (جو کہ محدود ہے) خدا کو اپنے اندر سما لیتی ہے؟ لہٰذا کیا فرق ہے خدا اور دوسری چیزوں میں جو جسموں میں حلول کرتی ہیں جیسے رنگ، ذائقہ، بو، نرمی، سختی، سنگینی اور سبکی، اس بنیاد پر تم لوگ کس طرح کہتے ہو کہ جس جسم میں حلول ہوا ہو وہ تو حادث اور محدود ہے لیکن جو خدا اس میں واقع ہوا ہو وہ قدیم اور نامحدود ہے، جبکہ اس کے برعکس ہونا چاہئے یعنی احاطہ کرنے والا قدیم ہونا چاہئے اور احاطہ ہونے والا حادث ہونا چاہئے۔
اس کے علاوہ کس طرح ممکن ہے جو خداوندعالم ہمیشہ سے اور تمام موجودات سے پہلے مستقل اور غنی ہو، نیز محل سے پہلے موجود ہو ، اس کو محل کی کیا ضرورت ہے کہ خود کو اس محل میں قرار دے!۔
اور تمہارے اس عقیدہ کے پیش نظر کہ خدا نے موجودات میں حلول کر رکھا ہے ، تم نے خدا کو موجودات کی صفات کے مثل حادث اور محدود فرض کرلیا ہے، جس کا لازمہ یہ ہے کہ خدا کا وجود قابل تغییر و زوال ہے، کیونکہ ہر حادث اور محدود چیز قابل تغییر اور زوال ہوتی ہے۔
اور اگر تم لوگ یہ کہو کہ کسی موجود میں حلول کرنا تغییر اور زوال کا سبب نہیں ہے، تو پھر بہت سے امور جیسے حرکت، سکون، مختلف رنگ، سیاہ و سفیداور سرخ وغیرہ کو بھی ناقابل تغییر اورناقابل زوال کے سمجھو، اس صورت میں تمہارے لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ خدا کے وجود پر ہر طرح کے عوارض اور حالات پیدا ہوتے ہیں، جس کے نتیجہ میں خدا کو دوسرے صفات کی طرح محدود اور حادث سے توصیف کرو اور خدا کو مخلوقات کی شبیہ مانو۔
جب شکلوں میں خدا کے حلول کا عقیدہ بے بنیاد اور کھوکھلا ہوگیا، تو چونکہ بت پرستی کی بنیاد بھی اسی عقیدہ پر ہے تو پھر وہ بھی بے بنیاد اور باطل ہوجائے گی۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ان دلائل اور انداز بیان کے سامنے بت پرستوں کا پہلا گروہ لاجواب ہوگیا، اور سرجھکاکر غور و فکر کرنے لگا اور کہا: ہمیں مزید غور و فکر کی فرصت دیں۔
اس کے بعدپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دوسرے گروہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: مجھے بتاؤ کہ جب تم نیک اور پرہیزگار بندوں کی شکل و صورت کو پوجتے ہو اور ان شکلوں کے سامنے نماز پڑھتے ہو اور سجدہ کرتے ہو، اور ان شکلوں کے سامنے سجدہ کے عنوان سے اپنے سربلند چہروں کو زمین پر رکھتے ہو، اور مکمل خضوع کے ساتھ پیش آتے ہو، تو پھر خدا کے لئے کیا خضوع باقی رہا، (واضح الفاظ میں سب سے زیادہ خضوع سجدہ ہے، اور تم ان شکلوں کے سامنے سجدہ کرتے ہو تو پھر تمہارے پاس اور کیا خضوع باقی ہے جس کو خدا کے سامنے پیش کرو؟) اگر تم لوگ کہتے ہو کہ خدا کے لئے بھی سجدہ کرتے ہیں تو پھر ان شکلوں اور خدا کے لئے برابر کا خضوع ہوجائے گا، تو کیا حقیقت میں ان بتوں کا احترام خدا کے احترام کے برابر ہے؟
مثال کے طور پراگر تم لوگ کسی حاکم اور اس کے نوکر کا برابر احترام کرو، تو کیا کسی عظیم انسان کو چھوٹے انسان کے ساتھ قرار دینا عظیم انسان کی بے احترامی نہیں ہے؟
بت پرستوں کا دوسرا گروہ: کیوں نہیں، بالکل اسی طرح ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : اس بنا پر تم لوگ ان بتوں (کہ تمہارے عقیدہ کی بنا پر خدا کے نیک اور پرہیزگار بندوں کی صورت پر ہیں) کی پوجا سے در حقیقت خدا کی عظمت اور اس کے مقام و مرتبہ کی توہین کرتے ہو۔
بت پرست ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے منطقی دلائل کے سامنے لاجواب ہوگئے، اور کہا ہمیں اس سلسلہ میں غور و فکر کی فرصت عنایت کریں۔
اس کے بعد بت پرستوں کے تیسرے گروہ کی باری آئی، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی طرف رخ کرکے فرمایا:
تم نے مثال کے ذریعہ خود کو مسلمانوں کے شبیہ قرار دیا ہے، اس بنیاد پر بتوں کے سامنے سجدہ کرناحضرت آدم (علیہ السلام) یا خانہ کعبہ کے سامنے سجدہ کی طرح ہے، لیکن یہ دو چیزیں مکمل طور پر فرق رکھتی ہیں اور قابل موازنہ نہیں ہیں۔
