32

ایران پنجہ عقاب سے وعدہ صادق تک

  • News cod : 55360
  • 01 می 2024 - 20:48
ایران پنجہ عقاب سے وعدہ صادق تک
ایران نے نہ امریکہ کی طرح چھپ کر بغداد آئیرپورٹ کی طرح غیر قانونی حملہ کیا نہ ہی اسرائیل کی طرح چھپ کر کسی سفارت خانے کو ہدف بنایا بلکہ ببانگ دھل حملے کا اعلان کیا

ایران پنجہ عقاب سے وعدہ صادق تک

تحریر:محمد بشیر دولتی 

کچھ واقعات کبھی پرانے نہیں ہوتے۔آپریشن پنجہ عقاب بھی انہیں ناقابل یقین و ناقابل فراموش واقعات میں سے ایک ہے۔یہ 25 اپریل 1980 کی بات ہے۔ابھی ابھی ایران میں اسلامی انقلاب ہوچکا تھا۔ یونیورسٹی کے انقلابی و نظریاتی طلاب کی ایک ٹیم نے تہران میں جاسوسوں کے اڈے امریکی سفارت خانے پر دھاوا بول دیا ۔پلک جھپکنے میں 53 امریکی جاسوس اور جاسوسی کی دوسری دستاویزات انقلابیوں نے اپنے قبضے میں لے لیں ۔امام خمینی رح نے اس کاروائی کو دوسرا بڑا انقلاب قرار دیا تھا۔

امریکن صدر جمی کارٹر کے لئے یہ بہت بڑا مسئلہ تھا۔ امریکن صدر نے ان جاسوسوں اور خدمت کاروں کی بازیابی کے لئے بہت کوششیں کیں لیکن ان کی تمام تر کوششیں نقش بر آب ثابت ہوئیں ۔جمی کارٹر نے بالآخر ایک خطرناک جنگی آپریشن کا فیصلہ کیا ۔ انقلابیوں نے چونکہ امریکن سفارت خانے کو جاسوسی کا گھونسلہ قرار دیا تھا جمی کارٹر نے جواب میں ان کے خلاف فوجی آپریشن کا نام پنجہ عقاب رکھ دیا۔(یعنی عقاب اپنے شکار کو فضا میں منتخب کرتا ہے پھر اپنے پنجوں میں جکڑ لیتا ہے)

صدر جمی کارٹر نے چونکہ دیگر تمام امکانات کو آزماچکا تھامگر وہ اپنے جاسوسوں کو چھڑوانے میں ناکام رہاتھا تو انہوں نے پنجہ عقاب نامی عسکری آپریشن کی اجازت دی۔ اس آپریشن کے لئے انتہائی ماہر و تربیت یافتہ کمانڈوز کو چنا گیا۔ ان کمانڈوز کو جدید اسلحوں سے لیس کر کے جنگی جہاز سیون تھرٹی کی نظارت میں آٹھ خطرناک جنگی ہیلی کاپٹرز کے ساتھ تہران میں آپریشن کے لئے بھیجا گیا۔

ادھر امام خمینی رحمت اللہ علیہ کو امریکہ کے اس خفیہ آپریشن سے آگاہ کیا۔

امام نے انتہائی اطمینان کے ساتھ ساتھیوں سے فرمایا کہ وہ سورہ فیل کی تلاوت کریں اور خود دورکعت نماز ادا کرکے دعافرمانے لگے۔

جہاز اور جنگی ہیلی کاپٹروں کا یہ دستہ ایرانی سرحد میں داخل ہو کر طبس کے ریگستان میں پہنچا تو ایک ہیلی کاپٹر فنی خرابی کے باعث طبس کے ریگستان میں اترنے پر مجبور ہوا۔اس کے ساتھ دیگر سات ہیلی کاپٹرز بھی ریگستان میں اترے۔یہ ریگستان میں اترے ہی تھے کہ ریت اور بجری کا ایسا طوفان اٹھا کہ تربیت یافتہ افراد طبس کی کنکریوں اور ریت کے ذروں سے نہ خود کو بچاسکے نہ ہی اپنے جدید ہیلی کاپٹرز کو بچا پائے ۔تمام ہیلی کاپٹرز آپس میں ٹکرا کر تباہ ہوگئے۔ ان کی حفاظت کے لئے موجود سی ون تھرٹی جہاز طبس کی فضاؤں میں بےبسی و لاچاری کے ساتھ دیکھتا رہ گیا۔جمی کارٹر اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود نہ اس آپریشن کے ذریعے اپنے جاسوس چھڑا سکا نہ ہی امام خمینی رح کو کوئی نقصان پہنچا سکا

اسی لئے جمی کارٹر نے نہایت بےبسی و لاچاری میں کہا تھا کہ ” سب کچھ ہمارے حق میں تھا لیکن خدا خمینی کے ساتھ تھا”

جب کنکروں اور ریت کے ذروں نے ابابیل کی چونچ میں موجود کنکروں کا کام کیا تو لوگ سمجھے کہ امام خمینی نے سورہ فیل کی تلاوت کا حکم کیوں دیا تھا۔

قریبی آبادی کو جب اس حادثے کے بارے میں علم ہوا تو سب طبس کے میدان کی طرف امٹ آئے لیکن فضا میں موجود امریکن سی ون تھرٹی طیارے نے بمباری کر کے عوام کو نزدیک جانے نہیں دیا۔

سپاہ پاسداران کا مقامی کمانڈر جب حالات کا جائزہ لینے گئے تو ہیلی کاپٹرز کے ملبوں پر بنی صدر کے حکم سے بمباری کرنے پر یہ کمانڈر جن کا نام محمد منتظر قائم تھا وہ شہید ہوا،

