قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے 7 ذی الحجہ، امام پنجم حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے یوم شہادت کی مناسبت سے جاری اپنے پیغام میں کہا: امام علیہ السلام کی ایک منفرد فضیلت یہ ہے کہ سلسلہ امامت میں وہ نجیب الطرفین امام ہیں جن کے والد بھی امام، نانا بھی امام، دادا بھی امام اور بیٹا بھی امام ہیں۔اسی طرح وہ واقعہ کربلا کے چشم دید گواہ بھی بنے۔
انہوں نے مزید کہا: کسی امام نے راہ صلح، کسی نے قیام، کسی نے ثورۃ الدموع و راہ دعا، تو کسی نے مسند علم پر بیٹھ کر علوم و فنون کو شگافتہ کرکے “باقر العلوم” کے لقب کو اپنے ساتھ خاص کیا ہے۔ائمہ اہل بیت ؑ کے اعلی و ارفع مشن اور پاکیزہ اہداف و مقاصد میں کوئی فرق نہ تھا بلکہ کاملا یکسوئی پائی جاتی تھی البتہ ان مقاصد کے حصول کے راستے اپنے اپنے دور کے تقاضوں کے لحاظ سے مختلف تھے۔ امام جعفرصادق ؑ کے مطابق “میرے والد ہر وقت ذکر خدا کرتے حتی کہ کوئی چیز انہیں ذکر الہی سے غافل نہ کرتی اور اسی طرح ان کی آواز تمام لوگوں سے اچھی آواز تھی”۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا: پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابی حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری کو فرمایا کہ “تم میرے پانچویں جانشین کا دیدار کرو گے جس کا نام میرے نام پہ ہوگا اور وہ علوم کو شگافتہ کرے گا، اس کو میرا سلام کہنا”۔ اسی طرح حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنے اخلاق و کردار کے ذریعہ اپنی پاکیزہ جد امجد کے حقیقی وارث ہونے کا ثبوت فراہم کیا۔
انہوں نے کہا: انحرافی گروہوں کے خلاف جہد مسلسل اور اپنے اصولوں پر ٹھوس اور دو ٹوک مؤقف امام محمد باقر علیہ السلام کا خاصا تھا چنانچہ اس راستے میں مشکلات و مصائب کی پرواہ کئے بغیر پیغام حق کے ذریعہ علم جہاد بلند کرتے رہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا: تخصصی انداز سے شاگردوں کی تربیت کی سوچ کے بانی کا نام امام محمد باقر علیہ السلام ہے جس کے ذریعہ آپ علیہ السلام نے دین اسلام کی ترویج و اشاعت کا بیڑا اٹھایا اور سینکڑوں کی تعداد میں شاگرد تیار کئے۔ چنانچہ اس دور کے دیگر مذاہب کے بڑے بڑے علماء بھی یہ کہتے دکھائی دیئے کہ “جو بھی محمد باقر ؑ تعلیم دے وہ حق اور صحیح ہے”۔
انہوں نے مزید کہا: ان کا اپنے فرزند اور امام جعفر صادق علیہ السلام کو پندو نصائح تاریخ کا ایک گرانقدر سرمایہ اور خزانہ ہیں۔ ایک موقع پر فرمایا کہ “اے جعفر! خالق کائنات نے ہم اولاد پیغمبر کو علم کے لئے چن لیا ہے۔ یہ علم ہمارے خاندان کی میراث ہے۔ اس علم کو امانت سمجھ کر انسانوں تک پہنچانا صدیوں تک انسان یہ جان لے کہ اس کی خلقت کا سبب کیا ہے؟” آپ کی مسلسل اور پیہم جدوجہد رہتی دنیا تک کی انسانیت کی رشد و ہدایت کا سامان فراہم کرتی رہے گی۔












