4

رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ‌ای کا رہبر شہید کے چہلم اور تیسری مسلط کردہ جنگ پر اہم پیغام

  • News cod : 64168
  • 09 آوریل 2026 - 16:39
رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ‌ای کا رہبر شہید کے چہلم اور تیسری مسلط کردہ جنگ پر اہم پیغام
حوزہ/ رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی شہادت کے چہلم اور تیسری مسلط کردہ جنگ سے متعلق اہم امور کے حوالے سے رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ‌ای کا پیغام

رہبر معظم انقلاب اسلامی ایران (قدس اللہ نفسہ الزکیہ) کی شہادت کے چہلم اور تیسری مسلط کردہ جنگ سے متعلق اہم امور کے حوالے سے رہبر انقلاب آیت اللہ سید مجتبی حسینی خامنہ‌ای کا پیغام حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

اِنّا فَتَحْنا لَکَ فَتْحاً مُبیناً لِیَغْفِرَ لَکَ اللهُ ما تَقَدَّمَ مِن ذَنبِکَ وَ ما تَأَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَیْکَ وَ یَهْدِیَکَ صِراطاً مُستقیماً وَ یَنصُرَکَ اللهُ نَصْراً عَزیزاً۔

دشمنان اسلام و ایران کے ایک عظیم ترین جرم اور تاریخ کے ایک نہایت سنگین غم کو چالیس دن گزر چکے ہیں؛ یعنی انقلاب اسلامی کے عظیم قائد، ملتِ ایران کے شفیق باپ، امتِ اسلامیہ کے رہبر، عصر حاضر کے حق پسند افراد کے پیشوا، ایران اور محاذِ مقاومت کے سید الشہداء، خامنہ‌ای کبیر قدس اللہ نفسہ الزکیہ کی جانسوز شہادت کا غم۔

چالیس دن ہو گئے ہیں کہ ہمارے شہید رہبر کی عظیم روح، قربِ الٰہی کے جوار میں اولیاء، صدیقین اور شہداء کی ضیافت کی مہمان بن چکی ہے، اور اسی کے ساتھ یا اس کے بعد بے شمار ساتھی، کمانڈر، مجاہدین، اور ہمارے مظلوم ہم وطن، چند روزہ نومولود بچوں سے لے کر بوڑھوں تک، اس عظیم فیض شہادت سے بہرہ مند ہوئے ہیں۔

چالیس شب و روز سے اللہ تعالیٰ نے اس امت کے پیشوا کو اپنے میقات کی طرف بلا لیا ہے؛ لیکن اس بار، برخلاف اس کے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں پیش آیا، ہمارے شہید رہبر کے اصحاب اور ان کی امت حق کے قیام اور باطل کے مقابلے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی، اور وہ سامری اور اس کے بَچھڑے کے مقابلے میں پہاڑوں کی مانند ثابت قدم رہی، اور آگ کے شعلوں کی طرح متجاوزین اور فرعونیوں پر ٹوٹ پڑی۔

چالیس دن اور راتوں سے دنیا کے مستکبرین نے اپنے دھوکے اور جھوٹ کے نقاب اتار دیے ہیں، اور قتل و ظلم، جارحیت و فریب، تکبر و بچوں کے قتل، آمریت و فساد کا اپنا مکروہ اور شیطانی چہرہ کھول کر دکھا دیا ہے۔

لیکن اس کے مقابلے میں، چالیس دن اور راتوں سے امام خمینی کبیر اور فرزندان شہید خامنہ‌ای، اور اسلامِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیروکار، میدانوں، گلیوں اور محاذوں میں بے مثال شجاعت اور سنجیدگی کے ساتھ حاضر ہیں، اور دشمن کے وحشیانہ حملوں سے ہونے والے نقصانات کے باوجود، انہوں نے تیسری مسلط کردہ جنگ کو تیسری دفاعِ مقدس کی حماسی داستان میں بدل دیا ہے۔