بعد میں معلوم ہوا کہ بنی صدر نے امریکہ کے حکم پر ہی بمباری کروائی تھی تاکہ ان ہیلی کاپٹرز میں موجود دستاویزات انقلابیوں کے ہاتھ نہ لگے۔امریکہ اور استعمار جہاں پھر بھی نومولود اسلامی انقلاب کے خلاف اپنی شرانگیز کوششوں سے پیچھے نہیں ہٹے۔

استعمار نے اپنے لئے پالک صدام کے ذریعے ایران پر حملہ کرواکر جنگ مسلط کردی ۔جنگ کے علاؤہ ہرقسم کی پابندیاں لگائیں۔ امریکہ نے دنیا کی تمام حکومتوں کو ایران کو کانٹادار تار تک بیچنے سے منع کیا اور ایران پر مکمل پابندی لگادی۔

امام خمینی نے ان مشکل حالات میں بھی سلمان رشدی کے خلاف تاریخی فتوای دےکر سب کو حیرت زدہ کردیا۔ایران نے عملی میدان میں جنگ کے ساتھ ساتھ مظلومین فلسطین کی حمایت کا بھرپور اعلان کیا۔

اس وقت کے انقلابی لیڈر یاسر عرفات کو دعوت دے کر امریکن سفارت خانے کو ہمیشہ کے لئے بند کردیا اور اسرائیلی سفارت خانے کو فلسطینی سفارت خانے میں بدل دیا۔ امام خمینی نے مسلمانان عالم کو شعور دینے کے لئے رمضان المبارک کے آخری جمعے کو یوم القدس قرار دیا تاکہ اس روز مسلمانان عالم فلسطین کے حق میں آواز بلند کرسکیں۔ایران نے تمام پابندیوں کے باوجود مختلف میدانوں میں ترقی و پیشرفت کا سلسلہ تنہا ہوکر بھی جاری رکھا۔

فلسطینیوں کو پتھر اور غلیل کے زمانے سے نکال کر جدید ڈرونز اور میزائل تک پہنچایا۔ جہاد اسلامی فلسطین اور حماس کے رہنما اسماعیل ہانیہ کے مختلف بیانات و انٹرویوز آج سوشل میڈیا پر موجود ہیں جنہوں نے کھل کر ایران کی حمایت اور مدد کو ببانگ دھل بیان کیا ہے۔ایران نے تنہا صیہونیوں کے من البحر الی النھر کےخواب کو چکنا چور کرتے ہوئے حشد شعبی عراق،انصاراللہ یمن،حزب اللہ لبنان اور فلسطین کے حماس اور اسلامی جہاد کے ذریعے خود غاصب اسرائیل تک محدود کیا۔

اسرائیل کی بقا کے لئے شام میں خائن عرب حکمرانوں اور عالم استعمار کی تمام کوششوں کو پائمال کرتے ہوئے شام کو اسرائیل مخالف اتحاد کا مرکز بنادیا۔ایران اب شام میں بیٹھ کر اسرائیل کا دم گھٹانے میں مصروف عمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے شام میں ایران کے سفارت خانے پر فضائی حملہ کیا جس میں ایک ایرانی کمانڈر اور اسلامی جہاد کے ایک کمانڈر سمیت چھے کے قریب جوانوں کو شہید کیا۔

شہید زاہدی کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ عرصہ سولہ سال سے وہ اس خطے میں موجود تھے اس سے ہم اسرائیل کے خلاف ایران کی عملی جدو جہد کو محسوس کرسکتے ہیں۔ایران نےاسرائیل کے اس غیر منصفانہ حملے کا جواب دینے کا فیصلہ کیا جسے وعدہ صادق قرار دیا۔

اسرائیل نے ایرانی حملے کے خوف سے دنیا بھر میں اپنے تیس کے قریب سفارت خانے بند کردئے۔

ایران نے نہ امریکہ کی طرح چھپ کر بغداد آئیرپورٹ کی طرح غیر قانونی حملہ کیا نہ ہی اسرائیل کی طرح چھپ کر کسی سفارت خانے کو ہدف بنایا بلکہ ببانگ دھل حملے کا اعلان کیا۔بعد میں وعدہ صادق کے نام سے13 اپریل کی رات ناقابل تسخیر سمجھےجانے والی صیہونی حکومت پر پہلے ڈرون حملہ کیا جس میں ایک سو ستر کے قریب ہلکے پیمانے کے ڈرون بھیج دئے جس سے دوگھنٹے تک اسرائیلی مکمل اذیت میں رہے اور مکمل افراتفری رہی جب اسرائیلی گنبد آہنی سسٹم اور فرانس،امریکہ ،اردن اور سعودی عرب ان ڈرونز کو روکنے میں مشغول ہوئے تو تیس کے قریب کروز میزائل اور ایک سو بیس بلاسٹک میزائلوں سے اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔اس حملے میں دیمونا کے ایٹمی مرکز اور دو عدد عسکری ائیرپورٹ جس میں رامون عسکری اڈہ بھی شامل ہے جہاں سے دمشق میں ایرانی سفارت خانے پر حملہ ہوا تھا ۔یورپی یونین،نیٹو اتحاد اور خائن عرب ممالک کی تمام تر کوششوں کے باوجود اسرائیل محفوظ نہیں رہ سکا۔ واقعہ طبس سے وعدہ صادق تک ایرانی کارکردگی گواہ ہے کہ جمہوری اسلامی ایران رہبر فرزانہ و بابصیرت کی رہنمائی میں مسلسل پیشرفت کرتاجارہا ہے۔یہ حکومت ظالم کی مخالفت مظلوم کی حمایت کے بنیادی نعرے کے ساتھ ، اسلام و انسانیت کی پاسبانی کے ہمراہ تنہا عالمی قوت بنتی جارہی ہے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=55360

ٹیگز