آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی
اگر چہ امام حسن عسکری (علیہ السلام) ، عباسی حکومت کی محدودیت اور بہت زیادہ کنٹرول کی وجہ سے علم و دانش کو بہت زیادہ منتشر نہیں کرسکے لیکن اس کے باوجود آپ نے ایسے سخت ماحول میں ایسے شاگردوں کی تربیت کی جنہوں نے تعلیمات اسلامی کو بہت زیادہ نشر کیا اور دشمنوں کے اعتراضات اور شبہات کے جواب دئیے ۔
شیخ طوسی نے آپ کے شاگردوں کی تعداد سو سے زیادہ بیان کی ہے (١) ۔ آپ کے یہ شاگرد بہت ہی برجستہ شخصیات کے مالک اور بہترین علمی صلاحیت رکھتے تھے ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں : احمد بن اسحاق اشعرى قمى، ابو هاشم داود بن قاسم جعفرى، عبدالله بن جعفر حميرى، ابو عمرو عثمان بن سعيد عَمْرى، على بن جعفر و محمد بن حسن صفّار.ان کی کوششوں ، خدمتوں اور پُر افتخار زندگی نامہ کو رجال کی کتابوں میں مطالعہ کرسکتے ہیں ۔
ان شاگردوں کی تربیت کے علاوہ کبھی کبھی مسلمانوں کے لئے ایسی مشکلات پیش آتی تھیں جن کو امام حسن عسکری (علیہ السلام) کے علاوہ کوئی اور حل نہیں کرسکتا تھا ، امام علیہ السلام ایسے حالات میں علم امامت کے ذریعہ مشکل سے مشکل مسئلہ کو حل کردیتے تھے ،اس کا ایک نمونہ ہم یہاں پر بیان کرتے ہیں :
حضرت امام حسن عسکری کاعراق کے ایک عظیم فلسفی کوشکست دینا
مورخین کابیان ہے کہ عراق (٢)کے ایک عظیم فلسفی اسحاق کندی کویہ خبط سوارہواکہ قرآن مجیدمیں تناقض ثابت کرے اوریہ بتادے کہ قرآن مجیدکی ایک آیت دوسری آیت سے، اورایک مضمون دوسرے مضمون سے ٹکراتاہے اس نے اس مقصدکی تکمیل کے لیے “”تناقض القرآن”” لکھناشروع کی اوراس درجہ منہمک ہوگیا کہ لوگوں سے ملناجلنا اور کہیں آناجانا سب ترک کردیا حضرت امام حسن عسکر ی علیہ السلام کوجب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اس کے خبط کو دور کرنے کاارادہ فرمایا، آپ کاخیال تھا کہ اس پرکوئی ایسا اعتراض کردیاجائے کہ جس کا وہ جواب نہ دے سے اور مجبورا اپنے ارادہ سے باز آئے ۔
اتفاقا ایک دن آپ کی خدمت میں اس کاایک شاگرد حاضر ہوا، حضرت نے اس سے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسانہیں ہے جو اسحاق کندی کو “”تناقض القرآن”” سے لکھنے سے باز رکھے اس نے عرض کی مولا! میں اس کاشاگردہوں، بھلااس کے سامنے لب کشائی کرسکتا ہوں، آپ نے فرمایاکہ اچھایہ توکرسکتے ہو کہ جومیں کہوں وہ اس تک پہنچادو، اس نے کہا کرسکتا ہوں، حضرت نے فرمایاکہ پہلے تو تم اس سے موانست پیداکرو، اور اس پراعتبارجماؤ جب وہ تم سے مانوس ہوجائے اور تمہاری بات توجہ سے سننے لگے تو اس سے کہنا کہ مجھے ایک شبہ پیدا ہوگیا ہے آپ اس کو دور فرمادیں، جب وہ کہے کہ بیان کرو تو کہنا کہ “”ان اتاک ہذالمتکلم بہذاالقرآن ہل یجوزمرادہ بماتکلم منہ عن المعانی التی قدظننتہا انک ذہبتھا الیہا””
اگر اس کتاب یعنی قرآن کامالک تمہارے پاس اسے لائے تو کیاہوسکتا ہے کہ اس کلام سے جو مطلب اس کا ہو، وہ تمہارے سمجھے ہوئے معانی و مطالب کے خلاف ہو، جب وہ تمہارا یہ اعتراض سنے گا توچونکہ ذہین آدمی ہے فورا کہے گا کہ بے شک ایسا ہوسکتا ہے جب وہ یہ کہے توتم اس سے کہناکہ پھرکتاب “”تناقض القرآن”” لکھنے سے کیافائدہ؟ کیونکہ تم اس کے جومعنی سمجھ کراس پراعتراض کررہے ہو ،ہوسکتاہے کہ وہ خدائی مقصودکے خلاف ہو، ایسی صورت میں تمہاری محنت ضائع اوربرباد ہوجائے گی کیونکہ تناقض توجب ہوسکتاہے کہ تمہارا سمجھاہوا مطلب صحیح اورمقصود خداوندی کے مطابق ہو اورایسا یقینی طورپرنہیں توتناقض کہاں رہا؟ ۔
