3

حضرت امام حسین علیہ السلام کی سبق آموز زندگی

  • News cod : 56563
  • 07 جولای 2024 - 9:49
حضرت امام حسین علیہ السلام کی سبق آموز زندگی
روز عاشورا جب امام حسین علیہ السلام سے کہاگیا کہ یزید کی حکومت کو تسلیم کرلو اور اس کی بیعت کرلو اور اس کے مرضی کے سامنے تسلیم ہوجاؤ! تو آپؑ نے جواب دیا:نہیں، خدا کی قسم میں اپنے ہاتھ کو ذلیل و پست لوگوں کی طرح تمہارے ہاتھ میں نہیں دوں گا، اور تم سے میدان جنگ میں غلاموں کی طرح نہیں بھاگوں گا اور پھر یہ نعرہ بلند کیا: اے خدا کے بندو! میں ہر اس متکبر سے جو روز حساب پر ایمان نہ لائے اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی پناہ چاہتا ہوں۔

مومن کے دل کی خوشی:
حضرت امام حسین علیہ السلام سے نقل ہوا ہےکہ آپؑ نے فرمایا: میرے نزدیک ثابت ہے کہ رسول خداؐ نے فرمایا: نماز کے بعد بہترین کام کسی مومن کے دل کو خوش کرنا ہے، اگر اس کام میں گناہ نہ ہو۔میں نے ایک روز ایک غلام کو دیکھاجو اپنے کتے کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا، میں نے اس سے سبب دریافت کیا تو اس نے کہا: یابن رسول اللہ! میں غمگین ہوں، میں چاہتا ہوں کہ اس کتے کا دل خوش کروں تاکہ میرا دل خوش ہوجائے، میرا آقا یہودی ہے میں اس سے جدا ہونے کی تمنا رکھتا ہوں۔حضرت امام حسین علیہ السلام دو سو دینار اس کے آقا کے پاس لے گئے اور اس غلام کی قیمت ادا کرنی چاہی، اور اس کو خریدنا چاہا، اس مالک نے کہا: غلام آپؑ کے قدموں پر نثار اور میں نے یہ باغ بھی اس کو بخش دیا اور یہ دینار بھی آپؑ کو واپس کرتا ہوں۔امام حسین علیہ السلام نے کہا: میں نے بھی یہ مال تمہیں بخشا۔ اس آقا نے کہا: میں نے آپؑ کی بخشش کو قبول کیا اور اسی غلام کو بخش دیا، امام حسین علیہ السلام نے کہا: میں نے غلام کو آزاد کردیا اور یہ مال اس کو بخش دیا۔اس شخص کی زوجہ اس نیکی کو دیکھ رہی تھی، چنانچہ وہ مسلمان ہوگئی اور اس نے کہا: میں نے اپنا مہر شوہر کو بخش دیا، اس کے بعد وہ آقا بھی اسلام لے آیا اور اپنا مکان اپنی زوجہ کو بخش دیا۔ایک قدم اٹھانے سے ایک غلام آزاد ہوگیا، ایک غریب بے نیاز ہوگیا، ایک کافر مسلمان ہوگیا، میاں بیوی آپس میں با محبت بن گئے، زوجہ صاحب خانہ ہوگئی، اور عورت مالک بن گئی، یہ قدم کیسا قدم تھا۔(1)

لوگوں میں سب سے زیادہ کریم:
ایک بادیہ نشین عرب مدینہ میں وارد ہوا اور مدینہ کے سب سے زیادہ کریم شخص کی تلاش کرنے لگا، چنانچہ اس کو حضرت امام حسین علیہ السلام کا نام بتایا گیا، وہ عرب مسجد میں آیا اور آپؑ کو نماز کے عالم میں دیکھا، وہ امام حسین علیہ السلام کے سامنے کھڑا ہوا اور اس نے اس مضمون کے اشعار پڑھے:جو شخص آپؑ کے دروازہ پر دق الباب کرے وہ ناامید نہیں ہوگا، آپؑ عین جود و سخا اور معتمد ہیں، آپؑ کے والد گرامی طاغوت اور نافرمان لوگوں کو ہلاک کرنے والے تھے اگر آپؑ نہ ہوتے تو ہم دوزخ میں ہوتے۔امام حسین علیہ السلام نے اس اعرابی کو سلام کیا اور جناب قنبر سے فرمایا:کیا حجاز کے مال سے کچھ باقی بچا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، چار ہزار دینار باقی ہیں، فرمایا: ان کو لے آؤ کہ یہ شخص اس مال کا ہم سے زیادہ سزاوار ہے، اس کے بعد اپنی ردا اتاری اور اس میں دینار رکھے اور اس عرب سے شرم کی وجہ سے اپنا ہاتھ دروازہ سے نکالا اور اس مضمون کے اشعار پڑھے:یہ مال ہم سے لے لو ، میں تجھ سے معذرت چاہتا ہوں، جان لو کہ میں تمہاری نسبت مہربان اور تمہارا دوست ہوں، اگر میرے اختیار میں حکومت ہوتی تو ہمارے جود و سخا کی بارش تمہارے اوپر ہوتی، لیکن زمانہ کے حادثات نے مسائل اِدھر اُدھر کردئے ہیں، اس وقت صرف یہی کم مقدار میں دے سکتے ہیں۔چنانچہ اس اعرابی نے وہ مال لیا اور اس نے رونا شروع کردیا، امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: شاید جو کچھ ہم نے تمہیں عطا کیا ہے وہ کم ہے؟ اس نے کہا: نہیں، میرا رونا اس وجہ سے ہے کہ اس عطا کرنے والے کو یہ زمین کس طرح اپنے اندر سمالے گی۔!!(2)

