2

خشک سالی قدرتی امر، تحفظ کےلئے منصوبہ بندی ضروری ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی

  • News cod : 18624
  • 16 ژوئن 2021 - 16:40
خشک سالی قدرتی امر، تحفظ کےلئے منصوبہ بندی ضروری ہے، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد نقوی
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہا کہ خشک سالی قدرتی امر البتہ اثرات سے تحفظ کےلئے منصوبہ بندی ضروری ہے، خشک سالی سے تحفظ ، لائحہ عمل بارے قرآن پاک کے سورئہ یوسف سے استفادہ کی ضرورت ہے کہ کیسے اہل مصر کو حضرت یوسف ؑ نے حکمت و تدبراوربہترین حکمت عملی سے ایک عرصہ خشک سالی سے محفوظ رکھا۔

وفاق ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہا کہ خشک سالی قدرتی امر البتہ اثرات سے تحفظ کےلئے منصوبہ بندی ضروری ہے، خشک سالی سے تحفظ ، لائحہ عمل بارے قرآن پاک کے سورئہ یوسف سے استفادہ کی ضرورت ہے کہ کیسے اہل مصر کو حضرت یوسف ؑ نے حکمت و تدبراوربہترین حکمت عملی سے ایک عرصہ خشک سالی سے محفوظ رکھا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے عالمی یوم صحرا ، و خشک سالی (قحط)بارے عالمی آگہی پر اپنے پیغام میں کیا۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ خشک سالی (قحط) دیگر قدرتی عوامل کی طرح ایک قدرتی امر ہے جس سے مفر نہیں البتہ اس کے اثرات سے تحفظ کےلئے دنیا کو جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے کیونکہ خوراک کی عدم دستیابی یا غیر مساویانہ تقسیم جیسے بڑے مسئلے سے پہلے ہی دنیا میں جہاں ناہمواریاں ہیں وہیں اس سے کئی دیگر مسائل بھی جڑے ہیں۔ قحط سے تحفظ سے متعلق قرآن پاک کا سورة یوسف آیت (46 تا 49 )اسی جانب متوجہ کرتاہے جب کہ بادشاہ مصر نے ایک خواب(سات دبلی، سات موٹی گائیں، سات سبز و سات خشک خوشے) دیکھا اور تعبیر کے علم کے ذریعے حضرت یوسف ؑنے خشک سالی بارے آگاہ کرتے ہوئے حکمت و تدبر سے بھرپور لائحہ عمل دیااور انسانی فلاح و بہبود کےلئے حکومت کی رہنمائی کی۔ ان تعلیمات سے استفادہ کی ضرورت ہے کہ کس طرح موجودہ دور میں خشک سالی سے محفوظ رہا جاسکتاہے اور کلامیٹ چینج (موسمیاتی تغیر و تبدل) کے اثرات کے باعث دنیا کو جو ایک بڑا مسئلہ درپیش ہے کیسے نمٹا جاسکتاہے ۔ انہوں نے کلامیٹ چینج کے اثرات میں صحرائی خطوں میں پانی ، زراعت سمیت دیگر شعبوں میں مزید عملی اقدامات پر بھی زور دیا ۔

مختصر لنک : https://wifaqtimes.com/?p=18624