الغرض وہ شاگرد ،اسحاق کندی کے پاس گیا اوراس نے امام کے بتائے ہوئے اصول پر اس سے مذکورہ سوال کیا اسحاق کندی یہ اعتراض سن کر حیران رہ گیا اورکہنے لگا کہ پھرسوال کودہراؤ اس نے پھراعادہ کیا اسحاق تھوڑی دیرکے لیے محوتفکرہوگیا اورکہنے لگا کہ بے شک اس قسم کااحتمال باعتبار لغت اوربلحاظ فکروتدبرممکن ہے پھراپنے شاگرد کی طرف متوجہ ہواکربولا! میں تمہیں قسم دیتاہوں تم مجھے صحیح صحیح بتاؤ کہ تمہیں یہ اعتراض کس نے بتایاہے اس نے جواب دیا کہ میرے شفیق استاد یہ میرے ہی ذہن کی پیداوارہے اسحاق نے کہاہرگزنہیں ، یہ تمہارے جیسے علم والے کے بس کی چیزنہیں ہے، تم سچ بتاؤ کہ تمہیں کس نے بتایا اوراس اعتراض کی طرف کس نے رہبری کی ہے شاگرد نے کہا کہ سچ تویہ ہے کہ مجھے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایاتھا اورمیں نے انھیں کے بتائے ہوئے اصول پرآپ سے سوال کیاہے اسحاق کندی بولا “”ان جئت بہ “” اب تم نے سچ کہاہے ایسے اعتراضات اورایسی اہم باتیں خاندان رسالت ہی سے برآمدہوسکتی ہیں(٣) “”ثم انہ دعا بالنا رواحرق جمیع ماکان الفہ”” پھراس نے آگ منگائی اورکتاب تناقض القرآن کاسارامسودہ نذرآتش کردیا (٤) ۔(٥) ۔
حوالہ جات: ١۔ رجال، ط 1، نجف، المكتبه الحیدریه، 1381 ه”.ق، ص 427 به بعد.
٢۔ جس فلسفی نے ایسی کتاب لکھی تھی وہ اسحاق کندی کا بیٹا “”یقوب”” تھا ، خود اسحاق نہیں تھا اور محمد لطفی جمعہ کے نقل کرنے کے مطابق “”اسحاق”” ،عباسی تین خلفاء یعنی مہدی، ہادی اور ہارون کے زمانہ میں کوفہ کا حاکم تھا (تاریخ فلاسفہ الاسلام فی المشرق والمغرب، المکتبة العلمیہ ، صفحہ ١) گویا کہ باپ اور بیٹے کے نام میں غلطی ہوئی ہے یا نقل اور نسخہ برداری کے وقت بیٹے کا نام چھوٹ گیا ہے۔
٣۔ “”ان جئت بالحق و ماکان لیخرج مثل ھذا من ذلک البیت”” ۔
٤۔ اس واقعہ کو ابن شہرآشوب نے کتاب “”مناقب”” ، جلد ٤، صفحہ ٤٢٤ میں ابوالقاسم کوفی کی کتاب “”التبدیل”” سے نقل کیا ہے ، بعض معاصر علماء نے اس واقعہ کے صحیح ہونے میں شک وتردید کا اظہار کیا ہے اور لکھا ہے : یہ واقعہ بتاتا ہے کہ کندی ایک غلط فکر میں پڑا ہوا تھا اوراسلام پر اس کا عقیدہ نہیں تھا ، یہ موضوع اکر چہ ممکن ہے لیکن چونکہ صرف ابوالقاسم کوفی کی کتاب میں مرسل کے طور پر(بغیر سندکے) ذکر ہواہے اور ابن شہر آشوب نے بھی اس کو نقل کیا ہے ، لہذا اس تاریخی واقعہ کو ثابت کرنے کے لئے اس پر اکتفاء نہیں کیا جاسکتا (محمد الصدر، تاریخ الغیبة الصغری، صفحہ ١٩٦ ) ۔
لیکن کندی کے افکار کو مدنظر رکھتے ہوئے جو کہ اسلامی فلاسفہ کی تاریخ کی کتابوں میں ذکر ہوئے ہیں، اس واقعہ کے صحیح ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں لگتا جیسا کہ “”حناالفاخوری”” اور “”خلیل الجر”” نے اس کی فلسفی اور فکری بنیادوں کی تحلیل کرتے ہوئے لکھا ہے : … لیکن کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ فلسفہ کی تعلیمات اور قرآن کی آیات میں تناقض نظر آتا ہے اور اسی تناقض کی وجہ سے بہت سے علماء فلسفہ کی مخالفت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔
کندی نے اس مشکل کا حل ، آیات کی تاویل میں پایا ہے وہ کہتا ہے : عربی کلمات کے کچھ حقیقی معنی ہیں اور کچھ مجازی معنی ہیں ۔ اس بناء پر ایک متفکر بعض آیات کے منطوق سے اس کے مجازی معنی کو تاویل کے ذریعہ حاصل کرسکتا ہے … ۔ (تاریخ فلسفه در جهان اسلامى ، ترجمه عبد المحمد آیتى ، تهران، چاپ دوم، كتاب زمان، 1358 ه”.ش، ج2، ص380).۔
٥۔ کتاب: سیره پیشوایان، مهدی پیشوائی، ص 627












