39

مسٹر گاندھی اور مسٹر جناح کا نظریاتی فرق

  • News cod : 11363
  • 23 فوریه 2021 - 13:01
مسٹر گاندھی اور مسٹر جناح کا نظریاتی فرق
یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ہندوستان نے تو ساری دنیا میں اپنے ہیروز کو دانش مند اور مفکر کے طور پر متعارف کروایا ہے۔ لیکن ہم صرف کشمیر میں بھی قائداعظم محمد علی جناح کے نظریات کو متعارف نہیں کرا سکے۔

تحریر: نذر حافی
مسلمانوں کی علیحدہ قومیت کا نظریہ کوئی جذباتی یا غیر سنجیدہ نظریہ نہیں ہے۔ اس نظریے کے پیچھے قرآن و سنت کی تعلیمات کا سمندر موجزن ہے۔ نظریہ پاکستان یا دوقومی نظریے کے تینوں اہم رہنما ﴿سرسید احمد خان، علامہ اقبال اور قائداعظم ﴾پہلے پہل امت مسلمہ کے بجائے ہندوستان کی متحدہ قومیت کے ہی علمبردار تھے۔ انہوں نے بڑی فراخدلی کے ساتھ ہندووں اور مسلمانوں کو اکٹھا رکھنے کی کوشش کی۔ سرسید تو ہندووں اور مسلمانوں کو ایک خوبصورت دلہن کی دو آنکھیں قرار دیتے تھے، علامہ اقبال کا کہنا تھا کہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ، اور قائد اعظم محمد علی جناح تو کانگرس کے عملی رہنما تھے اور انہیں ہندومسلم اتحاد کا سفیر بھی کہاجاتا تھا۔ان تینوں شخصیات نےکئی برس تک ہندومسلم اتحاد کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔یہ صرف باتیں کرنے کے بجائے عملی اقدام کرنے والے لوگ تھے۔ ان کی ساری جدوجہد کو ہندو اکابرین اور برہمن سماج نے ان کے منہ پر دےمارا۔ آج بھی لوگ مسٹرگاندھی اور نہروکو ایک سیکولر اور وسیع القلب رہنما کےطور پر پیش کرتے ہیں۔ ایسے افراد شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر مسٹرگاندھی اور نہروسیکولر اور وسیع القلب ہوتے تو علامہ اقبال اور قائداعظم جیسی شخصیات ان سے اپنا راستہ جدا نہ کرتیں۔ نہ ہی تو وہ لوگ سیکولر تھے اور نہ ہی ان کا بنایا ہوا ہندوستان سیکولر ہے۔ہندوستان اور مقبوضہ کشمیر میں آج بھی مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے ، وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔

بعض احباب کہتے ہیں کہ مہاتما گاندھی صاحب نے کہاتھاکہ میں نے انقلاب کا درس حضرت امام حسین سے سیکھا ہے۔ ایسے احباب کو معروف ہندو دانش مند مسٹر چانکیہ کی تصنیفات اور ارتھ شاستر کا مطالعہ کرنا چاہیے۔مسٹرگاندھی ایک پڑھے لکھے اور تجزیہ و تحلیل کرنے والے انسان تھے۔ ان کی شخصیت میں ارتھ شاستر کا پرتو نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔وہ ماہر سیاستدانوں کی طرح ہی ماحول اور حالات کے مطابق بیانات دیتے تھے۔ ماہر سیاستدان اسی طرح کیا کرتے ہیں، وہ عیسائیوں میں حضرت عیسیٰؑ ، یہودیوں میں حضرت موسیٰ ؑ اور سکھوں میں بابا گورونانک سے سیکھنے کی بات ہی کرتے ہیں۔انسان کس کا پیروکار ہے اور اس نے کس سے سیکھا ہے اس پر اس کا عمل ہی بہترین گواہ ہوتا ہے۔ اگر امام حسینؑ سے سیکھنے کی بات ہے تو پھر ہر منصف مزاج انسان کو یہ دیکھنا چاہیے کہ کیا آنجہانی گاندھی کی فکر اور تحریک قرآن و سنت اور امام حسینؑ کی تعلیمات کے مطابق تھی یا قائداعظم محمد علی جناح کا راستہ قرآن و سنت اور امام حسینؑ کے مطابق تھا۔

یہ انتہائی افسوسناک امر ہے کہ ہندوستان نے تو ساری دنیا میں اپنے ہیروز کو دانش مند اور مفکر کے طور پر متعارف کروایا ہے۔ لیکن ہم صرف کشمیر میں بھی قائداعظم محمد علی جناح کے نظریات کو متعارف نہیں کرا سکے۔کشمیر کے حوالے سے ہماری اکثریت کو زیادہ سے زیادہ صرف اتنا پتہ ہے کہ قائداعظم نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ یہ اکثریت تو یہ بھی نہیں جانتی کہ قائداعظم نے یہ جملہ کب اور کس سے کہا تھا۔ اس ایک جملے کے خلاف بھی ہندوستان نے کشمیر میں بڑے پیمانے پر ذہن سازی کی ہے۔دوسری طرف ہمارے ہاں کشمیر کے حوالے سے قائداعظم کے نظریات اور خدمات کو متروک کردیا گیا ہے۔ لوگ نہیں جانتے کہ کشمیر کے حوالے سے قائداعظم کیاسوچتے، کیا کہتے اور کیا چاہتے تھے!؟۔ عوام النّاس کو اب نہیں معلوم کہ قائداعظم نے کشمیر کے حوالے سے کوئی فعالیت بھی کی تھی یا نہیں؟ المختصریہ کہ قائداعظم کے نظریات کے حوالے سے ہم نے ایسی سنگین غفلت کا ارتکاب کیا ہے کہ جس کا خمیازہ آج بھی سارے پاکستانی اور کشمیری بھگت رہے ہیں اور آئندہ بھی بھگتیں گے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=11363