39

نئے کعبہ کی تعمیر کے منصوبے پر ردعمل

  • News cod : 44597
  • 01 مارس 2023 - 12:36
نئے کعبہ کی تعمیر کے منصوبے پر ردعمل
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کعبہ کی عمارت سے مشابہ مکعب شکل کے ایک بڑے ڈھانچے کی تعمیر کو اس ملک کے عوام بالخصوص سوشل میڈیا کے غم و غصے اور ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ "دی کیوب" نامی اس دیوہیکل عمارت کو حال ہی میں ریاض کے شہری ترقی کے منصوبے کے ایک بڑے حصے کے طور پر منظر عام پر لایا گیا ہے۔

ترتیب و تنظیم: علی واحدی

سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں کعبہ کی عمارت سے مشابہ مکعب شکل کے ایک بڑے ڈھانچے کی تعمیر کو اس ملک کے عوام بالخصوص سوشل میڈیا کے غم و غصے اور ردعمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ “دی کیوب” نامی اس دیوہیکل عمارت کو حال ہی میں ریاض کے شہری ترقی کے منصوبے کے ایک بڑے حصے کے طور پر منظر عام پر لایا گیا ہے۔ اس کی ظاہری شکل اور کعبہ سے مماثلت ایک بڑے تنازعہ کا باعث بنی ہے۔ گذشتہ جمعرات کو سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے نئی المربع ڈویلپمنٹ کمپنی(New Murabba) کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد ریاض کو دنیا کا سب سے بڑا جدید شہری مرکز بنانا ہے۔ اس منصوبے میں ریاض کے تاریخی المربع “اسکوائر” محلے کی دوبارہ ترقی کو ہدف قرار دیا گیا ہے۔ یہ علاقہ مربع شکل کے تاریخی کنویں کے نام پر رکھا گیا ہے۔ یہ کاروباری پراجیکٹ 18.1 مربع کلومیٹر سے زیادہ کے رقبے پر محیط ہے، جو مین ہٹن، نیویارک کا تقریباً ایک تہائی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق نئے اسکوائر میں سبزہ زار، ایک میوزیم، ایک ہوٹل، سیاحتی مقامات، ٹیکنالوجی یونیورسٹی، ایک کثیر المقاصد تھیٹر اور دیگر تفریحی و ثقافتی مقامات شامل ہوں گے۔ نئے اسکوائر کا مرکزی ڈھانچہ ایک بڑی عمارت ہے، جسے “دی کیوب” کہا گیا ہے۔ کیوب، جیسا کہ اس کے نام سے پتہ چلتا ہے، ایک بڑی فلک بوس عمارت ہے، جو مکعب ہے اور ہر سمت میں تقریباً 400 میٹر لمبی ہے۔ کیوب کے اندر ایک خاص ٹاور ہے، جو دنیا کی بلند ترین فلک بوس عمارتوں کا مقابلہ کرے گا۔ کیوب کے تخلیق کار چاہتے ہیں کہ یہ بہت بڑا ڈھانچہ دنیا کا حیران کن منصوبہ ہو۔ جو اپنے محصوص ڈھانچہ کیوجہ سے ایک ایسا مقام ہو، جو پرکشش ہونے کے علاوہ، ورچوئل اور ڈیجیٹل دنیا پر بہت زیادہ توجہ کا باعث بنے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مکعب کی شکل کی یہ عمارت آل سعود خاندان کی آبائی سرزمین “نجدی آرکیٹیکچرل سٹائل” سے متاثر ہے۔

اس بڑے منصوبہ کو بن سلمان کے وژن 2030ء منصوبے کے تحت کنگڈم کے فارن ایکسچینج ریزرو فنڈ یعنی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) سے مالی اعانت فراہم کی جائے گی۔ یہ پیش گوئی کی گئی ہے کہ یہ منصوبہ سعودی عرب کی غیر تیل کی معیشت میں تقریباً 50 بلین ڈالر کا اضافہ کرے گا اور اس سے 334,000 بلاواسطہ اور بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوںگے۔ تاہم، کعبہ کی مقدس عمارت سے مماثلت کی وجہ سے سوشل نیٹ پر بہت سے مسلمانوں نے اس منصوبے کے بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر بیان کئے ہیں۔ ہم اس تحریر میں صرف سعودی صارفین کا ردعمل بیان کر رہے ہیں۔ فیس بک پر ایک صارف جس کا نام محمد الحچیمی الحمدی ہے، انہوں نے کہا ہے کہ “کیا محمد بن سلمان ریاض میں اپنا کعبہ بنا رہے ہیں؟ یعنی تفریح ​​کے لئے ایک نیا “کعبہ”!! اس نے نجد کے علاقے سے ایک دن “شیطان کے سینگ” کے نکلنے کے بارے میں ایک حدیث بھی شئیر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ نجد کے علاقے سے شیطان کا سینگ برآمد ہوگا۔