ملتِ ایران نے یہ دکھایا کہ وہ اپنے شہید پیشوا کی جدائی کے عظیم غم میں سوگوار ضرور ہے، لیکن وارثین عاشوراء کی براہِ راست پیروی کرتے ہوئے اس غم کو حماسہ اور اس مرثیے کو رجز میں تبدیل کر دیا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس نے مسلح دشمن کو حیرت اور بے بسی میں مبتلا کر دیا، اور دنیا کے آزاد انسانوں کو تحسین پر مجبور کر دیا ہے۔

اس بار مستکبرین کی جہالت اور نادانی نے یہ نتیجہ دیا کہ اسفند ۱۴۰۴، ایران اور انقلاب اسلامی کی نئی قوت و عروج کے ایک نئے دور کا آغاز بن گیا، اور ایرانِ اسلامی کا پرچم نہ صرف ہمارے ملک کی جغرافیائی حدود میں بلکہ دنیا بھر کے حق طلب دلوں کی گہرائیوں میں بھی بلند ہو گیا۔

یہ موقع اس بات کے لیے مناسب ہے کہ اس عظیم الشان رہبر کا مختصر تعارف پیش کیا جائے۔ بات ایک ایسے مرد کی ہو رہی ہے جو جتنا مشہور تھا، اتنا پہچانا نہ جا سکا۔ سب جانتے ہیں کہ ہمارے شہید قائد ایک زمانہ شناس اور بصیر فقیہ، ایک خستگی سے بے نیاز مجاہد، پہاڑ کی مانند مضبوط و استوار، ایک عملی اور ربانی عالم، ذکر، تہجد، گریہ و زاری اور بارگاہِ ربوبی میں تضرع کرنے والے، اور ذواتِ مقدسہ معصومین صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین سے توسل رکھنے والے تھے، اور دل کی گہرائی سے وعدہ ہائے الٰہی پر ایمان رکھتے تھے۔

ان کی ایک اور نمایاں خصوصیت ایران سے محبت اور ایران عزیز کی زیادہ سے زیادہ خودمختاری و استقلال کے لیے مسلسل جدوجہد تھی، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ وحدتِ کلمہ اور قومی انسجام پر بھی زور دیتے تھے۔ انہوں نے اپنی پوری عمر نظامِ اسلامی کے قیام، استحکام اور بقا کے لیے صرف کی، اور ان کے نزدیک اسلامی جمہوریہ عوام کے بغیر بے معنی تھی۔

وہ اقتدار اور صلابت کے باوجود فکر و نظر میں بڑی نزاکت اور لطافت رکھتے تھے۔ وہ ملک کی صلاحیتوں، خصوصاً نوجوانوں پر خاص توجہ دیتے تھے۔ وہ علم، ٹیکنالوجی اور ان کے سائے میں ترقی کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ شہداء کے اہل خانہ، جاں نثاروں اور ایثار کرنے والوں کے لیے ان کے دل میں خاص احترام تھا۔ مختلف میدانوں میں ان کے پاس قیمتی، گہرے اور کئی دہائیوں پر محیط تجربات موجود تھے، اور ان کی دیگر خصوصیات اتنی زیادہ ہیں کہ ان کی فہرست بہت طویل ہو جائے گی۔

ان دنوں بعض ذرائع ابلاغ میں بار بار ان کے فن، فن شناسی اور فن پروری کا ذکر ہو رہا ہے۔ یہ پہلو اگرچہ تنہا بھی کسی شخصیت کے لیے بڑی قدر و قیمت رکھتا ہے، اور بلاشبہ ہمارے عزیز رہبر میں حقیقی اور اعلیٰ درجے میں موجود تھا، لیکن ان کی دیگر صفات اور امتیازات کے مقابلے میں یہ نسبتاً چھوٹا محسوس ہوتا ہے۔ میں ذاتی طور پر ان کے اندر متعدد فنون سے واقف ہوں:

ان کا ایک بڑا فن، جس پر کم توجہ دی جاتی ہے، عوامی افکار، جذبات اور روح اجتماعی کی تعمیر کے ذریعے معاشرے کی تربیت و پرورش تھا۔

ان کا دوسرا فن، مقصد اور دور اندیشی پر مبنی ادارہ سازی تھا، جسے انہوں نے خصوصاً اپنی زعامت و قیادت کے ابتدائی برسوں میں، دور اندیشی کو سامنے رکھ کر انجام دیا۔

