41

او آئی سی اور عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس، غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

  • News cod : 51935
  • 11 نوامبر 2023 - 17:28
او آئی سی اور عرب لیگ کا ہنگامی اجلاس، غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ
سعودی عرب میں عرب و اسلامی ممالک کا مشترکہ غیر معمولی سربراہی اجلاس جاری ہے جس میں فلسطین کے علاقے غزہ میں جاری اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے خلاف لائحہ عمل پر غور کیا جارہا ہے۔

وفاق ٹائمز، عرب میڈیا کے مطابق غزہ کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور عرب لیگ کا مشترکہ ہنگامی اجلاس سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جاری ہے، اجلاس میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔

Met with Palestinian President Mahmoud Abbas in Riyadh and conveyed sentiments of the people of Pakistan. We stand firm in solidarity with Palestinians against the tragic loss of innocent lives in Gaza & the West Bank. pic.twitter.com/AHqgRASEmf
— Anwaar ul Haq Kakar (@anwaar_kakar) November 10, 2023

اجلاس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ایرانی صدر ابراہیم رئیسی، فلسطین کے صدر محمود عباس، امیر قطر اور دیگر ممالک کے سربراہان سمیت نگراں وزیرِاعظم انوار الحق کاکڑ بھی شریک ہیں۔ وزیرِ اعظم بھی سربراہی اجلاس سے خطاب بھی کریں گے۔

قبل ازیں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے ریاض میں فلسطینی صدر محمود عباس کے ساتھ ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اظہار کیا۔

Saudi Crown Prince Mohammed bin Salman welcomed the Iranian president Raisi for the emergency OIC summit & marking the first visit of the Iranian president to KSA after the resumption of relations.

2nd video shows a commemorative photo of heads of Islamic countries at the… pic.twitter.com/Ts9TNxUkpF

— Arya – آریا (@AryJeay) November 11, 2023

ایران کے صدر ابراہیم رئیسی بھی اجلاس میں شریک ہیں۔ مارچ میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی بحالی پر اتفاق کے بعد سے یہ ایرانی صدر کا پہلا دورہ سعودی عرب ہے۔ اس موقع پر ابراہیم رئیسی نے فلسطین کا روایتی اسکارف کیفیہ بھی پہنا ہوا ہے۔

اپنے خطاب میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ہمیں غزہ کے مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے، فلسطین امت مسلمہ کے فخر کا نشان ہے، اسرائیل غزہ میں بمباری کے ذریعے نئی نسل کو ختم کررہا ہے وہاں ہونے والا ظلم تمام عالمی قوانین کا مذاق اڑا رہا ہے، اسرائیلی جارحیت سے 11 ہزار سے زائد نہتے شہری شہید ہوچکے ہیں، غزہ کو دنیا کی سب سے بڑی جیل بنادیا گیا ہے، میرا عالمی برادری سے سوال ہے کہ غزہ کے شہدا کا کیا قصور ہے، شہید خواتین کا کیا قصور ہے؟ ہمیں بتایا جائے شہید ہونے والے بچوں کا کیا قصور ہے؟

انہوں ںے کہا کہ امریکا فاشسٹ ملک ہے جو اسرائیل کی حمایت کرکے اسرائیل کے ساتھ جنگی جرائم میں شریک ہورہا ہے وہ غزہ کو تباہ کرنے کے لیے اسرائیل کو بڑے پیمانے پر جنگی ہتھیار اور رقومات فراہم کررہا ہے، ہمیں اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنانا ہوگا، اسرائیل غزہ پر اتنی بمباری کرچکا ہے جو سات ایٹم بم کے برابر ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ کی صورتحال کے حوالے سے آج کا اجلاس بڑا اہم ہے اور یہ خطے کی تاریخ میں فیصلہ کن وقت ہے۔

ابراہیم رئیسی کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں اسرائیل کے جنگی جرائم کا مقابل کرنا ہوگا، خطے میں ہونی والے تمام کارروائیوں میں امریکا کا ہاتھ ہے اسی نے اسرائیلی مظالم کے لیے راہ ہموار کی، دہشت گرد اسرائیل فوری طور پر غزہ سے باہر نکل جائے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=51935

ٹیگز