24

امام خمینیؒ کی شخصیت سے متاثر ہو کر مختلف ممالک کے باشعور اور حریت پسند مسلمانوں نے انقلاب اسلامی کی حمایت کی اور امام خمینی کی ذات کو اپنے لئے رہبر اور رہنما تصور کیا، علامہ محمد رمضان توقیر

  • News cod : 34967
  • 04 ژوئن 2022 - 12:15
امام خمینیؒ کی شخصیت سے متاثر ہو کر مختلف ممالک کے باشعور اور حریت پسند مسلمانوں نے انقلاب اسلامی کی حمایت کی اور امام خمینی کی ذات کو اپنے لئے رہبر اور رہنما تصور کیا، علامہ محمد رمضان توقیر
رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کی سچی قیادت،اسلام سے والہانہ اور مخلصانہ وابستگی اور خالی دعووں کے بغیر حقیقی عملی جدوجہد کی وجہ سے ایران کے کروڑوں عوام ہزاروں قربانیاں دینے کے باوجود آپ کی قیادت میں متحد رہے ۔ بالآ خر شاہ ایران کو اپنی بادشاہت اور تسلط سمیت ایران سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔ہزاروں سالوں سے مسلط بادشاہت کا نظام اس طرح زمین بوس ہوا کہ آج اس کی مٹی تک نہیں ملتی۔

وفاق ٹائمز کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علما ء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے امام خمینی کی ۳۳برسی کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی فقط ایک اعلیٰ فقیہ،عظیم مجتہد،جید مذہبی رہنما،مرجع تقلید اور مذہبی شخصیت نہیں بلکہ قابل تقلید سیاسی قائد،مثبت اور اعلیٰ تعمیری سیاست کے بانی،عالمی استعمار کی سازشوں کو بے نقاب کرنے والے،مسلمانوں کو اپنے نظریات اور عمل کے ذریعے وحدت کی لڑی میں پرونے والے،عالم اسلام کو انکے حقیقی مسائل کی طرف متوجہ کرنے والے اور دنیا کو اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر میدان میں ارتقاء کے مراحل طے کرنے کی مثال پیش کرنے والے عظیم انسان ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انقلاب اسلامی کی جد و جہد میں امام خمینی نے پندرہ سالہ جلاوطنی کے باوجود اپنے ملک کے عوام کی تربیت اور رہنمائی اس انداز سے کی کہ بالآخر عوام اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

رہبر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کی سچی قیادت،اسلام سے والہانہ اور مخلصانہ وابستگی اور خالی دعووں کے بغیر حقیقی عملی جدوجہد کی وجہ سے ایران کے کروڑوں عوام ہزاروں قربانیاں دینے کے باوجود آپ کی قیادت میں متحد رہے ۔ بالآ خر شاہ ایران کو اپنی بادشاہت اور تسلط سمیت ایران سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔ہزاروں سالوں سے مسلط بادشاہت کا نظام اس طرح زمین بوس ہوا کہ آج اس کی مٹی تک نہیں ملتی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ بعض طبقات اس خدشے کا ظہار کر رہے تھے کہ اما م خمینی ایک دینی عالم ہیں اور علماء کے پاس حکومتیں چلانے،نظام کو بحال رکھنے،امور سلطنت انجام دینے اور دنیا کے ساتھ ساتھ چلنے کا سلیقہ نہیں ہوتا۔ اس لئے انہیں حکومت راس نہیں آئے گی اور بالآخر سابقہ قوتیں دوبارہ ایران کی مالک بن جائیں گی۔لیکن امام خمینی نے داخلی حوالے سے ولایت فقیہ کے نظام کے تحت اور خارجی حوالے سے وحدت امت کے پیغام کے تحت اس انداز میں ایران کی ترقی اور انقلاب کے تحفظ کا آغاز کیا کہ ان کی زندگی میں انقلاب اسلامی ایک مضبوط اور مستحکم انقلاب بن چکا تھا۔

آخر میں علامہ محمد رمضان توقیر نے عالم اسلام کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کی بلاتفریق فرقہ و مسلک ذمہداری بنتی ہے ایرانی اور پاکستانی عوام پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلامی انقلاب کے تسلسل اور اسلامی معاشروں میں امام خمینی کی شخسیت کو ذیادہ سے ذیادہ متعارف کرانے کیلئے کوشیش کریں۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=34967