ان کا ایک اور بڑا فن، ملک کے فوجی ڈھانچے کو طاقتور بنانا تھا، جس کے مثبت آثار سے ملتِ ایران نے گزشتہ دو مسلط کردہ جنگوں میں بھرپور فائدہ اٹھایا۔

اسی طرح علمی، تزویراتی اور پالیسی سازی کے مختلف میدانوں میں ابداع و اختراع کی قوت بھی ان کی نمایاں خصوصیات میں شامل تھی، جس کی کچھ جھلک نظام کی کلی پالیسیوں کی تدوین میں نمایاں ہے۔

اسی طرح الفاظ اور نئی ترکیبوں کے بروقت استعمال سے معانی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی ان کی ایک خاص خصوصیت تھی، کہ ان کے ایک ایک لفظ اور ترکیب میں معانی کا ایک جہان پوشیدہ ہوتا تھا، اور انہی سے عوامی فکر جنم لیتی تھی۔

اور ان کے ان فنون میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ان کی بلند و بالا روح، شدائد، آزمائشوں اور ابتلاؤں میں مسلسل صیقل پاتی رہی، اور حق کے راستے میں صبر و استقامت کے باعث انہیں دور رس حوادث کی پیش بینی کی صلاحیت حاصل ہو گئی تھی؛ کیونکہ اَلمُؤمِنُ یَنْظُرُ بِنورِ الله۔

اور بھی بہت سے فنون و کمالات تھے جن کا احاطہ اس مختصر تحریر میں ممکن نہیں۔

ان تمام فنون اور امتیازات کا سرچشمہ عنایاتِ خاصۂ الٰہی اور ہمارے آقا و ان کے آباءِ طاہرین صلوات اللہ علیہم اجمعین کی خاص توجہ کے سوا کچھ نہ تھا۔ شاید ان خاص عنایات اور توجہات کو ان کی طرف متوجہ کرنے والی چیز کو، کلمۂ حق کی سربلندی کے لیے ان کی بے وقفہ اور خالصانہ جدوجہد میں خلاصہ کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ایک خاص پہلو یہ بھی ہے کہ شاہی حکومتِ پہلوی کے خائن نظام کے خلاف جدوجہد کی سختیوں کے علاوہ، انہوں نے اپنے فریضے کی ادائیگی کے راستے میں ایک اور خصوصی موقع سے بھی بہت فائدہ اٹھایا، جس سے عام لوگ عموماً بے خبر ہیں۔

تقدیر الٰہی یوں تھی کہ ایک نہایت علم دوست اور عمل کے طالب نوجوان سید، جب ان کے بزرگوار والد بینائی کے خطرے سے دوچار ہوئے، تو انہوں نے قم میں سالہا سال اکابر اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنے کے بعد، اپنی علمی ترقی اور روشن مستقبل کے تمام ظاہری اسباب کو ترک کر دیا، اور فضلِ الٰہی پر اعتماد کرتے ہوئے خود کو اپنے والد کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔

اس ایثار کے بعد فضلِ الٰہی یوں ظاہر ہوا کہ سید علی خامنہ‌ای تیس برس کی عمر سے پہلے ہی خورشید کی مانند خراسان سے طلوع ہوئے، اور بہت جلد فکری و انقلابی جدوجہد کے اہم ستونوں میں شمار ہونے لگے، اور ساتھ ہی متداول علوم میں بھی نمایاں ترقی حاصل کی؛ یہاں تک کہ پچاس کی دہائی میں ساواک انہیں “خراسان کا خمینی” کہا کرتی تھی۔

یہ بات بھی تاکید کے ساتھ کہنی چاہیے کہ ان کی باطنی اور ظاہری ترقی کا یہ سفر بعد کے ادوار میں بھی جاری رہا۔

