24

محسن ملت چمران پاکستان کے مربی

  • News cod : 12764
  • 07 مارس 2021 - 17:25
محسن ملت چمران پاکستان کے مربی

تحریر: سید حسن رضا نقوی سب سے پہلے کسی بھی مربی کی شخصیت کو پہچاننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کی تربیت […]

تحریر: سید حسن رضا نقوی

سب سے پہلے کسی بھی مربی کی شخصیت کو پہچاننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اس کی تربیت کس ماحول میں ہوئی خود ان کی کس نے تربیت کی کن شخصیات کی زندگی ان کے لیے رول ماڈل رہی اس کے ساتھ ساتھ یہ جاننا بھی ضروری ہے ہمارا دین کیا بتاتا ہے اس جگہ یہاں تربیت قرآن و روایات کی روشنی میں بیان کی جائے
تربیت کا مفہوم
یہاں سب سے پہلے ہم تربیت کے لغوی اور اصطلاحی معانی ذکر کریں گے تاکہ معلوم ہو سکے کن عناوین کو سامنے رکھ کر محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی رح نے بہشتی پاکستان شھید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی تربیت کی
تربیت کے لغوی معنی
ربیت اور اس سے ملتے جلتے الفاظ ایسے کلمات میں سے ہیں جنہیں ہر ایک اپنی روز مرہ کی زندگی میں استعمال کرتا ہے جیسے تربیت یافتہ با ادب مؤدب اہل لغات نے تربیت کے معنی پالنا تربیت کرنا اور کسی کو تدریجاً نشو ونما دے کرکے حد ِکمال تک پہنچانا ہے اور تربیت مادہ ربّ سے نکلاہے اہل لغات نے بہت سے معانی ذکر کیئے ہیں ان میں سے بعض جیسے برتری سردار مالک سیاستدان اصلاح کرنے والا اور تربیت کرنے والا۔
تربیت کے اصطلاحی معنی
اہل عرف وعقلاء کی اصطلاح میں تربیت کا مفہوم کچھ اس طرح ہے ۔
تربیت١:

،یعنی انسان کی پوشیدہ اور چھپی ہوئی صلاحیتوں کی تربیت کرنا ،
تربیت٢:

انسان کو پستی سے نکال کر بلندی اور تکامل کی راہ پر گامزن کرنے اور اسے آگے بڑھانا میں جن صفات کی ضرورت ہو ان کی دیکھ بھال کرکے صحیح پروان چڑھانے کا نام تربیت ہے ۔
تربیت٣:

یعنی کسی کے اندر مناسب رفتار پیدا کرنے اور اس کو اچھے ہدف تک پہنچانے اور اس کی استعداد کو اجاگر کرنے کیلے کمالات کی طرف حرکت دینے کا نام تربیت ہے۔
بہرحال تربیت کا تعلق سے انسان ہے کہ عام انسانوں کو کیا کرنا چاہے؟ ہر انسان کو دوسرے انسان یا اگر اس میں لیاقت اور استعداد ہو تو اپنی اور دوسری قوموں اور گروہوں کی تربیت کرنا چائیے جیسے خدا وند متعال کا حکم ہے
🙁 یا ایہا الذین امنوا قوا انفسکم واہلیکم ناراً )
اے انسان تم اپنی بھی تربیت کرو تاکہ ذلت و پستی اور جہنم میں جانے کی بجائے بلند مرتبوں تک پہنچو سکو اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کی بھی تربیت کرو اور ان کو بھی پستی ،ذلت اور جہنم کی آ گ سے بچائو گویا اس آیت کا لہجہ یہ بتلارہاہے کہ تربیت ایک امر واجب اور ضروری ہے کیونکہ ذلت ،پستی اور جہنم سے بچنے اور کمالات کی طرف بڑھنے کیلے تربیت ضروری ہے اور اس آیت سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ تربیت کا مقصد یہ ہے کہ ہر انسان اپنی فردی اور اجتماعی ذمہ داری کو انجام دے اور دوسروں کے حقوق کو پائمال نہ کرے اور نہ ہی تجاوز کرے۔
ایک اور جگہ انبیاء علیہم السلام کی خدمات کو اللہ تعالی نے تربیت کے نام پر یاد فرمایا:
(ربنا وابعث فیھم رسولاً منھم یتلوا علیھم ایاتک ویعلمھم الکتاب والحکمة ویزکیہم انک انت العزیز الحکیم)
اے ہمارے رب ان میں ایک رسول بھیج جو انہیں آیات سنائے اور کتاب وحکمت کی تعلیم دے اور انہیں ہر قسم کی پستی اور ذلت سے نکال کر پاک کرے اور بیشک تو تو غالب و صاحب حکمت ہے اس لیے اللہ تعالی نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء اور ١٤ چہاردہ معصوم ہستیوں کو اور اسی کے ساتھ معصومین کے نمائندہ گان یعنی علماء کے زمہ انسان کی تربیت کا کام سپرد کیا تاکہ انسان کو اس تربیت کے ذریعہ پستی سے نکال کر کمال تک پہنچائے اسی وجہ سے اللہ تعالی نے سورہ مائدہ کی آیت ٣٢ میں ایک انسان کی تربیت اور ہدایت کو تمام انسانوں کی تربیت وہدایت سے تعبیر فرمایا( من احیاھا فکا نما احیا الناس جمیعاً).
شاید یہی وجہ تھی کہ انبیاء اور اولیاء الھی کی سب سے بڑی ذمہ داری تعلیم وتربیت تھی۔
اور اللہ کا مومنین پر احسان ہے کہ ان کی تعلیم وتربیت کیلے ان کی طرف رسول بھیجے جیسے اس آیت میں ارشاد رب العزت ہے :
(لقد من اللہ علی المومنین اذبعث فیھم رسولاً من انفسھم یتلوا علیھم آیاتہ ویزکیھم ویعلمھم ،لکتاب والحکمة وان کانو ا من قبل لفی ضلال مبین )
ایمان والوں پر اللہ نے احسان کیا کہ ان کے پاس ایک رسول بھیجا جو انہی میں سے ہے جو انہیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتاہے اور ان کا تزکیہ نفس کرتاہے اگرچہ اس سے پہلے وہ کھلی گمراہی اور پستی میں تھے ایک اور آیت میں تعلیم وتربیت کو انسانوں کیلے مایہ حیات قرار دیا ہے :اور وہ لوگ جنہیں انبیا ء الہی کی تعلیم وتربیت حاصل نہیں ہوئی انہیں مردہ قرار دیا ہے: اس جگہ سمجھنا چاہیے شھید کو درجہ شھادت بھی ملا کیونکہ وہ نوجونوں کے مربی تھے جنہیں اللہ تعالی نے لوگوں کے درمیان زندہ رکھنا تھا اور وہ الحمدللہ اپنے ھدف کے ساتھ زندہ ہیں اور لوگ ان کے وضع کیے ہوئے راستہ پہ گامزن ہیں اور اپنی زندگی میں ان کی افکار سے مدد لے رہے ہیں ایک اور مقام پہ ارشاد ہوا
( یا ایہا الذین امنوا استجیبوا للہ ولرسولہ اذا دعاکم لما یحییکم )
اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول کی دعوت پر لبیک کہو جب وہ تمہیں حیات افرینش باتوں کی طرف دعوت دیں ان مزکورہ بالا آیات کی روشنی میں یہ بات واضح اور روشن ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے انسان کی تربیت کیلے کتنا بڑا انتظام کیا کہ رسول بھیجے امام بھیجے یہاں تک کہ انسان کو عقل جیسی نعمت سے نوازا ایک انسان کی تربیت کیلے خدا نے کتنا بڑا انتظام کیا کہ اپنی طرف سے انسانی زندگی کے مختلف مراحل میں مختلف افراد کو اس ذمہ داری کو ادا کرنے کیلئے کبھی رسول ِظاہری اور کبھی رسول ِ باطنی جیسی نعمت دے کر تربیت فرمائی اور کبھی والدین کو تربیت کیلے مسئو لیت دے دی۔
کہ ایک حد تک والدین تربیت کریں اور اللہ تعالی نے اپنے رسول وامام کے ذریعہ لوگوں تک یہ پیغام پہنچایا کہ تم اپنی تربیت کرو اور لوگوں کی بھی تربیت کرو اور ان کو ذلت وپستی اور جہنم کی آگ سے بچائو ۔سورہ تحریم آیت ٦ میں سختی سے تربیت کی طرف متوجہ کیا اور پھر پورے معاشرے کی یہ ذمہ داری قرار دی کہ تربیت میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹائیں ایک دوسرے کا ساتھ دیں اگر رشتہ دار ہیں تو بھی اس تربیت میں اپنا مثبت کردار ادا کریں اگر علماء اور دانشمند ہیں تو وہ بھی معاشرے کے تمام انداز کی تربیت کریں اور لوگوں کو انحراف اور ذلت وپستی سے نکالیں اور معاشرے کی مشکلات کو حل کریں اور اگر اساتید ہیں تو بھی فقط ایک کورس اور کتابوں کے نصاب کی حد تک محدود نہ رہیں بلکہ وہ بھی اس تربیت ِانسانی میں مسئول ہیں اور تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت بھی کریں اور اگر حکومت اسلامی ہو تو اس کی ذمہ داری ہے کہ معاشرے میں ایسے امور اور قوانین لاگو کرے کہ جس کے ذریعہ معاشرے کے تمام آفراد تربیت یافتہ اور مہذب بن سکیں اور خود معاشرے کے ہر فرد کی بھی یہی ذمہ داری ہے۔
(ولو کنت فظاً غلیظ القلب لا نفظوا من حولک)
اے پیغمبر اگر تم بد مزاج وسخت دل ہوتے تو لوگ تم سے دور ہوجاتے اور منتشر ہوجاتے پیغمبر اسلام انسان کی تربیت کے پہلے معلم تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی انسان کی تربیت میں گزاری۔ اس چیز کو سامنے رکھ کر محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی نے نوجوانوں کی تربیت کے لیے شھید ڈاکٹر محمد علی نقوی کا انتخاب فرمایا اور انکی تربیت کی اسی طرح اگر امام حسین علیہ السلام کی زندگی خصوصا قیام حسینیؑ کو دیکھا جائے تو ایک مرتبہ جب خود امام حسینؑ سے حضرت محمد حنفیہ نے پوچھا کہ آپ کربلا میں کیوں جا رہے ہیں امام حسین نے جواب دیا کہ:
(بل خرجت لاصلاح امت جدی )
میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لئے مدینے سے کربلا جا رہا ہوں
(ارید ان امر بالمعروف والنھی عن المنکر)
امامؑ نے فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ لوگوں کو اچھے امور کی طرف تربیت کروں اور برے کاموں سے روکوں تربیت ِانسانی میں پیغمبر اسلام اور ان کی آل ِاطہار کی فکر کس حد تک دامن گیر تھی اللہ نے پیغمبر اسلام کو انسان کی تربیت کیلے اسوہ حسنہ کا پیکر بنا کر مبعوث فرمایا: اور حکم ہوا
( لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة) در حقیقت تم لوگوں کیلے اللہ نے رسول کو بہترین نمونہ بنایا تھا ۔
اس کے بھی مصدق اتمم تھے شھید ڈاکٹر محمد علی نقوی رح
اسلام کی نظر میں نمونہ عمل تربیت کا بہترین ذریعہ ہے اور اسلام نے اس اصول کے مطابق لوگوں کو تربیت دے کر جس قسم کے افراد تیار کرنے کا حکم دیا ہیں تسکہ ان کے سامنے اس کو مثالی نمونہ و عملی پیکر بن کر رہیں جس طرح امام جعفر صادق فرماتے ہیں :
(کونوا دعاة الناس بغیر الالسنتکم ) کہ لوگوں کو اپنے عمل کے ذریعہ دعوت دو۔
شھید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے مختصر حالات زندگی

شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ولد سید امیر حسین نقوی کے خاندان کا سلسلہ حضرت امام علی نقیؑ سے جا ملتا ہے یہ سادات خاندان تبلیغ پیغام کربلا میں ہمیشہ مصروف رہا اور تقریباً آج سے ڈیڑھ سو سال قبل شہید ڈاکٹر کے پر دادا مدد علی شاہ مرحوم شرقپور سے وطنہ آکر آباد ہوئے۔ یہ خاندان اپنے تقوٰی اور کردار کی بناء پر عوام الناس میں مقبول ہوئے ور پھر ڈاکٹر صاحب کے دادا نے اپنی زندگی کا آغاز علاقہ نواب صاحب میں آکر کیا جہاں آپ کی قبر مطہر بھی ہے آپ کے والد بزرگوار نے علاقہ نواب صاحب میں ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد علم دین کے حصول کے لیے نجف اشرف کا رخ کیا مختصر یہ کہ سید امیر حسین نقوی نے اپنی زندگی کے آٹھ سال نجف میں حصول علم کے لیے وقف کیے اور باقی زندگی فروغ تعلیمات محمد و آل محمد میں صرَف کئے اور تقریباً پوری زندگی افریقہ، کینیڈا اور کینیا وغیرہ میں گذاری جبکہ خداوند کریم نے آپ کو دو فرزند اور چھ صاحب زادیاں عطا کیں جو تمام کے تمام اپنی مثال آپ ہیں اور ڈاکٹر محمد علی نقوی نے تو کمال ہی کیا خاندان تو خاندان، قوم کی لاج بھی رکھ لی۔
شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی پیدائش 28 دستمبر 1952 کو لاہور کے علاقہ علی رضا آباد میں ایک ایسے علمی گھرانے میں ہوئی جو اپنی مثال آپ تھا۔ اس عظیم مربی کا نام ملت جعفریہ کے عظیم مسیحا محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی مرحوم نے محمد علی تجویز کیا اور فخریہ انداز میں فرمایاکہ میری زندگی میں اس نام کے ہر شخص نے ستاروں پہ کمند ڈالے ہیں۔ جب آپ کی پیدائش ہوئی تو آپ کے والد نجف اشرف میں مقیم تھے۔ اسی سال واپس آئے اور واپسی پر اہل خانہ کو بھی ساتھ نجف اشرف لے گئے۔ یہ ڈاکٹر صاحب کی خوش قسمتی تھی کہ عالم زادہ ہونے کے ساتھ ساتھ نجف و کربلا کی فضائیں جذب کرنے کا موقع بھی انہیں نصیب ہوا۔ ڈاکٹر صاحب نے چلنا نجف میں سیکھا تو بولنا کربلا میں شاید یہی وجہ تھی کہ انہوں نے زندگی بھر اسی فقرے کو لائحہ عمل بنایا۔ جینا علی سے سیکھو اور مرنا حسینؑ سے تقریباً چھ سال تک نجف و کربلا کی فضاﺅں میں پروان چڑھے یوں خوب کربلا والوں کی محبت خون میں رچ بس گئی۔
شہید کی تعلیمی سرگرمیاں اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہوئے شروع ہوئی ابتدائی تعلیم کینیا کے دارالخلافہ نیروبی میں حاصل کی بعد ازاں والدین کے ہمراہ تنزانیہ اور یوگنڈا کے دارالخلافہ کمپالہ آنا پڑا اور اپنے سینیئر کیمبرج کا امتحان اچھے نمبروں سے کمپالہ میں پاس کیا بعد از انٹر پری میڈیکل گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا اس کے بعد پاکستان کے قدیمی اور معروف کالج میں بھی رہے جبکہ دوران ملازمت علامہ اقبال میڈیکل کالج میں استاد کے فرائض بھی سر انجام دیے۔
تحصیلِ علم کے دوران آپ نے چند سرگرمیاں بھی انجام دی جن میں سے سینیئر کیمبرج کے زمانہ طالب علمی میں اپنے اسکاﺅٹ کی تعلیم حاصل کی اور اس دوران میں اپنے آپ کو بہترین اسکاﺅٹ ثابت کیا۔ دوران تعلیم سینیئر کیمبرج میں آپ ایک اچھے طالب علم تھے اور نوبت یہاں تک آئی کہ آپ کو وہاں کا جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا۔ آ پ نے ایک جنرل سیکٹری کی حیثیت سے کمپالہ میں ملکی سطح پر شہرت پائی۔
آپ زمانہ طالب علمی میں جوڈو کراٹے سے بھی واقف تھے اور آپ نے بچپن میں مولا علی کے قول پر عمل بھی کیا۔ تیراکی بھی سیکھی اور گھڑسواری اور نشانہ بازی بھی سیکھی۔ آپ کو بچپن ہی سے ان کھیلوں کا شوق تھا۔ جبکہ کتاب پڑھنا بھی آپ کا بہترین مشغلہ تھا۔ جس کا اندازہ اس لائبریری سے لگایا جا سکتا ہے جو آپ کے گھر پر قائم ہے۔ جہاں ہزارہا کتابیں انگلش، اردو، فارسی اور عربی میں موجود ہیں۔ ہم اس بات کو بڑے کامل یقین سے تحریر کر رہے ہیں کہ ان تمام کتابوں کو ڈاکٹر صاحب نے بغور مطالعہ کیا ہوا تھا۔ اس سے اندازا ہوتا ہے کہ ڈاکٹر شھید کو کس قدر لائبریریز میں دلچسپی تھی اوریہ انہیں بزرگان کی کوششوں کا ثمر ہے جو آج امامیہ لائبریریز کا نیٹ ورک نظر آتا ہے

