وفاق ٹائمز، حوزہ علمیہ مغربی آذربائیجان کہ شعبہ خواہران کی مدرسہ خانم وحیدہ محمدلو نے اپنے ایک انٹرویو کہ دوران اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اسلام کی بقا، عاشورہ اور امام حسین علیہ السلام کے خون کی وجہ سے ہے۔ عاشورہ کہ قیام میں امام حسین علیہ السلام کے اہم ترین اقدامات میں سے نیکی کی ترغیب اور برائی سے روکنا تھا۔
جب امام حسین علیہ السلام نے اپنے قیام کا مقصد نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بیان کیا تو اس الٰہی فریضہ کے لیے آپ علیہ السلام نے اپنی اور اپنے عزیزوں کی جان بھی قربان کر کے اس الہی فریضے کی اہمیت کو ظاہر کیا۔
انہوں نے معاشرے میں نماز کہ قائم ہونے کو امام حسین علیہ السلام کا دوسرے مقصد بیان کرتے ہؤے کہا کہ جب امام حسین علیہ السلام نے نماز اور دعا کے لیے ایک رات کی مہلت طلب کی تھی یا جب امام علیہ السلام نے عاشورا کہ دن بوقت ظہر پہلے نماز ادا کی تو اس سے اس الٰہی فریضہ کی تاکید اور اہمیت ظاہر ہوتی ہے جس میں کسی قسم کی کوئی چھوٹ نہیں ہے
اسکے بعد خانم نے اسلام کی راہ میں وعدہ اور وفاداری کو درسگاہ عاشورا کے دوسرے اسباق میں سے ایک بیان کرتے ہؤے کہا ہے جب تک معاویہ زندہ تھا تو امام علیہ السلام نے صلح امام حسن مجتبی علیہ السلام کہ زیر میں معاہدے کہ تحت جو کہ تقریباً 10 سال تک جاری رہا، انہوں نے اس کی پاسداری کی
اسکے پابند رہے اور یہ معاہدوں کی وفاداری کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے ظلم کے خلاف جنگ اور حقوق غصب کرنے کو امام حسین علیہ السلام کے قیام کے دیگر مقاصد میں سے ایک قرار دیا اور یاد دہانی کروائی کہ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام یزید فاسق کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور کہا کہ میں نے اس کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا۔ اور کہا کہ میرے جیسا یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا۔ یہ دنیا کے تمام آزاد لوگوں کے لیے ایک لکیر اور ایک سمت ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں وہ بھی اس طریقے سے ظلم و ستم کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ دشمن کی دھمکیوں سے خوفزدہ نہ ہونا امام حسین علیہ السلام کے قیام سے ظاہر ہوتا ہے، کہا کہ؛ امام حسین علیہ السلام اپنے آباؤ اجداد کی طرح جرأت رکھتے تھے، وہ کبھی بھی دشمن سے خوفزدہ نہیں ہؤے اور شدت کہ ساتھ جنگ کی اور آخر کار اپنے خون سے یزید اور یزیدیوں کو رسوا کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ عدل اور نسل اور قبیلے سے دوری قیامِ عاشورہ کا ایک اور خوبصورت مظہر ہے، امام حسین علیہ السلام امام علی علیہ السلام کہ عدل کا کامل مجسمہ تھے اور سیاہ فام غلام میں کوئی فرق نہیں رکھتے تھے۔ اپنے بیٹوں اور دوسرے اصحاب کے بچوں میں کوئی فرق نہیں کیا، حتیٰ کہ انہوں نے اپنے بیٹے حضرت علی اکبر علیہ السلام کو بھی باقی بنی ہاشم سے پہلے میدان میں بھیج دیا۔
حوزہ علمیہ مغربی آذربائیجان شعبہ خواہران کی مدرسہ نے ابا عبداللہ الحسین علیہ السلام کے قیام میں خواتین کی قدر و منزلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ حضرت زینب سلام اللہ علیہا امام حسین علیہ السلام کی مددگار اور عاشورا کی پیغام رساں ہونے کے ناطے ہمیشہ امام علیہ السلام اور حضرت عباس علیہ السلام کی طرف سے خاص عزت و احترام کی حامل تھیں اور باقی خواتین کی نسبت بھی امام علیہ السلام کا یہی خاص احترام ہوتا تھا۔
با بصیرت ہونا اور حالات حاضرہ کی پہچان رکھنا
عاشورا کی درسگاہ کے دوسرے اسباق میں سے ایک ہے، امام علیہ السلام کا یہ عمل مکمل طور پر بروقت تھا اور اسی وجہ سے تاریخ میں باقی رہا۔
امام حسین علیہ السلام کا ایک اور سبق شجاعت کا سبق ہے جو انہوں نے اپنے والدِ بزرگوار سے سیکھا، آزادی کا سبق ہے اور ایک کمیونٹی لیڈر کا اپنے ساتھیوں کو مخلص رہنے کا طریقہ سیکھانے کا سبق ہے۔ لوگوں کو آزادی دینے کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ ، امام علیہ السلام نے عاشورا کی رات اپنے ساتھیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ میں نے تم سے اپنی بیعت اُٹھا لی ہے تم میں سے جو بھی جانا چاہے وہ جا سکتا ہے۔
یہ عمل اور امام کی طرف سے آزادی دینا بھی خالص لوگوں کو چھانٹنے کی ایک قسم ہے اور یہ امام علیہ السلام کا طریقہ ہے کہ امام علیہ السلام خالص ساتھیوں کو اپنی رکاب میں رکھنا چاہتے تھے۔
امام حسین علیہ السلام ایثار و قربانی کے عروج پر ہیں، امام علی علیہ السلام نے خدا کی راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دیا اسی وجہ سے خدا نے امام حسین علیہ السلام کے عزاداروں اور امام علیہ السلام کہ زائرین کے لئے خاص اجر رکھا ہے۔
امام حسین علیہ السلام کی مجلس میں اگر کوئی اپنے ماضی پر افسوس کرتے ہوئے داخل ہو تو اسے مزید فکرمند نہیں ہونا چاہیے کیونکہ امام عالی مقام اس کے ماضی کا ذکر کیے بغیر اسے معاف کر دیتے ہیں اور کربلا کے یہ واقعات امام حسین علیہ السلام کی عظمت اور جاذبیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
مزید یاد دہانی کروائی کہ امام حسین علیہ السلام رواداری کی ایک واضح مثال ہیں جہاں کربلا میں ان کے تمام چاہنے والوں کو ان کی آنکھوں کے سامنے شہید کیا گیا لیکن امام علیہ السلام کے ایمان اور سکون میں کوئی کمی نہیں آئی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا اپنے خاندان کے 18 افراد کی شہادت کے باوجود کربلا میں ثابت قدم رہیں اور عاشورا کے پیغام کو اس کی منزل تک پہنچانے کے لیے اسیروں کے قافلے کو خوبصورتی سے سنبھالا۔
عاشورا کے دن، امام حسین علیہ السلام نے توحید کے اعلیٰ احکام کی تعریف کی، امام علیہ السلام واقعی خود اعتمادی، خلوص، رضائے الٰہی اور آلام و مصائب کے عروج پر بھی خدا کے حضور سر تسلیم خم کرنے کی واضح مثال ہیں۔