اگر ہم بزرگوں، اور خصوصاً ایسی شخصیت کے طرزِ عمل سے سبق حاصل کرنا چاہیں، تو بہت مناسب ہے کہ ہم ایک دوسرے کے لیے خالص خیرخواہی اور مواسات کو اپنی روش بنا لیں۔ یہی وہ اہم فرق ہے جو پرچمِ حق کے نیچے کھڑے انسان اور پرچمِ باطل کے گرد جمع ہونے والوں کے درمیان پایا جاتا ہے؛ اور اس کے ساتھ ساتھ رحمتِ واسعۂ الٰہی پر نظر رکھنا بھی ضروری ہے۔

یقیناً ایسی روش کو اپنانا، آسمان کے دروازے کھولنے اور الٰہی و غیبی امدادوں کے نزول کا سبب بنتا ہے؛ چاہے وہ بارانِ رحمت ہو، دشمن پر غلبہ ہو، یا علمی و تکنیکی ترقی۔

ان دنوں بار بار سننے میں آتا ہے کہ ہمارے عزیز عوام کے مختلف طبقات، بجا طور پر اور حسرت کے ساتھ، اس یگانہ دور کو یاد کر رہے ہیں، اور آہستہ آہستہ ان کی درخشاں شخصیت کے مزید پہلو آشکار ہو رہے ہیں۔

اسی طرح ان کے بعض مخصوص افعال کی پیروی کا رجحان بھی آہستہ آہستہ عام ہو رہا ہے۔ مثلاً ہمارے عزیز عوام نے ان کی شہادت کے وقت بندھی ہوئی مٹھی سے بہت سے سبق سیکھے، اور اب یہی بندھی ہوئی مٹھی بعض لوگوں کے لیے عقیدے کی ایک مشترکہ علامت بن گئی ہے۔

اسی طرح ایک بار پھر یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ شہید کا اثر زندہ انسان سے زیادہ ہوتا ہے، اور توحید، حق طلبی، ظلم و فساد کے خلاف جدوجہد کی دعوت میں اس کی بلند آواز، اس کی زندگی کے زمانے سے بھی زیادہ گونج دار اور اس کا پیغام زیادہ نافذ ہوتا ہے۔ اسی طرح اس عظیم الشان شہید کی قلبی آرزو، یعنی اس ملت اور دیگر مسلم اقوام کی سعادت، پہلے سے زیادہ حقیقت کے قریب آ چکی ہے۔

میرے ہم وطن بھائیو اور بہنو!

آج اور تیسری دفاعِ مقدس کی اس حماسی منزل تک، پورے یقین کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ، ملتِ ایران، اس میدان کی قطعی فاتح ہیں۔

آج اسلامی جمہوریہ کے ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرنے کی صبح، اور استکبار کے ضعف و زوال کی ڈھلوان پر اترنے کا منظر، سب کی آنکھوں کے سامنے واضح ہو چکا ہے۔

یہ بلاشبہ ایک نعمتِ الٰہی ہے، جو ہمارے شہید رہبر اور دیگر خون میں نہائے ہوئے شہداء، مظلوم ہم وطنوں، اور مدرسۂ شجرۂ طیبہ میناب کے بکھرے پھولوں کے خون کی برکت سے، اور ملت کے ہر فرد کی بارگاہِ ربوبی میں توسل و تضرع اور میدانوں، محلوں اور مساجد میں مجاہدانہ موجودگی کے نتیجے میں، اور سپاہ، فوج، گمنام سپاہیوں اور سرحدی محافظوں کے بے لوث اور مخلصانہ ایثار و قربانی کے سبب ملتِ ایران کو عطا ہوئی ہے۔

اور یہ نعمت بھی دوسری تمام نعمتوں کی طرح شکر کے لائق ہے تاکہ باقی بھی رہے اور بڑھتی بھی رہے؛ کیونکہ لَئِن شَکَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ۔ اس نعمت کا عملی شکر، ایرانِ قوی تک پہنچنے کے لیے بے وقفہ کوشش ہے۔

اس مرحلے میں، اس شعار اور ہمارے شہید رہبر کے اس تزویراتی ہدف تک پہنچنے کے لیے جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے، وہ عوام کی اسی طرح مسلسل موجودگی ہے جیسی گزشتہ چالیس دنوں میں دیکھی گئی۔ یہی موجودگی، اس عظمت کا ایک اہم رکن ہے جس پر آج مقتدر ایران کھڑا ہے۔