قرض ادا کرنا:
حضرت امام حسین علیہ السلام، اسامہ بن زید کی بیماری کے وقت اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، حالانکہ اسامہ ہمیشہ کہے جار ہے تھے: ہائے ، یہ غم و اندوہ !امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: اے برادر! تمہیں کیا غم ہے؟ انہوں نے کہاا: میں ۶۰۰۰۰ درہم کا مقروض ہوں، امام علیہ السلام نے فرمایا: میں اس کو ادا کروں گا، انہوں نے کہا: مجھے اپنے مرنے کا خوف ہے، امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: تمہارے مرنے سے پہلے ادا کردوں گا اور آپؑ نے اس کے مرنے سے پہلے اس کا قرض ادا کردیا۔[3] خدمت کی نشانی:
حادثہ کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کے شانے پر زخم کی طرح ایک نشان پایا گیا، حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے اس کے سلسلہ میں سوال کیا گیا تو آپؑ نے فرمایا: یہ نشانی ان بھاری تھیلیوں کی وجہ سے ہے جو ہمیشہ بیواؤں، یتیموں اور غریبوں کی مدد کے لئے اپنے شانوں پر رکھ کر لے جایا کرتے تھے۔(4)
استاد کی تعظیم:
عبد الرحمن سلمی نے امام حسین علیہ السلام کے ایک بیٹے کو سورہ حمد کی تعلیم دی، جب اس بیٹے نے امام حسین علیہ السلام کے سامنے اس سورہ کی قرائت کی، تو (خوش ہوکر) استاد کو ایک ہزار دینار اور ہزار حلّے عطا کئیے اور ان کا ہاتھ نایاب دُرّ سے بھر دیا، لوگوں نے ایک دن کی تعلیم کی وجہ سے اتنا کچھ عطا کرنے پر اعتراض کیا تو آپؑ نے فرمایا:ا َیْنَ یَقَعُ ھٰذٰا مِنْ عَطٰائِہِ۔”(5)”جو کچھ میں نے اس کو عطا کیا ہے اس کی عطا کے مقابلہ میں کہاں قرار پائے گا؟!”

حرّیت اور آزادی کی انتہا:
روز عاشورا جب امام حسین علیہ السلام سے کہاگیا کہ یزید کی حکومت کو تسلیم کرلو اور اس کی بیعت کرلو اور اس کے مرضی کے سامنے تسلیم ہوجاؤ! تو آپؑ نے جواب دیا:نہیں، خدا کی قسم میں اپنے ہاتھ کو ذلیل و پست لوگوں کی طرح تمہارے ہاتھ میں نہیں دوں گا، اور تم سے میدان جنگ میں غلاموں کی طرح نہیں بھاگوں گا اور پھر یہ نعرہ بلند کیا: اے خدا کے بندو! میں ہر اس متکبر سے جو روز حساب پر ایمان نہ لائے اپنے پروردگار اور تمہارے پروردگار کی پناہ چاہتا ہوں۔(6)
بہترین انعام:
انس کہتے ہیں: میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپؑ کی کنیز آپؑ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ریحان کا گل دستہ تہنیت اور شاد باش کے عنوان سے تقدیم کیا، امام حسین علیہ السلام نے اس سے فرمایا: تو خدا کی راہ میں آزاد ہے!میں نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کی: (اس کنیز نے) ایک ناچیز گل دستہ آپؑ کی خدمت میں پیش کیا اور آپؑ نے اس کے مقابلہ میں اُسے راہ خدا میں آزاد کردیا! امام علیہ السلام نے فرمایا: خداوندعالم نے ہماری اس طرح تربیت کی ہے، جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد ہے:وَإِذَا حُیِّیتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوا بِاٴَحْسَنٍ مِنْہَا اٴَوْ رُدُّوہ (7) اور جب تم لوگوں کو کوئی تحفہ(سلام)پیش کیا جائے تو اس سے بہتر یا کم سے کم ویسا ہی واپس کرو…۔”اس کی شاد باش سے بہتر شاد باش، اس کو غلامی کی قید و بند سے آزاد کرنا ہے۔(8)

