ایک مقامی ذریعے نے بتایا کہ ہفتے کی صبح وسطی غزہ کی پٹی میں واقع البریج پناہ گزین کیمپ کے مشرقی حصے میں قابض دشمن کی فوج کی براہِ راست فائرنگ کے نتیجے میں دو شہری گولیوں کا شکار ہو کر زخمی ہو گئے۔
اس سے قبل مقامی ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ شمالی غزہ کی پٹی میں واقع حلاوہ پناہ گزین کیمپ میں قابض اسرائیل کے ایک کواڈ کوپٹر ڈرون سے گرائے گئے بم کے چھرے لگنے سے دو شہری زخمی ہوئے ہیں۔
اسی دوران قابض دشمن کے سفاک توپ خانے نے پٹی کے شمال میں واقع بیت لاہیہ بلدہ کے شمال مشرقی حصوں اور غزہ شہر کے جنوب مشرق میں واقع محلہ الزیتون کے مشرقی علاقوں پر گولہ باری کی۔
قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے ایک بار پھر وحشیانہ غارت گری کرتے ہوئے وسطی غزہ کی پٹی میں واقع النصيرات پناہ گزین کیمپ کے مشرقی علاقے کو فضائی حملے کا نشانہ بنایا۔
قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں سیز فائر (یا جنگ بندی) کے معاہدے کی مسلسل دھجیاں اڑا رہی ہیں، جس کے لیے وہ پناہ گزینوں اور بے گھر ہونے والے مظلوموں کے ٹھکانوں پر فضائی اور توپ خانے سے بمباری کرنے کے ساتھ ساتھ نام نہاد زرد لکیر (یلو لائن) کے اندر بڑے پیمانے پر دھماکوں اور مسماری کی کارروائیاں کر رہی ہیں، جبکہ دوسری طرف سامانِ تجارت، انسانی امداد کی نقل و حمل اور شہریوں کے سفر پر ظالمانہ پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے مروجہ اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ دس اکتوبر سنہ 2025ء کو سیز فائر (یا جنگ بندی) کے آغاز سے اب تک صیہونی سفاکیت کے نتیجے میں جامِ شہادت نوش کرنے والوں کی تعداد 890 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 2677 افراد زخمی ہوئے ہیں اور اس دوران ملبے کے نیچے سے 777 لاشیں نکالی گئی ہیں۔
اسی طرح سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس بدترین صیہونی جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کے آغاز سے لے کر اب تک مجموعی طور پر قریباً 72,783 افراد جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں اور 172,779 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں، جو غزہ کی پٹی پر مسلط اس مسلسل جنگ کے نتیجے میں ہونے والے بھاری اور المناک جانی نقصان کا منہ بولتا ثبوت ہے۔