ایک اور ماہر تعلیم اسد ابو خلیل نے ٹویٹ کیا: “ایسا لگتا ہے کہ (ولی عہد شہزادہ) اپنا خانہ کعبہ بنا رہا ہے۔ کیا وہ اسے نمازیوں کے لیے ایک نیا قبلہ بنائیں گے۔؟” اس کے ساتھ ہی، کچھ لوگوں نے اس ڈھانچے کے علامتی انتخاب پر خصوصی توجہ دی ہے اور اسے آنے والے برسوں میں سعودی عرب کے تشخص کو اسلام سے پاک کرنے کے لیے بن سلمان کی اصلاحات سے جوڑا ہے۔ انٹرسیپٹ رپورٹر مرتضیٰ حسین نے لکھا ہے کہ “صرف سرمایہ داری کے لیے نیا کعبہ بنانا مشکل ساز ہے۔” عالمی رسک اینڈ انٹیلی جنس کمپنی انٹرنیشنل انٹرسٹ کے سی ای او سمیع الحمدی نے یہ نکتہ ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ اس کام کے ساتھ، سعودی حکومت بنیادی طور پر اپنی شناخت کو “مکہ میں خانہ کعبہ” سے “ریاض میں خانہ کعبہ” میں منتقل کرنا چاہتی ہے۔ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ محمد بن سلمان کا 2019ء میں خانہ کعبہ پر کھڑا ہونا اس تحریک کا اشارہ تھا۔

تاہم، کچھ دوسرے سوشل میڈیا صارفین اس بارے مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں اور نئے کیوب پروجیکٹ کی ظاہری شکل کا کعبہ کی عمارت سے موازنہ کرنا غلط سمجھتے ہیں۔ ایک صارف نے سوال کیا، “اگر ہر مکعب شکل کی عمارت “نیا کعبہ” ہے، تو آپ کو ریاض میں لاکھوں کعبہ ملیں گے، کیونکہ ہمارے ہاں مکعب شکل کی بہت زیادہ عمارتیں ہیں۔” ایک اور سعودی شہری نے ان منصوبوں کا مذاق اڑانے والوں پر “سعودی فوبک” ہونے کا الزام لگایا اور ان الزامات کو “احمقانہ” قرار دیا۔ دوسری طرف قدامت پسند اور بدلتے ہوئے سعودی معاشرے میں محمد بن سلمان کی اصلاحات کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان یہ بحثیں مسلسل دکھائی دے رہی ہیں کہ سعودی ولی عہد سعودی عرب کے چہرے کو غیر اسلامی بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔ اس موضوع پر سماجی ماہرین کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے۔

اس دوران بن سلمان نے پیٹرو ڈالر پر انحصار کرتے ہوئے سعودی عرب کی تیز رفتار ترقی کے لیے جو راستہ اختیار کیا ہے، وہ چیلنجوں سے خالی نہیں ہے اور اس کی آخری مثال حالیہ مہینوں میں عالمی میڈیا میں نیوم سٹی کے بارے میں مختلف رپورٹیں ہیں۔ یہ سپر پروجیکٹ بن سلمان کے لئے ڈیڈ اینڈ بن گیا ہے اور اس پراجیکٹ کے رک جانے کے بارے میں بہت زیادہ خبریں سامنے آرہی ہیں۔ یہ شہر، اپنے پہلے سے اعلان کردہ ڈیزائن کی بنیاد پر، مستقبل کی جدید ترین ٹیکنالوجیز پر مبنی ہوگا اور اس میں تیل گیس جیسے فوسلز ایندھن کے بغیر توانائی کی ضروریات پوری کی جائیں گی۔ اس پراجیکٹ میں دی لائن نامی 170 کلومیٹر طویل شہر بھی شامل ہوگا۔ اس پراجیکٹ کو اس وقت 500 بلین ڈالر کی فنڈنگ ​​کے چیلنج کے علاوہ ماحولیات پر پڑنے والے اثرات کا بھی سامنا ہے۔ اس پراجیکٹ کی وجہ سے علاقائی قبائل کی جبری نقل مکانی سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔ بن سلمان اس پراجیکٹ سے کیا مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے، اس پر بھی گرما گرم بحثین جاری ہیں اور ان کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=44597