انسان کی اہمیت:
ایک اعرابی حضرت امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا: یا بن رسول اللہ! میں ایک کامل دیت کا ضامن ہوں، لیکن اس کو ادا نہیں کرسکتا، میں نے دل میں سوچا کہ اس کے بارے میں سب سے زیادہ کریم و سخی انسان سے سوال کروں اور میں پیغمبر اکرم ﷺکے اہل بیت علیہم السلام سے زیادہ کسی کریم کو نہیں جانتا۔امام علیہ السلام نے فرمایا: اے عرب بھائی تجھ سے تین مسئلہ معلوم کرتا ہوں اگر ان میں ایک کا جواب دیا تو تمہاری درخواست کا ایک تہائی حصہ تجھے عطا کردوں گا، اگر تو نے دو مسئلہ کا جواب دیا تو دو تہائی مال عطا کردوں گا اور اگر تینوں کا جواب دیدیا تو سارا مال تجھے عطا کردوں گا۔اس عرب نے کہا: کیا آپؑ جیسی شخصیت جو علم و شرف کے مالک ہیں مجھ جیسے شخص سے مسئلہ معلوم کرتی ہے؟ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: جی ہاں، میں نے اپنے جد رسول اکرم ﷺ سے سنا ہے کہ آپؐ نے فرمایا: شخص کی اہمیت اس کی معرفت کے مطابق ہوتی ہے، اس عرب نے کہا: تو معلوم کیجئے کہ اگر مجھے معلوم ہوگا تو جواب دوں گا اور اگر معلوم نہیں ہوگا تو آپؑ سے معلوم کرلوں گا، اور خدا کی مدد کے علاوہ کوئی طاقت و قدرت نہیں ہے۔امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: سب سے افضل عمل کونسا ہے؟ اس عرب نے کہا: خدا پر ایمان رکھنا۔امام علیہ السلام نے اس سے سوال کیا: ہلاکت سے نجات کا راستہ کیا ہے؟ اس عرب نے کہا: خدا پر بھروسہ رکھنا۔آپؑ نے فرمایا: مردوں کی زینت کیا ہوتی ہے؟ اس عرب نے کہا: ایسا علم، جس کے ساتھ بردباری ہو، امام علیہ السلام نے سوال کیا کہ اگر یہ نہ ہوتو؟ اس عرب نے کہا: ایسی دولت جس کے ساتھ ساتھ سخاوت ہو، امام علیہ السلام نے سوال کیا: اگر یہ نہ ہو تو؟ اس نے کہا: تنگدستی اور غربت کہ جس کے ساتھ صبر ہو، امام علیہ السلام نے سوال فرمایا: اگر یہ نہ ہو تو؟ اس عرب نے کہا: آسمان سے ایک بجلی گرے اور ایسے شخص کو جلا ڈالے کیونکہ ایسے شخص کی سزا یہی ہے!حضرت امام حسین علیہ السلام مسکرائے اور ایک ہزار دینار کی تھیلی اس کو دی اور اپنی انگوٹھی اس کو عطا کی جس میں دو سو درہم کا قیمتی نگینہ تھا، اور فرمایا: اے عرب! ہزار دینار سے اپنا قرض ادا کرو اور انگوٹھی کو اپنی زندگی کے خرچ کے لئے فروخت کردو، چنانچہ عرب نے وہ سب کچھ لیا اور کہا: اللہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی رسالت کو کہاں رکھے۔(9 )

1) مناقب، ج۴، ص۶۶؛ بحار الانوار، ۴۴، ص۱۹۰، باب۲۶، حدیث۲.
2) مناقب، ج۴، ص۶۶؛ بحار الانوار، ۴۴، ص۱۹۰، باب۲۶، حدیث۲.
3) مناقب، ج۴، ص۶۵؛ بحار الانوار، ۴۴، ص۱۸۹، باب۲۶، حدیث۲.
4) مناقب، ج۴، ص۶۶؛ بحار الانوار، ۴۴، ص۱۹۰، باب۲۶، حدیث۳.
5) مناقب، ج۴، ص۶۶؛ بحار الانوار، ۴۴، ص۱۹۰، باب۲۶، حدیث۳.
6) مناقب، ج۴، ص۶۶؛ بحار الانوار، ۴۴، ص۱۹۱، باب۲۶، حدیث۴
7) سورہٴ نساء (۴)، آیت۸۶.
8) کشف الغمة، ج۲، ص۳۱؛ بحار الانوار، ج۴۴، ص۱۹۵، باب۲۶، حدیث۸.
9) اللهُ اٴَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ، سورہٴ انعام (۶)، آیت۱۲۴.

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=56563

ٹیگز