شھید کے مربی محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی رح
ہر شخص جب اپنی منزل مشخص کر لیتا ہے تو اس سے پہلے کسی کو اپنے لیے نمونہ عمل قرار دے کر اس کی زندگی کے اصولوں کو اپنے اندر نمایا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے لیے اس کا بعنوان مربی کے انتخاب کرتا ہے بھشتی پاکستان شھید ڈاکٹر محمد علی نقوی جن کی علمی فکری سیاسی تربیت جس شخصیت نے کی ان کو محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی کہا جاتا ہے جوکہ رشتہ کے اعتبار سے آپ کے پھپھا تھے اس شخصیت نے شروع سے ہی ایسی روش اختیار کی کہ قوم کو ایک ایسا بہادر نڈر لیڈر ملا جو اپنی مثال آپ ہیں شھید کی زندگی کا ایک ایک پہلو بے نظیر تھا محسن ملت علامہ سید صفدر حسین نجفی نے آپ کو اس طرف متوجہ کیا کہ قوم کے نوجوانوں کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے کیونکہ محسن ملت رح نے تمام طبقات زندگی کے لوگوں کی تربیت کے لیے کہی مدارس بنائے تو کہی کتابیں لکھیں تو کہی مختلف ادارہ بنائے وہاں نوجوانوں کی تربیت کے لیے فقط شھید جیسی شخصیت کی تربیت کی اور انہیں تمام اصول بتائے تنظیمی فکری سیاسی تاکہ ایسے افراد پیداء ہوئے جنہوں نے مکتب تشیع کی پاکستان کے تمان شعبہ ہای زندگی میں نمائندگی کی اور ایک ایسی انقلابی فکر دی شھید نے جس کی کہی بھی مثال نہیں ملتی

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=12764

ٹیگز