ہم اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ ایک خدا ہے، ہم پر فرض ہے کہ اس کی اس طرح اطاعت کریں جس طرح وہ چاہتا ہے،اس نے جس طرح حکم دیا ہے اسی طرح عمل کریں، اور اس کی حدود سے آگے نہ بڑھیں، ہمیں اس بات کا حق نہیں ہے کہ اس کے حکم اور اس کی مرضی کے بغیر اس کے حکم کے آگے بڑھ کر اپنی طرف سے (قیاس اور تشبیہ کے ذریعہ) اپنے لئے فرائض اور تکالیف معین کریں، کیونکہ ہم تمام پہلووں سے آگاہ نہیں ہیں، شاید خدا اس چیز کو چاہتا ہے اور اس چیز نہیں چاہتا، اس نے ہمیں آگے بڑھنے سے منع کیا ہے۔
اور چونکہ اس نے ہمیں حکم دیا ہے کہ خانہ کعبہ کے سامنے عبادت کریں، ہم بھی اس کی اطاعت کرتے ہیں، اور اس کے حکم سے تجاوز نہیں کرتے، اسی طرح اس نے ہمیں حکم دیا ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں خانہ کعبہ کی سمت عبادت کریں،چنانچہ ہم اسی کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں، اور جناب آدم (علیہ السلام) کے بارے میں اس نے اپنے ملائکہ کو حکم دیا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کریں نہ کہ آدم کی شکل و صورت پر بنے کسی دوسرے کے سامنے، لہٰذا تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ ان کی شکل و صورت کو اپنے سے مقائسہ کرو، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ جو کام تم انجام دیتے ہو شاید وہ اس سے راضی نہ ہو، کیونکہ ممکن ہے اس نے تمہیں اس کام کا حکم نہ دیا ہو۔
مثال کے طور پر: اگر کوئی شخص تمہیں کسی خاص دن میں کسی خاص اور معین مکان میں جانے کی اجازت دیدے، تو کیا تمہارے لئے کسی دوسرے دن بھی اس مکان میں جانے کی اجازت ہے، یا اس معین دن میں کسی دوسرے مکان میں چلے جاؤ؟ یا کوئی شخص تمہیں لباس، غلاموں، یا حیوانوں میں سے کوئی لباس، غلام یا حیوان تمہیں بخش دے۔
تو کیا تمہیں اس بات کا حق ہے کہ دوسرے لباس، یا دوسرے غلام یا دوسرے حیوان میں جوکہ اس کے مثل ہیں تصرف کر وجن میں اس کی اجازت نہیں ہے۔؟
بت پرستوں کا تیسرا گروہ: نہیں، ایسا ہمارے لئے جائز نہیں ہے، کیونکہ صرف ہمیں مخصوص کام میں اجازت دی گئی ہے کسی دوسرے میں نہیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : مجھے بتاؤ کہ کیا خداوندعالم سزاوار تر ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے، اور اس کی اجازت کے بغیر اس کی ملکیت میں تصرف کریں یا دوسرے لوگ؟
بت پرستوں کا تیسرا گروہ: یقینی طور پر خدا اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے، اور اس کی اجازت کے بغیر اس کی ملکیت میں تصرف نہ کیا جائے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم : پس تم نے خدا کے حکم کے بغیر ہی ان بتوں کی پوجا کیوں شروع کردی، اور اس کی مرضی کے بغیر ہی ان بتوں کے سامنے سجدہ کرنے لگے؟
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بہترین دلائل کے سامنے بت پرستوں کا تیسرا گروہ لاجواب ہوگیا اور وہ خاموش ہوگئے، اور انھوں نے بھی عرض کی: ہمیں اس سلسلہ میں غور و فکر کی اجازت دیں۔
حضرت امام صادق علیہ السلام نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ان پانچ گروہوں سے مناظرہ کو نقل کرنے کے بعد فرمایا: قسم ہے اس خدا کی کہ جس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مبعوث برسالت کیا، کہ ابھی تین دن نہیں گزرے تھے کہ یہ پانچوں گروہ کے تمام ۲۵/ افراد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوکر مسلمان ہوگئے اور انھوں نے واضح طور پر اعلان کیا:
”مَارَاٴَیْنَا مِثْلَ حُجَّتِکَ یَا مُحَمَّد! نَشْهَدُ اٴَنَّکَ رَسُوْلُ اللهِ “( ۱۸ )
”اے محمد!ہم نے آپ جیسی مستدل گفتگو نہیں دیکھی ہے، ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ خدا کے بھیجے ہوئے برحق پیغمبر ہیں“۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=50349

ٹیگز