30

شہید مطہری کی نگاہ میں مسلمانوں کازوال

  • News cod : 33587
  • 01 می 2022 - 14:01
شہید مطہری کی نگاہ میں مسلمانوں کازوال
اسلامی حکمرانوں کی اقتدار پرستی جو کہ سقیفہ سے شروع ہواور خلافت اسلامی ملوکیت میں تبدیل ہونے کے بعد مسلمانوں کی حاکمیت ایسے حکام کے ہاتھ آئی جو احکامات اسلامی پر عمل پیرا ہونے کی بجائے خلافت کو روم اور ایران کے بادشاہوں کی طرز عمل پر سلطنت میں بدلنے میں مصروف رہے اور بدلا کے دکھا بھی دیا۔ جس کی وجہ سے مسلمان پسماندگی کاشکارہوئے۔۔۔

شہید مطہری کی نگاہ میں مسلمانوں کازوال

اکبر ترابی

کسی بھی مکتب کی اجتماعی ترقی اور تکامل کے اسباب ہوتے ہیں اسی طرح ان کی انحطاط اور تنزلی کے بھی عوامل ہوتے ہیں۔ پسماندگی اور عقب ماندگی کااندازہ، معیارات کے حساب سے ہوتاجس کی بنا پر معلوم ہوا کہ یہ قوم کس قدر تنزلی کاشکار ہےمثلا ممکن ہے کسی کے نزدیک پسماندگی مادی و اقتصادی ہو اور کسی کے نزدیک اس کا معیار فقط مادی نہ ہو بلکہ دینی، ثقافتی ، اقتصادی اور نظریاتی ہو۔ اس صورت میں اس کے معیارات پہلے والے سے مختلف ہوں گے۔
جس طرح مسلمانوں کی پسماندگی کے علل و اسباب مختلف شخصیات نے بیان کیے ہیں اسی طرح شہید مطہری رح نے بھی اس کے علل و اسباب بیان کیے ہیں۔جن میں بعض اہم درج ذیل ہیں۔

پہلا سبب:
اسلامی حکمرانوں کی اقتدار پرستی جو کہ سقیفہ سے شروع ہواور خلافت اسلامی ملوکیت میں تبدیل ہونے کے بعد مسلمانوں کی حاکمیت ایسے حکام کے ہاتھ آئی جو احکامات اسلامی پر عمل پیرا ہونے کی بجائے خلافت کو روم اور ایران کے بادشاہوں کی طرز عمل پر سلطنت میں بدلنے میں مصروف رہے اور بدلا کے دکھا بھی دیا۔ جس کی وجہ سے مسلمان پسماندگی کاشکارہوئے۔۔۔

دوسرا سبب:
حاکمان اسلامی کالہو و لعب میں مصروف ہونا۔
شہید مطہری رح مزید فرماتے ہیں کہ خلفاء اسلامی نے اسلامی مراکز میں احیاء دین کی بجائے عیاشی کے اڈے کھول دیے اور لہو ولعب کا بازار گرم کیا جس کی وجہ سے نہ فقط اخلاقی فسادات سر اٹھانے لگے بلکہ مسلمان شہوات اور تمایلات نفسانی کے دلدل میں گرفتار ہوگئے۔

تیسرا سبب:
سماجی انصاف کا فقدان
معاشرے میں عدل و انصاف نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں میں کمزوریاں پیدا ہوگئی۔ کہ لوگ ظالم حکمران سے متنفر ہوکر انکے دلوں میں حسد، کینہ، اور عداوت جیسی بیماریاں پھوٹ پڑیں۔
آپ فرماتے ہیں کہ: عدالت اجتماعی، اسلام کی تعلیمات کی روشنی میں تمام معنویات کی بنیاد شمار ہوتی ہے۔

چوتھا سبب:
دین اور سیاست میں جدائی
اس نظریہ کی وجہ سے آج مسلمانوں کی حالت بدتر ہورہی ہے اس نظریہ کے خلاف آواز حق امام خمینی رح سے پہلے سید جمال الدین اسد آبادی بلند کیا۔
حق بات تو سید حسن مدرس نے کی اور موصوف کا یہ جملہ زبان زد خاص وعام ہے:
ہماری دیانت عین سیاست اور ہماری سیاست عین دیانت ہے۔

پانچواں سبب
وحدت کا فقدان اور تفرقہ بازی
مسلمانوں کی عقب ماندگی اور پسماندگی کی ایک علت تفرقہ بازی ہے۔
وحدت، اجتماع اور معاشرے کی زندگی ہے۔
پیغمبر اکرم ص فرماتے ہیں:
”مومنین کا ایک دوسرے سے ہمدلی، دوستی اور باھمی روابط، ایک جسم کی مانند ہے”
اس حدیث شریف کی تشریح میں شہید لکھتے ہیں کہ جسم کے ایک عضو کو درد ہو جائے تو اس کا احساس دوسرے اعضاء کو بھی ہوتا ہے۔ لیکن عیاش بادشاہوں نے دوسروں کے دکھ درد کا مرحم بننے کی بجائے ان کے زخموں پر نمک چھرکنے کا کردار ادا کیا جس کی وجہ سے مسلمانوں نے آہستہ آہستہ تعلیمات اسلامی سے عقب نشینی اختیار کی اور پسماندگی کی طرف چلے گئے۔

نتیجہ:
کتاب “انسان و سر نوشت” کے مقدمہ میں آپ مزید لکھتے ہیں کہ کچھ مغربی دانشوروں نے مسلمانوں کی پسماندگی کی وجہ اسلام کو سمجھا ہے لیکن یہ بات واضح ہے اور مزید واضح ہوجائے گی کہ دین اسلام، لمحہ بھر کےلیے بھی پسماندگی کا سبب نہیں بنا ہے بلکہ مسلمان خود تعلیمات اسلامی سے دور ہوگئے ہیں۔ آج کے زمانے میں پیدا ہونے والے انحرافات توحید، نبوت اور امامت میں تحریف کرنے کی وجہ سے ہیں۔ صبر، تقوا اور توکل جیسے کامیابی کے اسباب آج کے زمانے میں مسخ ہوگئے ہیں۔ جب تک مسلمان تعلیمات اسلامی پر عمل پیرا نہیں ہوں گے۔ اور اسلام کا حقیقی چہرہ واپس نہیں لائیں گے تب تک پسماندگی کی دیوار نہیں گر سکتی۔
ترا و جود سراپا تجلی افرنگ
کہ تو وہاں کے عمارت گروں کی ہے تعمیر
مگر یہ پیکر خاکی خودی سے ہے خالی
فقط نیام ہے تو ،زر نگار و بے شمشیر!

منابع:
1۔ کلیات اقبال ،ضرب کلیم ، ص٣٣
2- شہید مطہری، کتاب انسان وسرنوشت، ناشر: صدرا،تہران، چاپ1390
3- شہید مطہری، کتاب، خدمات متقابل اسلام، ص/41، ناشر صدرا
4- https://shaheederabe.com/ur
5- https://www.farsnews.ir

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=33587