لہٰذا، اگر دشمن کے ساتھ مذاکرات کی نیت کا اعلان بھی کیا جائے، تو یہ ہرگز نہ سمجھا جائے کہ اب گلیوں، میدانوں اور عوامی موجودگی کی ضرورت نہیں رہی۔ بلکہ اگر فرض کیا جائے کہ جنگ کے عسکری مرحلے میں وقتی خاموشی کا دور آ گیا ہو، تب بھی ان تمام عوام کی ذمہ داری، جو میدانوں، محلوں اور مساجد میں حاضر ہو سکتے ہیں، پہلے سے زیادہ سنگین ہو جاتی ہے۔

یقیناً آپ کی میدانوں میں بلند ہونے والی صدائیں، مذاکرات کے نتائج پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

ان شاء اللہ، ان کرداروں کے ایفا اور ان کے تسلسل کے نتیجے میں، ملتِ ایران کے سامنے جو افق کھل رہا ہے، وہ عظمت، عزت، سربلندی اور بے نیازی سے بھرپور ایک شاندار دور کی نوید دیتا ہے۔

ہمارے شہید رہبر جب قیادت کے منصب پر فائز ہوئے، تو نظامِ اسلامی ایک ننھے پودے کی مانند تھا، جس پر اسلام اور ایران کے دشمنوں نے متعدد زخم لگائے تھے، اگرچہ اس نے ان سب کو صبر سے برداشت کیا تھا۔ لیکن جب تقریباً 37 سال بعد انہوں نے امت کی زعامت کی کرسی چھوڑی، تو وہ اپنے پیچھے ایک شجرۂ طیبہ چھوڑ گئے، جس کی جڑیں مضبوط ہو چکی تھیں اور جس کی شاخیں خطے اور دنیا کے اہم حصوں پر سایہ فگن ہو چکی تھیں۔

ایران کو ہر لحاظ سے زیادہ طاقتور بنانے کا راستہ، معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان وحدت سے ہو کر گزرتا ہے، اور یہ وہ چیز تھی جس پر وہ بار بار زور دیتے تھے۔ اس چالیس روزہ مدت میں اس وحدت کا ایک قابلِ ذکر حصہ حقیقت بن گیا:

لوگوں کے دل ایک دوسرے کے قریب ہوئے، مختلف رجحانات رکھنے والے طبقات کے درمیان موجود برف پگھلنے لگی، سب لوگ وطن کے پرچم تلے جمع ہو گئے، اور روز بروز اس اجتماع کی تعداد اور کیفیت دونوں بڑھتی جا رہی ہیں۔ اور بہت سے ایسے لوگ بھی، جو ابھی اس نوعیت کی ظاہری شرکت تک نہیں پہنچے، دل سے ان حاضر اجتماعات کے ساتھ ہیں۔

ان دنوں بہت سے لوگ تمدنی نگاہ کے ساتھ دور رس افقوں کو دیکھ رہے ہیں، اور اپنے لیے ایک ایسی تصویر بنا رہے ہیں جو موہوم نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی حقیقتوں پر مبنی ہے۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک صرف ایک محدود گروہ میں پائی جاتی تھی، اور اس کے سرِفہرست ہمارے شہید رہبر تھے۔

اسی لیے ہر صاحبِ نظر اس ملت کی تیز رفتار اور معجزہ نما ترقی کو محسوس کر رہا ہے، اور بے سبب نہیں کہ ان دنوں زمانے کے نامور فقہا جب آپ سے اس عظیم مقام کے بارے میں گفتگو فرماتے ہیں تو بات بار گریہ ان کے کلام کا راستہ روک لیتا ہے۔

اسی موقع پر میں ایران کے جنوبی ہمسایوں سے کہتا ہوں کہ آپ ایک معجزہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ لہٰذا اسے صحیح دیکھو، صحیح سمجھو، صحیح مقام پر کھڑے ہو جاؤ، اور شیاطین کے جھوٹے وعدوں پر بدگمان رہو۔

