31

تفکر فاطمی (س) اور اخلاص

  • News cod : 59199
  • 24 دسامبر 2024 - 17:31
تفکر فاطمی (س) اور اخلاص
استاد مطهری لکھتے ہیں: ہر کام اس پورے جہان میں منظم انداز میں انجام دیا گیا ہے، ایک بلڈنگ کی بنیاد اگر ٹیڑھی ہے تو وہ بلڈنگ کھڑی نہیں ہو سکتی بلکہ جلد ہی گر جائے گی پس پہلے بنیاد کو اچھی طرح کھڑا کیا جائے تاکہ بلڈنگ کھڑی ہو جائے اسی طرح دینداری اور اللہ تعالی کی معرفت کا ہونا بہت ضروری ہے.

تفکر فاطمی (س) اور اخلاص

تحریر: غلام رسول فیضی

حضرت فاطمه سلام اللہ علیہا کا عظیم احسان:
انبیاء علیھم السلام واولیاء کرام اور نیک لوگوں کی زندگی میں بہت سارےاحسانات ہیں، کتنا بہتر ہوگا کہ حضرت زھراء سلام اللہ علیھا کے احسانات اور ان کی خصوصیات کے بارے میں غور و فکر کریں کیونکہ اس بارے میں اللہ تعالی نے مدح سرائی فرمائی ہے۔
اللہ تعالی سوره انسان کی آٹھویں و نویں آیات میں ارشاد فرماتا ہے: “وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا (۸) اور وہ اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں (إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَاشُكُورًا)(۹) ہم جو تمہیں کھلاتے ہیں تو خاص اللہ کے لیے ہے، نہ ہمیں تم سے بدلہ لینا مقصود ہے اور نہ شکرگزاری۔
اس آیت کی بنا پر “إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ ” حضرت فاطمه زهرا (س) کے احسانات میں دو اہم خصوصیات پوشیدہ تھیں. حضرت امام صادق علیہ السلام کے بیان مطابق اگر اللہ تعالی ان دو خصوصیات جو پوشیدہ تھیں ان سے پردہ نہ ہٹاتا تو ہمیشہ کیلئے پوشیدہ ہی رہتیں، وہ دو خصوصیات یہ ہیں: ایک خلوص اور دوسری آنحضرت(س) کا احسان طلب نہ کرنا.
حضرت امام صادق علیہ السلام سے شیخ صدوق ؒ امالی میں نقل کرتے ہیں : حضرت فاطمہ (س) نے حتی اس جملہ کو ارشاد نہیں فرمایا( کہ ہم نے خدا کیلئے انجام دیا ہے)
حضرت امام صادق (ع) فرماتے ہیں: اللہ کی قسم اس جملہ کہ انہوں نے ایسا نہیں فرمایا لیکن قلب میں تو پوشیدہ تھا اور اس سے اللہ تعالی با خبر تھا اور فرمایا: اس کے بدلے میں تم سے کوئی چیز نہیں چاہئے اور نہ ہی اس کے بدلے میں قدر دانی چاہئے فقط اور فقط اللہ تعالی کی خاطر آپ کو کھانا کھلایا ہے اور اس کا ثواب مطلوب ہے۔
اخلاص کا یہ مرحلہ بہت حیران کن ہے
حضرت فاطمه (س) کے احسانات کسی احسان و رتبہ طلب کیلئے نہیں تھے۔
اور یہ خصوصیات بہت ہی کم نظیر ہیں کہ ہم تمام احسانات اور خیرات و انفاق کرتے وقت ملاحظہ کرتے ہیں کہ: “لَا نُرِيدُ مِنْكُمْ جَزَاءً وَلَاشُكُورًا” نہ ہمیں تم سے بدلہ لینا مقصود ہے اور نہ شکرگزاری۔
یعنی ہم اپنے احسان کے بدلے میں نہ کوئی اجر چاہتے ہیں اور نا شکر گزاری
احسان و انفاق کی بنیاد کیلئے ضروری ہے کہ توحید اور معرفت ہونی چاہئے.
احسان اور انفاق کسی بُرج کے تیسرے، چوتھے اور پانچویں طبقہ کی مانند ہیں کہ جس کی بنیاد بہت مضبوط اور مستحکم ہے، انسان کی تمام رفتار و گفتار خدا شناسی اور معرفت کیلئے ہونی چاہئے۔حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام نہج البلاغہ کے شروع میں فرماتے ہیں: ” اول الدین معرفته” معرفت کی بنیاد اللہ تعالی کی معرفت ہے
استاد مطهری لکھتے ہیں: ہر کام اس پورے جہان میں منظم انداز میں انجام دیا گیا ہے، ایک بلڈنگ کی بنیاد اگر ٹیڑھی ہے تو وہ بلڈنگ کھڑی نہیں ہو سکتی بلکہ جلد ہی گر جائے گی پس پہلے بنیاد کو اچھی طرح کھڑا کیا جائے تاکہ بلڈنگ کھڑی ہو جائے اسی طرح دینداری اور اللہ تعالی کی معرفت کا ہونا بہت ضروری ہے.
یعنی اللہ تعالی کے تمام دستورات درجہ بندی کیساتھ ذکر کیے گئے ہیں مثل نماز و روزه و حج و جهاد و خمس و زکات و غيره.
وہ نماز جس میں اللہ تعالی کی معرفت نہ ہو تو اس کا کوئی نتیجہ نہیں ہے اور اسی طرح وہ روزہ جس میں اللہ تعالی کی مغرفت نہ ہوتو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ۔
نهج البلاغه اور حضرت فاطمه(س) کی سیرت مقدس سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ آپ دنیا میں کسی بھی جگہ جب تک اللہ تعالی کی معرفت نہ تو کوئی بھی کام انجام نہیں دے سکتے ، یہ ہے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کا درس .
ولادت با سعادت حضرت زھراء سلام اللہ علیھا تمام شیعیان جھان کو مبارک باد

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=59199

ٹیگز