غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی مسلسل خونی جارحیت اور نہتے فلسطینیوں کی نسل کشی کے نتیجے میں جانی نقصانات کی مجموعی تعداد میں ایک بار پھر المناک اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد سات اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک شہدا کی تعداد 72,549 اور زخمیوں کی تعداد 172,274 ہو چکی ہے۔ یہ دلدوز اعداد و شمار غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین یومیہ شماریاتی رپورٹ میں سامنے آئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی کے ہسپتالوں میں مزید 8 شہدا کے جسد خاکی لائے گئے، جن میں 7 نئے شہدا اور ایک وہ مظلوم شامل ہے جس کی میت ملبے سے نکالی گئی ہے، جبکہ قابض اسرائیل کی افواج کے وحشیانہ حملوں میں مزید 24 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔
وزارت صحت نے اس لرزہ خیز صورتحال کی نشاندہی کی ہے کہ قابض دشمن کی سفاکیت کا شکار ہونے والے متعدد شہدا اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر پڑے ہوئے ہیں، جبکہ ایمبولینس ٹیموں اور شہری دفاع کے عملے کو مخدوش میدانی حالات اور مسلسل دشمنی کی وجہ سے ان تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ امدادی کارروائیوں میں رکاوٹوں کے باعث یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جانی نقصانات کی اصل تعداد رپورٹ کیے گئے اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
سیز فائر کے بعد 10 اکتوبر سے اب تک کے مخصوص اعداد و شمار کے مطابق شہدا کی مجموعی تعداد 773 ہو گئی ہے جبکہ 2,171 افراد زخمی ہوئے ہیں اور اس دوران ملبے سے 761 شہدا کی میتیں نکالی گئی ہیں۔
رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا ہے کہ مجموعی تعداد میں ان 196 شہدا کا اضافہ بھی کر دیا گیا ہے جن کے کوائف کی تکمیل کے بعد رواں ماہ اپریل کے آغاز سے شہدا کی تصدیق کرنے والی کمیٹی نے انہیں باقاعدہ طور پر سرکاری ریکارڈ کا حصہ بنایا ہے، جو کٹھن حالات اور دستاویزی عمل میں درپیش رکاوٹوں کے باوجود اعداد و شمار کو مرتب کرنے کی مسلسل کوششوں کی عکاسی کرتا ہے۔