ہم اب بھی آپ کی جانب سے ایک مناسب ردِعمل کے منتظر ہیں، تاکہ ہم آپ کے سامنے اپنی برادری اور خیرخواہی ثابت کر سکیں۔ لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک آپ مستکبرین سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں، کیونکہ وہ آپ کو ذلیل کرنے اور آپ کا استحصال کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔

اور سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ باذن اللہ تعالیٰ ہم ان بدکردار متجاوزین کو، جنہوں نے ہمارے ملک پر حملہ کیا، ہرگز نہیں چھوڑیں گے۔ ہم یقیناً اس جنگ میں پہنچنے والے ہر ہر نقصان کا تاوان، ہر شہید کے خون کی قیمت، اور ہر زخمی و جانباز کا حق طلب کریں گے، اور یقیناً آبنائے ہرمز کے انتظام کو ایک نئے مرحلے میں داخل کریں گے۔

ہم نہ جنگ کے طالب تھے اور نہ ہیں، لیکن اپنے مسلمہ حقوق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے، اور اس سلسلے میں ہم پورے محاذِ مقاومت کو ایک وحدت کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اس مرحلے میں، جب تک ہم اپنے حق تک نہ پہنچ جائیں، سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ملت کا ہر فرد ایک دوسرے کا خیال رکھے تاکہ ہر جنگ کے فطری اثرات کے طور پر پیدا ہونے والی کمیوں اور دشواریوں کا دباؤ مختلف طبقات پر کم پڑے۔ البتہ ان کمیوں کو، جو بعض پہلوؤں سے دشمن کے محاذ میں آپ سے کہیں زیادہ ہیں، آپ کے بھائیوں اور بہنوں نے حکومت اور دیگر اداروں میں بڑی حد تک سنبھال لیا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے کانوں کی حفاظت کرنی چاہیے، کیونکہ وہ دماغ اور دل کی کھڑکی ہیں۔ دشمن کے زیرِ سرپرستی یا اس کے ہم نوا میڈیا اور ذرائع ابلاغ کے مقابلے میں یہ احتیاط ضروری ہے۔ یقیناً وہ ذرائع ابلاغ ملت اور ملکِ ایران کے خیرخواہ نہیں ہیں، اور یہ حقیقت بارہا ثابت ہو چکی ہے۔ لہٰذا یا تو ان سے بالکل اجتناب کیا جائے، یا کم از کم ان کی ہر پیش کردہ چیز کو شدید بدگمانی کے ساتھ دیکھا جائے۔

تیسری بات یہ ہے کہ اگرچہ ملتِ عزیز، اپنے عظیم شہید رہبر کی شہادت کے ایامِ سوگ ختم ہونے کے بعد، لباسِ عزا اتار دے گی، لیکن وہ اپنے دل و روح میں ان کے پاک خون اور دوسری و تیسری مسلط کردہ جنگ کے تمام شہداء کے خون کے انتقام کا پختہ عزم ہمیشہ زندہ رکھے گی، اور مسلسل اس کی تکمیل کی منتظر رہے گی۔

آخر میں، میں اپنے آقا حضرت حجت عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی خدمت میں عرض کرتا ہوں کہ:

ہم خداوند متعال پر ایمان، ائمۂ معصومین صلوات اللہ وسلامہ علیہم سے توسل، اور اپنے شہید رہبر کی پیروی کے ساتھ، آپ کے پرچم تلے کفر و استکبار کے محاذ کے مقابلے میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ ہم نے اس راہ میں، ملک کی عزت و استقلال اور اسلام و انقلاب اسلامی کی سربلندی کے لیے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے عظیم شہداء پیش کیے ہیں اور دیگر نقصانات بھی اٹھائے ہیں۔

اب ہم پوری امید اور دل کی گہرائی سے آپ کی خاص دعا کے منتظر ہیں، تاکہ دشمن پر فیصلہ کن غلبہ حاصل ہو، چاہے وہ مذاکرات کا میدان ہو یا جنگ کا محاذ۔ اور ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ بہت جلد، ہم بھی اور ہمارے دشمن بھی، اس دعا کے معجزہ نما اثرات کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

سید مجتبی حسینی خامنہ‌ای

20 فروردین 1405

9 اپریل 2026

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=64168

ٹیگز